<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:07:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:07:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوتم بدھ اب ہمیں سوات میں دیکھ سکتے ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084173/</link>
      <description>&lt;h1 id='5b75698dc76d7'&gt;گوتم بدھ اب ہمیں سوات میں دیکھ سکتے ہیں&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864"&gt;امجد علی سحاب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نہ جانے کیوں مجھے جہان آباد پہنچ کر ایک عجیب سے اطمینان کا احساس ہوتا ہے؟ اس کی ایک وجہ شاید شہر کے ہنگاموں سے دور اس مقام کا پُرفضا ہونا ہے اور دوسری وجہ یہاں پتھر پر کندہ شدہ گوتم بدھ کا ایک بڑا مجسم ہے جو تقریباً 13 سے 14 صدیوں پرانی تاریخ کا امین ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منگلور نامی گاؤں ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے شمال کی طرف 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں آج بھی بدھ مت دور کے آثار جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سے ایک ’جہان آباد بدھا‘ بھی ہے جو پتھر میں کندہ کیا گیا اور اس علاقے کا دوسرا بڑا بدھ مجسمہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آثارِ قدیمہ کا بغور مطالعہ کرنے والے فضل خالق اپنی کتاب "The Uddiyana Kingdom: The forgotten holy land of Swat"میں جہاں آباد بدھا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ، ’شخوڑے کے مقام پر مہاتما بدھ کا یہ مجسمہ اس علاقے میں بامیان افغانستان کے بعد چٹان پر تراشا گیا دوسرا بڑا مجسمہ ہے۔ سوات میں شدت پسندوں نے ستمبر 2007ء کو اس مجسمے کے چہرے میں برموں سے سوراخ کیے اور بعد میں اسے بارود سے بھر کر اڑانے کی کوشش کی۔ تاہم وہ مجسمے کے بالائی حصے کو نقصان پہنچانے میں ہی کامیاب ہوسکے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہان آباد بدھا کی تاریخ کے حوالے سے 2 روایات مشہور ہیں۔ فضل خالق کے بقول، ’پہلی روایت کے مطابق اس کی تاریخ چھٹی جبکہ دوسری روایت کے مطابق 7ویں صدی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c74460c7c.jpg"  alt="منگلور گاؤں کا پہاڑی سے نظارہ&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;منگلور گاؤں کا پہاڑی سے نظارہ—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7443dc8e.jpg"  alt="پہاڑی پر موجود بڑے پتھروں پر بدھا کا مجسمہ دکھائی دے رہا ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پہاڑی پر موجود بڑے پتھروں پر بدھا کا مجسمہ دکھائی دے رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c746c1b59.jpg"  alt="افغانستان کے بامیان کے بعد بدھا کا پتھروں میں کندہ کیا گیا اس خطے کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;افغانستان کے بامیان کے بعد بدھا کا پتھروں میں کندہ کیا گیا اس خطے کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c746975dd.jpg"  alt="مجسمے کا چہرہ بارود سے اڑانے کے بعد کا منظر&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مجسمے کا چہرہ بارود سے اڑانے کے بعد کا منظر—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منگلور میں بدھا کو ایک نہایت پُرفضا مقام پر پتھر میں کندہ کیا گیا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لیے چھٹی یا 7ویں صدی میں کوئی 200 سے زیادہ سیڑھیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ بدھا تک پہنچنے کے بعد پہاڑی کا اوپر سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے ایک ایسے مقام پر کندہ کیا گیا ہے جہاں سے دریائے سوات کا دور دور تک نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ رہی سہی کسر وہ چھوٹی سی ندی پورا کرتی ہے، جو سوات کے پُرفضا سیاحتی مقام ’مالم جبہ‘ سے بل کھاتی ہوئی منگلور گاؤں میں سرسبز لہلہاتے کھیتوں کے درمیان راستہ بنا کر دریائے سوات میں جاگرتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجسمہ کو بم سے اُڑانے کے حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات 2 بجے کے قریب انہوں نے چند لوگوں کی آوازیں سنیں، جو موبائل فون کی روشنی میں بدھا کے مجسمے پر کچھ کام کر رہے تھے۔ اس موقعے پر بعض لوگوں کا خیال تھا کہ علاقے میں چور گھس آئے ہیں جبکہ کچھ نے سوچا کہ نوادرات کے اسمگلروں کو قریبی پہاڑی میں کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اس کی کھدائی میں مصروف ہوں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجسمے کے قریب آباد لوگوں کا کہنا ہے کہ جب شدت پسند دوبارہ آئے تو اہلِ علاقہ کو گھروں سے نکلنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ وہ مجسمے کو اُڑانا چاہتے تھے۔ پہلی بار شدت پسند اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے تھے۔ اِس بار انہوں نے مجسمے کے چہرے میں برموں سے کئی سوراخ کیے پھر تقریباً صبح 4 بجے کے قریب زوردار دھماکا ہوا، جس سے بدھ کے چہرے کے بالائی حصے کو نقصان پہنچا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;10 برس بعد اطالوی آثارِ قدیمہ کے مشن نے ڈاکٹر لوکا کی قیادت میں جہان آباد (شخوڑے) کے مقام پر واقع اس مجسمے کو اپنی اصل شکل میں بحال کردیا ہے، جس کی زیارت کے لیے اب مقامی و غیر مقامی لوگ وقتاً فوقتاً آتے ہیں اور اس کے خوبصورت اور مطمئن چہرے کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرکے واپس جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c747740e3.jpg"  alt="بدھا کے مجسمے تک پہچانے والی بدھ مت دور کی باقی ماندہ سیڑھیاں&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بدھا کے مجسمے تک پہچانے والی بدھ مت دور کی باقی ماندہ سیڑھیاں—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c74487b34.jpg"  alt="اٹالین مشن کی ان تھک محنت اور مشقت کے بعد بدھا کا چہرہ اب ایک بار پھر مطمئن نظر آ رہا ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اٹالین مشن کی ان تھک محنت اور مشقت کے بعد بدھا کا چہرہ اب ایک بار پھر مطمئن نظر آ رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7469953d.jpg"  alt="مجسمہ کی مسخ شدہ صورت&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مجسمہ کی مسخ شدہ صورت—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7430a679.jpg"  alt="ایک مقامی سیاح بدھا کے مطمئن چہرے کا نظارہ کر رہا ہے&amp;mdash;امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ایک مقامی سیاح بدھا کے مطمئن چہرے کا نظارہ کر رہا ہے—امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہان آباد بدھا اس بات کی دلیل ہے کہ اُس دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے بقول مجسمے کو پتھر میں کندہ کرتے وقت ریاضی کے اصولوں کو مدِنظر رکھا گیا تھا۔ مجسمے کا رُخ مغرب کی طرف ہے، اس کے سامنے دریائے سوات بل کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فضل خالق اپنی تحقیق کی بنا پر کہتے ہیں، ’تاریخ کی کُتب سے گرد جھاڑیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس مجسمے کے اوپر ’کنگ اندرا بودھی‘ کا تعمیر کردہ ایک اسٹوپا موجود تھا، جس کے آثار اب ختم ہوچکے ہیں۔ مجسمے کے اوپر ایک بڑا ہال ہے جس میں اس دور کے بدھ مت کے پیروکار باقاعدہ طور پر مراقبہ کیا کرتے تھے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کنگ اندرا بودھی سوات کے ایک پرانے بادشاہ گزرے ہیں۔ فضل خالق کے بقول اوڈیگرام میں راجا گیرا (راج گیری) کا قلعہ بھی کسی وقت میں ’کنگ اندرا بودھی‘ کا محل رہ چکا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاریخ سے شغف رکھنے والے کہتے ہیں کہ جہان آباد بدھا اور اس جیسے دیگر مجسمے ایک طرح سے راستوں کی نشان دہی کیا کرتے تھے۔ ان راستوں سے نہ صرف زائرین گزرتے تھے بلکہ تجارتی قافلوں کے لیے بھی یہ ایک طرح سے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرینِ ریاضی مانتے ہیں کہ جہان آباد بدھا کو جیومیٹری کے اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ جب اس مجسمے کا نیچے سے جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ انتہائی خوبصورت نظر آتا ہے، لیکن اگر کسی طرح مجسمے کے چہرے کے لیول تک رسائی حاصل کی جائے تو یہ بہت عجیب لگتا ہے۔ کیونکہ اس کا سر پورے مجسمے کے آدھے حصے کے برابر ہے۔ سر تقریباً 7 فٹ ہے اور باقی جسم 10 یا 11 فٹ۔ تاہم اسے تعمیر کرتے وقت جیومیٹری کے اصولوں کو کچھ اس انداز سے برتا گیا ہے کہ کسی کو گمان تک نہیں گزرتا کہ اس کا سر واقعی اتنا بڑا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ چھٹی اور 7ویں صدی میں بدھ مت کے پیروکاروں نے ریاضی میں کس قدر ترقی کرلی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7459262e.jpg"  alt="بدھ دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بدھ دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7443b3c8.jpg"  alt="چھٹی یا 7ویں صدی کا میٹھے پانی کا چشمہ جو اَب بھی بہہ رہا ہے اور اس کا پانی قابلِ استعمال ہے&amp;mdash;تصویر امجد علی سحاب" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چھٹی یا 7ویں صدی کا میٹھے پانی کا چشمہ جو اَب بھی بہہ رہا ہے اور اس کا پانی قابلِ استعمال ہے—تصویر امجد علی سحاب&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بدھ مت دور (چھٹی، 7ویں صدی) میں اس مجسمے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تعمیر کی جانے والی 200 سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کا چشمہ بھی بہتا تھا۔ اگرچہ سیڑھیاں تو اب بمشکل 20 سے 25 ہی باقی رہ گئی ہیں البتہ چشمہ اب بھی بہہ رہا ہے اور میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں ٹھنڈا جبکہ سردیوں میں گرم پانی فراہم کرتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین اور تبت سے جتنے بھی تاریخی زائرین کا سوات سے گزر ہوا ہے انہوں نے اپنے سفرناموں میں جہان آباد بدھا کا باقاعدہ طور پر ذکر کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5b75698dc76d7'>گوتم بدھ اب ہمیں سوات میں دیکھ سکتے ہیں</h1>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/1864">امجد علی سحاب</a></strong></p>

