<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:33:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:33:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسام میں شہریوں کی تعداد سے متعلق متنازع فہرست پر مودی مخالفین متحد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084105/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی ریاست آسام میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر بنائے جانے والے قومی رجسٹر برائے شہری (این آر سی) میں 40 لاکھ افراد کو شامل نہ کرنے پر ریاست میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مل کر احتجاج کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسام میں این آر سی کا مسودہ بھارت کی اس شمال مشرقی ریاست کے رہائشیوں کی دہائیوں سے جاری پُر تشدد کوششوں کا نتیجہ ہے، جو پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے شہریوں سے متعلق فہرستیں ترتیب دیں تھیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی سرکار کے خلاف احتجاج شروع کیا اور اس حوالے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کو آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت اپنے ذاتی مفاد کے باعث لاکھو افراد کو بے گھر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083975/"&gt;بھارت: آسام کے 40 لاکھ باشندے بھارتی شہریت سے محروم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ حکمراں جماعت کا یہ عمل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ بھارت میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور ملک میں لوگوں کی بہتری کے لیے یہ تبدیلی 2019 میں ضرور آئے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی مقامی جماعت آل انڈیا ٹری نامول کانگریس کی سربراہی میں 7 جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف بھارتی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’تقسیم کرکے حکومت کرو کی پالیسی کو ختم کرو‘ اور ’بھارتی اپنے ہی ملک میں غیر ملکی کیوں؟‘ کے نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آسام میں مقامی افراد اور پڑوسی ممالک سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان دہائیوں سے کشیدگی برقرار ہے، اسی گشیدگی کی وجہ سے مقامی افراد الزام عائد کرتے ہیں کہ دیگر ممالک سے آنے والے افراد نے مقامی افراد کی زمینوں اور ملازمتوں پر قبضے کر لیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083975/"&gt;بھارت: آسام میں ایک کروڑ 30 لاکھ شہریوں کی رجسٹریشن منسوخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکمراں جماعت کے صدر امیت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وہ واحد پارٹی ہے جس نے غیر قانونی نقل مکانی کے حوالے سے واضح موقف اپنایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والوں کی بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسام میں آین آر سی فہرستوں میں اپنی شہریت دیکھنے کے لیے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہیں، اس امکان کا اظہار کیا جارہا ہے کہ جن افراد کے نام فہرستوں میں موجود نہیں ہیں انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این آر سی کی حتمی فہرستیں رواں برس دسمبر میں جاری کی جائیں گی تاہم انسانی حقوق کے اداروں کو خدشہ ہے کہ کئی افراد سے ان کی شہریت چھن جانے کا خطرہ ہے جن میں زیادہ تر مسلمان شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1004622"&gt;آسام: قبائلی حملوں میں دیہاتی مسلمانوں کی ہلاکتیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی شہر نیویارک میں موجود انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا میناکشی گنگولی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسام اپنی نسلی شناخت کو محفوظ کرنے کے لیے کئی عرصے سے کوششیں کر رہا ہے تاہم کئی لوگوں کو ریاست بدر کرنا اس کا جواب نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آسام میں مسلمانوں سمیت دیگر برادریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن برائے تارکین وطن (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان ولیم اسپلینڈر نے بتایا کہ ان کے ادارے کو رجسٹریشن کے عمل پر خدشات ہیں اور اس کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو این ایچ سی آر نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ایسے افراد جو شہریت حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں، انہیں ملک بدر نہ کیا جائے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی ریاست آسام میں سپریم کورٹ کی ہدایات پر بنائے جانے والے قومی رجسٹر برائے شہری (این آر سی) میں 40 لاکھ افراد کو شامل نہ کرنے پر ریاست میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مل کر احتجاج کیا۔ </p>

<p>آسام میں این آر سی کا مسودہ بھارت کی اس شمال مشرقی ریاست کے رہائشیوں کی دہائیوں سے جاری پُر تشدد کوششوں کا نتیجہ ہے، جو پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے آنے والے تارکینِ وطن کے خلاف تھا۔ </p>

<p>بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے شہریوں سے متعلق فہرستیں ترتیب دیں تھیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی سرکار کے خلاف احتجاج شروع کیا اور اس حوالے سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کو آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ </p>

<p>بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت اپنے ذاتی مفاد کے باعث لاکھو افراد کو بے گھر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083975/">بھارت: آسام کے 40 لاکھ باشندے بھارتی شہریت سے محروم</a></strong></p>

<p>نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ حکمراں جماعت کا یہ عمل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور یہی وجہ ہے کہ بھارت میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور ملک میں لوگوں کی بہتری کے لیے یہ تبدیلی 2019 میں ضرور آئے گی۔</p>

<p>ان کی مقامی جماعت آل انڈیا ٹری نامول کانگریس کی سربراہی میں 7 جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف بھارتی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج بھی کیا۔ </p>

<p>مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’تقسیم کرکے حکومت کرو کی پالیسی کو ختم کرو‘ اور ’بھارتی اپنے ہی ملک میں غیر ملکی کیوں؟‘ کے نعرے درج تھے۔</p>

<p>واضح رہے کہ آسام میں مقامی افراد اور پڑوسی ممالک سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان دہائیوں سے کشیدگی برقرار ہے، اسی گشیدگی کی وجہ سے مقامی افراد الزام عائد کرتے ہیں کہ دیگر ممالک سے آنے والے افراد نے مقامی افراد کی زمینوں اور ملازمتوں پر قبضے کر لیے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083975/">بھارت: آسام میں ایک کروڑ 30 لاکھ شہریوں کی رجسٹریشن منسوخ</a></strong></p>

<p>حکمراں جماعت کے صدر امیت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وہ واحد پارٹی ہے جس نے غیر قانونی نقل مکانی کے حوالے سے واضح موقف اپنایا۔ </p>

<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والوں کی بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ </p>

<p>آسام میں آین آر سی فہرستوں میں اپنی شہریت دیکھنے کے لیے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہیں، اس امکان کا اظہار کیا جارہا ہے کہ جن افراد کے نام فہرستوں میں موجود نہیں ہیں انہیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ </p>

<p>این آر سی کی حتمی فہرستیں رواں برس دسمبر میں جاری کی جائیں گی تاہم انسانی حقوق کے اداروں کو خدشہ ہے کہ کئی افراد سے ان کی شہریت چھن جانے کا خطرہ ہے جن میں زیادہ تر مسلمان شامل ہیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1004622">آسام: قبائلی حملوں میں دیہاتی مسلمانوں کی ہلاکتیں</a></strong></p>

<p>امریکی شہر نیویارک میں موجود انسانی حقوق کی ایک تنظیم کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا میناکشی گنگولی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسام اپنی نسلی شناخت کو محفوظ کرنے کے لیے کئی عرصے سے کوششیں کر رہا ہے تاہم کئی لوگوں کو ریاست بدر کرنا اس کا جواب نہیں۔ </p>

<p>اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آسام میں مسلمانوں سمیت دیگر برادریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ </p>

<p>اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن برائے تارکین وطن (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان ولیم اسپلینڈر نے بتایا کہ ان کے ادارے کو رجسٹریشن کے عمل پر خدشات ہیں اور اس کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ </p>

<p>یو این ایچ سی آر نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ایسے افراد جو شہریت حاصل کرنے میں ناکام ہوجائیں، انہیں ملک بدر نہ کیا جائے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084105</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Aug 2018 14:27:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b6160287feb6.jpg?r=471878043" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b6160287feb6.jpg?r=271799140"/>
        <media:title>مظاہرین مودی سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں — فوٹو، اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
