<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:07:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:07:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: جزیرہ لومبوک میں زلزلے سے 91 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084420/</link>
      <description>&lt;p&gt;انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں آنے والے زلزلے سے 91 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 تھی جو 10 کلومیٹر زیر زمین آیا تھا جبکہ 2 درجن جھٹکے محسوس کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67e2bad1063.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو:اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انڈونیشیا کے نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پوروو نگورو کا کہنا تھا کہ زلزے میں 91 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ 209 افراد شدید زخمی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں سے اب تک 358 سیاحوں کو منتقل کیا جاچکا ہے، تاہم ایک مقامی اور ایک غیر ملکی سیاح کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027521"&gt;جب زلزلہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67e2bfe1851.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو:اے  پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:اے  پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل حکام کی جانب سے سونامی کا الرٹ جاری کیا گیا تھا جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے سربراہ دیویکوریتا کارنواتی نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ جزیرے کے قریب 2 گاؤں میں سمندر کا پانی داخل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لومبوک میں آنے والے زلزلے کے جھٹکے دور دراز علاقوں اور شہروں میں بھی محسوس کیے گئے جبکہ صوبہ بندونگ کے شہر جیوانیز میں بھی نقصان پہنچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بالی میں بھی شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کسی نقصان کے حوالے سے اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1048579"&gt;انڈونیشیا: زلزلے کے بعد 84 ہزار افراد بے گھر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل ہی لومبوک میں 6 اعشاریہ 4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس مٰں 17 افراد جاں بحق اور سیکڑوں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زلزلے کے جھٹکے کے بعد سیاحتی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے راستوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونشیا میں ماضی میں زلزلے اور طوفان سے ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر 2016 میں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں آنے والے 6.5 شدت کے زلزلے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زیرِزمین پلیٹس آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں، جس کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2004 میں انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا کے قریب آنے والے ایک زلزلے کے بعد سونامی کی وجہ سے ایک لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں آنے والے زلزلے سے 91 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوگئے اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔</p>

<p>امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 تھی جو 10 کلومیٹر زیر زمین آیا تھا جبکہ 2 درجن جھٹکے محسوس کیے گئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67e2bad1063.jpg"  alt="&mdash;فوٹو:اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انڈونیشیا کے نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پوروو نگورو کا کہنا تھا کہ زلزے میں 91 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ 209 افراد شدید زخمی ہیں۔</p>

<p>مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں سے اب تک 358 سیاحوں کو منتقل کیا جاچکا ہے، تاہم ایک مقامی اور ایک غیر ملکی سیاح کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027521">جب زلزلہ آئے تو کیا کرنا چاہیے؟</a></strong></p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67e2bfe1851.jpg"  alt="&mdash;فوٹو:اے  پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:اے  پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے قبل حکام کی جانب سے سونامی کا الرٹ جاری کیا گیا تھا جسے بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔</p>

<p>محکمہ موسمیات کے سربراہ دیویکوریتا کارنواتی نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ جزیرے کے قریب 2 گاؤں میں سمندر کا پانی داخل ہوگیا ہے۔</p>

<p>لومبوک میں آنے والے زلزلے کے جھٹکے دور دراز علاقوں اور شہروں میں بھی محسوس کیے گئے جبکہ صوبہ بندونگ کے شہر جیوانیز میں بھی نقصان پہنچا۔</p>

<p>بالی میں بھی شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم کسی نقصان کے حوالے سے اطلاع نہیں ملی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1048579">انڈونیشیا: زلزلے کے بعد 84 ہزار افراد بے گھر</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل ہی لومبوک میں 6 اعشاریہ 4 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس مٰں 17 افراد جاں بحق اور سیکڑوں عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔</p>

<p>زلزلے کے جھٹکے کے بعد سیاحتی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے راستوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا تھا۔</p>

<p>انڈونشیا میں ماضی میں زلزلے اور طوفان سے ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔</p>

<p>دسمبر 2016 میں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں آنے والے 6.5 شدت کے زلزلے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>

<p>واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زیرِزمین پلیٹس آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں، جس کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔</p>

<p>2004 میں انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا کے قریب آنے والے ایک زلزلے کے بعد سونامی کی وجہ سے ایک لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084420</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Aug 2018 12:02:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67e4ba54be2.jpg?r=2113842075" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b67e4ba54be2.jpg?r=266476930"/>
        <media:title>—فوٹو:اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