<p>نہ جانے کیوں مجھے جہان آباد پہنچ کر ایک عجیب سے اطمینان کا احساس ہوتا ہے؟ اس کی ایک وجہ شاید شہر کے ہنگاموں سے دور اس مقام کا پُرفضا ہونا ہے اور دوسری وجہ یہاں پتھر پر کندہ شدہ گوتم بدھ کا ایک بڑا مجسم ہے جو تقریباً 13 سے 14 صدیوں پرانی تاریخ کا امین ہے۔</p>

<p>منگلور نامی گاؤں ضلع سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے شمال کی طرف 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں آج بھی بدھ مت دور کے آثار جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ ان آثار میں سے ایک ’جہان آباد بدھا‘ بھی ہے جو پتھر میں کندہ کیا گیا اور اس علاقے کا دوسرا بڑا بدھ مجسمہ ہے۔</p>

<p>آثارِ قدیمہ کا بغور مطالعہ کرنے والے فضل خالق اپنی کتاب "The Uddiyana Kingdom: The forgotten holy land of Swat"میں جہاں آباد بدھا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ، ’شخوڑے کے مقام پر مہاتما بدھ کا یہ مجسمہ اس علاقے میں بامیان افغانستان کے بعد چٹان پر تراشا گیا دوسرا بڑا مجسمہ ہے۔ سوات میں شدت پسندوں نے ستمبر 2007ء کو اس مجسمے کے چہرے میں برموں سے سوراخ کیے اور بعد میں اسے بارود سے بھر کر اڑانے کی کوشش کی۔ تاہم وہ مجسمے کے بالائی حصے کو نقصان پہنچانے میں ہی کامیاب ہوسکے‘۔</p>

