<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:11:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:11:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کویت کا پاکستان سے ایندھن کا ترسیلی نظام بہتر بنانے کا مطالبہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084433/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: کویت نے پاکستان سے تیل کی تجارت برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی مارکیٹ اور تیل فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے میعار میں اضافہ کر کے ہائی گریڈ گیس آئل یعنی ہائی اسپیڈ ڈیزل میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور کویت پیٹرولیم کمپنی (کے پی سی) کے درمیان معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ضرورت کا نصف تیل کویت سے برآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1425235/kuwait-asks-pakistan-to-upgrade-fuel-supply-network"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس حوالے سے کے پی سی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والا یورو-2 میعار کے ڈیزل میں 500 پی پی ایم (سلفر ذرات فی ملین) ہوتے ہیں جو 2020 سے پی ایس او کو دستیاب نہیں ہوگا، کیوں کہ اس کے بعد کمپنی صاف ایندھن منصوبے کے تحت یورو-5 بنانا شروع کردے گی جس میں 10 پی پی ایم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082444"&gt;سپریم کورٹ کا پی ایس او کے 3 سالہ آڈٹ کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پی ایس او ہر ماہ کویتی کمپنی سے 0.4 سے 0.5 ٹن تک ڈیزل برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان کی ماہانہ ضرورت 0.8 ٹن ہے، جس میں سے تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ٹن پاکستان میں موجود ریفائنریوں سے حاصل ہوتا ہے، اس صورتحال میں پی ایس او نے وزارت پیٹرولیم سے حالات کا جائزہ لینے اور قیمتوں پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی ایس او کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں ڈیزل کی حالیہ قیمت 500 پی پی ایم والے یورو-2 کے اعتبار سے مقرر ہے جسے جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا کیوں کہ 10 پی پی ایم سلفر کا حامل یورو-5 ڈیزل ایک ڈالر فی بیرل تک مہنگا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایندھن کے میعار کو بہتر کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس میں کے پی سی کے میعارات کا بھی ذکر ہے تاہم مقامی ریفائینریوں کو اپ گریڈ کے لیے دی گئی مہلت پر کچھ تحفظات ہیں کیوں کہ اس کام کے لیے علیحدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056592"&gt;گاڑی کے ایندھن کی اوسط بڑھانے کے آسان طریقے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسسلے میں آئل مارکیٹنگ کپنیوں، ریفائنریوں، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری (اوگرا) اور ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سے پیشہ وارانہ مہارت اور تکینیکی مدد کی درخواست کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل جو آئل کمپنیوں کے لیے ایک سربراہی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے، کے مطابق پاکستان کی پیٹرولیم آئل لبریکینٹ (پی او ایل) کی ضرورت، رواں برس اضافے کے بعد 27 ملین ٹن ہونے کا امکان ہے، جو آئندہ 5 سالوں میں 17.5 فیصد اضافے کے بعد 32 ملین ٹن ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: پ&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060167"&gt;ی ایس او نے ایندھن کی فراہمی روک دی، پی آئی اے کی پروازیں منسوخ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں مستقبل قریب میں فی الحال یورو-5 نامی جدید ایندھن کا استعمال ہوتا نظر نہیں آرہا کیوں کہ گاڑیوں کی سالانہ جانچ پڑتال، لازمی قرار دی جانے والی مرمت، دھواں چھوڑتی پبلک ٹرانسپورٹ اور سامان ترسیل کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عموماً پاکستان میں نہیں کی جاتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں زیادہ تر گاڑیاں پرانی اور خستہ حال ہیں جن میں اعلیٰ میعار کا ایندھن استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: کویت نے پاکستان سے تیل کی تجارت برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی مارکیٹ اور تیل فراہم کرنے والے نیٹ ورک کے میعار میں اضافہ کر کے ہائی گریڈ گیس آئل یعنی ہائی اسپیڈ ڈیزل میں تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور کویت پیٹرولیم کمپنی (کے پی سی) کے درمیان معاہدے کے تحت پاکستان اپنی ضرورت کا نصف تیل کویت سے برآمد کرتا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1425235/kuwait-asks-pakistan-to-upgrade-fuel-supply-network">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس حوالے سے کے پی سی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والا یورو-2 میعار کے ڈیزل میں 500 پی پی ایم (سلفر ذرات فی ملین) ہوتے ہیں جو 2020 سے پی ایس او کو دستیاب نہیں ہوگا، کیوں کہ اس کے بعد کمپنی صاف ایندھن منصوبے کے تحت یورو-5 بنانا شروع کردے گی جس میں 10 پی پی ایم ہوتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082444">سپریم کورٹ کا پی ایس او کے 3 سالہ آڈٹ کا حکم</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ پی ایس او ہر ماہ کویتی کمپنی سے 0.4 سے 0.5 ٹن تک ڈیزل برآمد کرتا ہے جبکہ پاکستان کی ماہانہ ضرورت 0.8 ٹن ہے، جس میں سے تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ٹن پاکستان میں موجود ریفائنریوں سے حاصل ہوتا ہے، اس صورتحال میں پی ایس او نے وزارت پیٹرولیم سے حالات کا جائزہ لینے اور قیمتوں پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔</p>

<p>پی ایس او کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں ڈیزل کی حالیہ قیمت 500 پی پی ایم والے یورو-2 کے اعتبار سے مقرر ہے جسے جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا کیوں کہ 10 پی پی ایم سلفر کا حامل یورو-5 ڈیزل ایک ڈالر فی بیرل تک مہنگا ہے۔</p>

<p>اس ضمن میں ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ایندھن کے میعار کو بہتر کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا جاچکا ہے، جس میں کے پی سی کے میعارات کا بھی ذکر ہے تاہم مقامی ریفائینریوں کو اپ گریڈ کے لیے دی گئی مہلت پر کچھ تحفظات ہیں کیوں کہ اس کام کے لیے علیحدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1056592">گاڑی کے ایندھن کی اوسط بڑھانے کے آسان طریقے</a></strong></p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسسلے میں آئل مارکیٹنگ کپنیوں، ریفائنریوں، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری (اوگرا) اور ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سے پیشہ وارانہ مہارت اور تکینیکی مدد کی درخواست کی جاچکی ہے۔</p>

<p>آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل جو آئل کمپنیوں کے لیے ایک سربراہی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے، کے مطابق پاکستان کی پیٹرولیم آئل لبریکینٹ (پی او ایل) کی ضرورت، رواں برس اضافے کے بعد 27 ملین ٹن ہونے کا امکان ہے، جو آئندہ 5 سالوں میں 17.5 فیصد اضافے کے بعد 32 ملین ٹن ہوجائے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: پ<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1060167">ی ایس او نے ایندھن کی فراہمی روک دی، پی آئی اے کی پروازیں منسوخ</a></strong></p>

<p>اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں مستقبل قریب میں فی الحال یورو-5 نامی جدید ایندھن کا استعمال ہوتا نظر نہیں آرہا کیوں کہ گاڑیوں کی سالانہ جانچ پڑتال، لازمی قرار دی جانے والی مرمت، دھواں چھوڑتی پبلک ٹرانسپورٹ اور سامان ترسیل کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی عموماً پاکستان میں نہیں کی جاتی۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں زیادہ تر گاڑیاں پرانی اور خستہ حال ہیں جن میں اعلیٰ میعار کا ایندھن استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084433</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Aug 2018 11:42:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b67d10caa9d3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b67d10caa9d3.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
