<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 04:56:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 04:56:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: کچرا کنڈی کے بعد اسکول سے بھی بیلٹ پیپرز برآمد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084233/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/BRuA0cvefDo?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کے علاقے گزری میں واقع لڑکوں کے ایک سرکاری اسکول سے 25 جولائی کے انتخابات میں استعمال ہونے والے تقریباً 150 بیلٹ پیپر برآمد ہوئے ہیں، جن کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے اکثر ان کے اُمیدوار کے حق میں ڈالے گئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1424631/ballot-papers-found-in-karachi-again"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق زیادہ تر بیلٹ پیپرز پر پی پی پی کے انتخابی نشان تیر پر مہر لگی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی میں بیلٹ پیپرز ملنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل قیوم آباد کے علاقے میں کچرا کنڈی سے بھی مہر زدہ بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے تھے، جنہیں جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083866/"&gt;کراچی: قیوم آباد کچراکنڈی سے بیلٹ پیپرز برآمد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد بدھ سے اسکولوں میں تدریسی عمل کا دوبارہ آغاز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم جمعرات کو جب طلبہ گزری میں قائم گل حسن لاشاری میموریل اسکول پہنچے تو انہیں ایک ڈیسک میں سے مذکورہ بیلٹ پیپرز ملے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد طلبہ نے انہیں اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے حوالے کردیا جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے  یو سی-31 کے چیئرمین کرم اللہ وقاص کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083940/"&gt;الیکشن کمیشن نے کچرے سے بیلٹ پیپرز ملنے کا نوٹس لے لیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ملتے ہیں پی پی پی کے رہنما سعید غنی اور صوبائی حلقے پی ایس-111 سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اسکول پہنچے اور ساری صورتحال کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر سعید غنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسکول سے ملنے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد 154 ہے، جس میں سے 118 بیلٹ پیپرز پر پی پی پی کے انتخابی نشان ’تیر‘ پر مہر لگی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کے چھپائی کے عمل سے لے کر ترسیل تک کے معاملے میں سخت سیکیورٹی تھی اس کے باوجود انتخابات کے بعد 2 جگہ سے بیلٹ پیپر برآمد ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083252/"&gt;سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کی تصاویر میں صداقت نہیں، سیکریٹری الیکشن کمیشن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کی کہ مختلف جگہوں سے انتخابات میں استعمال ہونے والی مہریں اور بیلٹ باکسز کی سیل بھی برآمد ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کا کہنا تھا کہ جب وہ ایک روز قبل اسکول آئے تھے تو یہ بیلٹ پیپر موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں جب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے حکام سے بات کی گئی تو انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/BRuA0cvefDo?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>کراچی کے علاقے گزری میں واقع لڑکوں کے ایک سرکاری اسکول سے 25 جولائی کے انتخابات میں استعمال ہونے والے تقریباً 150 بیلٹ پیپر برآمد ہوئے ہیں، جن کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے اکثر ان کے اُمیدوار کے حق میں ڈالے گئے تھے۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1424631/ballot-papers-found-in-karachi-again">رپورٹ</a></strong> کے مطابق زیادہ تر بیلٹ پیپرز پر پی پی پی کے انتخابی نشان تیر پر مہر لگی ہوئی تھی۔</p>

<p>واضح رہے کہ کراچی میں بیلٹ پیپرز ملنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل قیوم آباد کے علاقے میں کچرا کنڈی سے بھی مہر زدہ بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے تھے، جنہیں جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083866/">کراچی: قیوم آباد کچراکنڈی سے بیلٹ پیپرز برآمد</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے کے بعد بدھ سے اسکولوں میں تدریسی عمل کا دوبارہ آغاز ہوا تھا۔</p>

<p>تاہم جمعرات کو جب طلبہ گزری میں قائم گل حسن لاشاری میموریل اسکول پہنچے تو انہیں ایک ڈیسک میں سے مذکورہ بیلٹ پیپرز ملے۔</p>

<p>جس کے بعد طلبہ نے انہیں اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے حوالے کردیا جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے  یو سی-31 کے چیئرمین کرم اللہ وقاص کو اس معاملے سے آگاہ کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083940/">الیکشن کمیشن نے کچرے سے بیلٹ پیپرز ملنے کا نوٹس لے لیا</a></strong></p>

<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہیں پی پی پی کے رہنما سعید غنی اور صوبائی حلقے پی ایس-111 سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اسکول پہنچے اور ساری صورتحال کا جائزہ لیا۔</p>

<p>اس موقع پر سعید غنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسکول سے ملنے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد 154 ہے، جس میں سے 118 بیلٹ پیپرز پر پی پی پی کے انتخابی نشان ’تیر‘ پر مہر لگی ہوئی تھی۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کے چھپائی کے عمل سے لے کر ترسیل تک کے معاملے میں سخت سیکیورٹی تھی اس کے باوجود انتخابات کے بعد 2 جگہ سے بیلٹ پیپر برآمد ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083252/">سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کی تصاویر میں صداقت نہیں، سیکریٹری الیکشن کمیشن</a></strong></p>

<p>اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کی کہ مختلف جگہوں سے انتخابات میں استعمال ہونے والی مہریں اور بیلٹ باکسز کی سیل بھی برآمد ہوئی ہے۔</p>

<p>تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کا کہنا تھا کہ جب وہ ایک روز قبل اسکول آئے تھے تو یہ بیلٹ پیپر موجود نہیں تھے۔</p>

<p>اس ضمن میں جب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے حکام سے بات کی گئی تو انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084233</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Aug 2018 10:47:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b63e689db1c6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b63e689db1c6.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