<p>جہان آباد بدھا کی تاریخ کے حوالے سے 2 روایات مشہور ہیں۔ فضل خالق کے بقول، ’پہلی روایت کے مطابق اس کی تاریخ چھٹی جبکہ دوسری روایت کے مطابق 7ویں صدی ہے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c74460c7c.jpg"  alt="منگلور گاؤں کا پہاڑی سے نظارہ&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">منگلور گاؤں کا پہاڑی سے نظارہ—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7443dc8e.jpg"  alt="پہاڑی پر موجود بڑے پتھروں پر بدھا کا مجسمہ دکھائی دے رہا ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پہاڑی پر موجود بڑے پتھروں پر بدھا کا مجسمہ دکھائی دے رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c746c1b59.jpg"  alt="افغانستان کے بامیان کے بعد بدھا کا پتھروں میں کندہ کیا گیا اس خطے کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">افغانستان کے بامیان کے بعد بدھا کا پتھروں میں کندہ کیا گیا اس خطے کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c746975dd.jpg"  alt="مجسمے کا چہرہ بارود سے اڑانے کے بعد کا منظر&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مجسمے کا چہرہ بارود سے اڑانے کے بعد کا منظر—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>منگلور میں بدھا کو ایک نہایت پُرفضا مقام پر پتھر میں کندہ کیا گیا ہے۔ اس مقام پر پہنچنے کے لیے چھٹی یا 7ویں صدی میں کوئی 200 سے زیادہ سیڑھیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ بدھا تک پہنچنے کے بعد پہاڑی کا اوپر سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے ایک ایسے مقام پر کندہ کیا گیا ہے جہاں سے دریائے سوات کا دور دور تک نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ رہی سہی کسر وہ چھوٹی سی ندی پورا کرتی ہے، جو سوات کے پُرفضا سیاحتی مقام ’مالم جبہ‘ سے بل کھاتی ہوئی منگلور گاؤں میں سرسبز لہلہاتے کھیتوں کے درمیان راستہ بنا کر دریائے سوات میں جاگرتی ہے۔ </p>

<p>مجسمہ کو بم سے اُڑانے کے حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات 2 بجے کے قریب انہوں نے چند لوگوں کی آوازیں سنیں، جو موبائل فون کی روشنی میں بدھا کے مجسمے پر کچھ کام کر رہے تھے۔ اس موقعے پر بعض لوگوں کا خیال تھا کہ علاقے میں چور گھس آئے ہیں جبکہ کچھ نے سوچا کہ نوادرات کے اسمگلروں کو قریبی پہاڑی میں کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اس کی کھدائی میں مصروف ہوں گے۔ </p>

<p>مجسمے کے قریب آباد لوگوں کا کہنا ہے کہ جب شدت پسند دوبارہ آئے تو اہلِ علاقہ کو گھروں سے نکلنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ وہ مجسمے کو اُڑانا چاہتے تھے۔ پہلی بار شدت پسند اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے تھے۔ اِس بار انہوں نے مجسمے کے چہرے میں برموں سے کئی سوراخ کیے پھر تقریباً صبح 4 بجے کے قریب زوردار دھماکا ہوا، جس سے بدھ کے چہرے کے بالائی حصے کو نقصان پہنچا۔ </p>

<p>10 برس بعد اطالوی آثارِ قدیمہ کے مشن نے ڈاکٹر لوکا کی قیادت میں جہان آباد (شخوڑے) کے مقام پر واقع اس مجسمے کو اپنی اصل شکل میں بحال کردیا ہے، جس کی زیارت کے لیے اب مقامی و غیر مقامی لوگ وقتاً فوقتاً آتے ہیں اور اس کے خوبصورت اور مطمئن چہرے کو اپنے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرکے واپس جاتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c747740e3.jpg"  alt="بدھا کے مجسمے تک پہچانے والی بدھ مت دور کی باقی ماندہ سیڑھیاں&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بدھا کے مجسمے تک پہچانے والی بدھ مت دور کی باقی ماندہ سیڑھیاں—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c74487b34.jpg"  alt="اٹالین مشن کی ان تھک محنت اور مشقت کے بعد بدھا کا چہرہ اب ایک بار پھر مطمئن نظر آ رہا ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اٹالین مشن کی ان تھک محنت اور مشقت کے بعد بدھا کا چہرہ اب ایک بار پھر مطمئن نظر آ رہا ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7469953d.jpg"  alt="مجسمہ کی مسخ شدہ صورت&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مجسمہ کی مسخ شدہ صورت—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7430a679.jpg"  alt="ایک مقامی سیاح بدھا کے مطمئن چہرے کا نظارہ کر رہا ہے&mdash;امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ایک مقامی سیاح بدھا کے مطمئن چہرے کا نظارہ کر رہا ہے—امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جہان آباد بدھا اس بات کی دلیل ہے کہ اُس دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے بقول مجسمے کو پتھر میں کندہ کرتے وقت ریاضی کے اصولوں کو مدِنظر رکھا گیا تھا۔ مجسمے کا رُخ مغرب کی طرف ہے، اس کے سامنے دریائے سوات بل کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ </p>

<p>فضل خالق اپنی تحقیق کی بنا پر کہتے ہیں، ’تاریخ کی کُتب سے گرد جھاڑیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس مجسمے کے اوپر ’کنگ اندرا بودھی‘ کا تعمیر کردہ ایک اسٹوپا موجود تھا، جس کے آثار اب ختم ہوچکے ہیں۔ مجسمے کے اوپر ایک بڑا ہال ہے جس میں اس دور کے بدھ مت کے پیروکار باقاعدہ طور پر مراقبہ کیا کرتے تھے‘۔</p>

<p>کنگ اندرا بودھی سوات کے ایک پرانے بادشاہ گزرے ہیں۔ فضل خالق کے بقول اوڈیگرام میں راجا گیرا (راج گیری) کا قلعہ بھی کسی وقت میں ’کنگ اندرا بودھی‘ کا محل رہ چکا تھا۔</p>

<p>تاریخ سے شغف رکھنے والے کہتے ہیں کہ جہان آباد بدھا اور اس جیسے دیگر مجسمے ایک طرح سے راستوں کی نشان دہی کیا کرتے تھے۔ ان راستوں سے نہ صرف زائرین گزرتے تھے بلکہ تجارتی قافلوں کے لیے بھی یہ ایک طرح سے سنگِ میل کی حیثیت رکھتے تھے۔</p>

<p>ماہرینِ ریاضی مانتے ہیں کہ جہان آباد بدھا کو جیومیٹری کے اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔ جب اس مجسمے کا نیچے سے جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ انتہائی خوبصورت نظر آتا ہے، لیکن اگر کسی طرح مجسمے کے چہرے کے لیول تک رسائی حاصل کی جائے تو یہ بہت عجیب لگتا ہے۔ کیونکہ اس کا سر پورے مجسمے کے آدھے حصے کے برابر ہے۔ سر تقریباً 7 فٹ ہے اور باقی جسم 10 یا 11 فٹ۔ تاہم اسے تعمیر کرتے وقت جیومیٹری کے اصولوں کو کچھ اس انداز سے برتا گیا ہے کہ کسی کو گمان تک نہیں گزرتا کہ اس کا سر واقعی اتنا بڑا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ چھٹی اور 7ویں صدی میں بدھ مت کے پیروکاروں نے ریاضی میں کس قدر ترقی کرلی تھی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7459262e.jpg"  alt="بدھ دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بدھ دور میں سوات میں علم و تہذیب نے اتنی ترقی کی تھی کہ آرٹ یہاں اپنی انتہا کو چھو رہا تھا—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/08/5b62c7443b3c8.jpg"  alt="چھٹی یا 7ویں صدی کا میٹھے پانی کا چشمہ جو اَب بھی بہہ رہا ہے اور اس کا پانی قابلِ استعمال ہے&mdash;تصویر امجد علی سحاب" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چھٹی یا 7ویں صدی کا میٹھے پانی کا چشمہ جو اَب بھی بہہ رہا ہے اور اس کا پانی قابلِ استعمال ہے—تصویر امجد علی سحاب</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بدھ مت دور (چھٹی، 7ویں صدی) میں اس مجسمے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تعمیر کی جانے والی 200 سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کا چشمہ بھی بہتا تھا۔ اگرچہ سیڑھیاں تو اب بمشکل 20 سے 25 ہی باقی رہ گئی ہیں البتہ چشمہ اب بھی بہہ رہا ہے اور میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ گرمیوں میں ٹھنڈا جبکہ سردیوں میں گرم پانی فراہم کرتا ہے۔ </p>

<p>چین اور تبت سے جتنے بھی تاریخی زائرین کا سوات سے گزر ہوا ہے انہوں نے اپنے سفرناموں میں جہان آباد بدھا کا باقاعدہ طور پر ذکر کیا ہے۔ </p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/urdu/users/1864.jpg?r=1880082112"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			امجد علی سحابؔ روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔</p>

<hr />

<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084173</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Aug 2018 17:09:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b75690484c36.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b75690484c36.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
