<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:54:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 00:54:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان: دہشتگردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 3 اہلکار جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1084780/</link>
      <description>&lt;p&gt;گلگت سے 40 کلومیٹر دور گارگاہ نالہ میں جوت کے مقام پر پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں  3 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) گلگت تنویرالحسن نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ صبح 5 بجے پیش آیا، تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا جس کے بعد دہشت گرد اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایس پی تنویر الحسن کے مطابق واقعے کے وقت پولیس چوکی میں 12 اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے جبکہ حملہ آ وروں کی تعداد 5 سے 6 تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084631"&gt;گلگت بلتستان آردڑ 2018 بحال،حکومت مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے، سپریم کورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ایس پی دیامر محمد اجمل نے بتایا کہ گزشتہ شب چلاس شہر میں ڈپٹی کمشنر دلدار ملک کے رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رہائش گاہ پر گولیاں لگیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  فائرنگ کافی دور سے کی گئی تھی جس کے بعد ملزمان کے خلاف فوری آپریشن کیا گیا مگر حملہ آور فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی قسم کے واقعات میں گلگت کے ہی ایک گاؤں کھنبری  میں تعمیراتی منصوبہ پر کھڑے  بلڈوزر کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b6eb1ea125a7'&gt;گلگت بلتستان کا واقعہ غیر معمولی ہے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں حال ہی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو ہو رہا ہے یہ عمومی صورتحال نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1028145164018216960"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب گلگت بلتستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) گوہر نفیس نے بتایا کہ اسکولوں کو نذرِ آتش کرنے کے معاملے میں مبینہ غفلت برتنے پر 4 پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084633"&gt;وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے نذرآتش اسکول کا بحالی کے بعد افتتاح کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی آئی جی گلگت بلتستان نے مذکورہ واقعے میں ہونے والی پیش رفت سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ معطل کیے جانے والے افسران میں داریل اور تانگیر علاقے کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایچ او) اور ایک 17 گریڈ کے افسر بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1426194/4-police-officers-suspended-over-negligence-in-diamer-school-torching-case"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ 2 افسران کو  اسکول نذر آتش کرنے میں ملوث مطلوبہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی پر بحال کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 24 گھنٹوں میں مذکورہ واقع کے پسِ پردہ ماسٹر مائنڈ کی شناخت کرلی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی آئی جی گوہر نفیس کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں  فورس کمانڈر، چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084237/"&gt;گلگت بلتستان: لڑکیوں کیلئے قائم متعدد اسکول نذر آتش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں پولیس کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ 3 اور 4 اگست کی درمیانی شب گلگت بلتستان میں نامعلوم شرپسندوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قائم 12 اسکولوں کو نذر آتش کردیا تھا، بعدِ ازاں مزید 2 اسکولوں کو جلانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے 4 اگست کو دیامر اور چلاس میں دہشت گردوں کی جانب سے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084535/"&gt;گلگت بلتستان: نذرآتش کیے جانے والے 14 اسکولوں میں سے ایک بحال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ گلگت بلتستان کے علاقے دیامر میں لڑکیوں کے 14 اسکولوں کو نذر آتش کرنے والا مشتبہ دہشت گرد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک اور اہلکار جاں بحق ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے انتظامیہ کو نذرآتش ہونے والے اسکولوں کو 15 روز میں تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اور یکم ستمبر سے تعلیمی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گلگت سے 40 کلومیٹر دور گارگاہ نالہ میں جوت کے مقام پر پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں  3 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔</p>

<p>سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) گلگت تنویرالحسن نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ صبح 5 بجے پیش آیا، تاہم پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا جس کے بعد دہشت گرد اسلحہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔</p>

<p>ایس پی تنویر الحسن کے مطابق واقعے کے وقت پولیس چوکی میں 12 اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے جبکہ حملہ آ وروں کی تعداد 5 سے 6 تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084631">گلگت بلتستان آردڑ 2018 بحال،حکومت مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے، سپریم کورٹ</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب ایس پی دیامر محمد اجمل نے بتایا کہ گزشتہ شب چلاس شہر میں ڈپٹی کمشنر دلدار ملک کے رہائش گاہ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے رہائش گاہ پر گولیاں لگیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ  فائرنگ کافی دور سے کی گئی تھی جس کے بعد ملزمان کے خلاف فوری آپریشن کیا گیا مگر حملہ آور فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p>

<p>اسی قسم کے واقعات میں گلگت کے ہی ایک گاؤں کھنبری  میں تعمیراتی منصوبہ پر کھڑے  بلڈوزر کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔</p>

<h3 id='5b6eb1ea125a7'>گلگت بلتستان کا واقعہ غیر معمولی ہے</h3>

<p>گلگت بلتستان میں حال ہی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں جو ہو رہا ہے یہ عمومی صورتحال نہیں ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1028145164018216960"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>

<p>دوسری جانب گلگت بلتستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) گوہر نفیس نے بتایا کہ اسکولوں کو نذرِ آتش کرنے کے معاملے میں مبینہ غفلت برتنے پر 4 پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084633">وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے نذرآتش اسکول کا بحالی کے بعد افتتاح کردیا</a></strong></p>

<p>ڈی آئی جی گلگت بلتستان نے مذکورہ واقعے میں ہونے والی پیش رفت سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ معطل کیے جانے والے افسران میں داریل اور تانگیر علاقے کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایچ او) اور ایک 17 گریڈ کے افسر بھی شامل ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1426194/4-police-officers-suspended-over-negligence-in-diamer-school-torching-case">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ 2 افسران کو  اسکول نذر آتش کرنے میں ملوث مطلوبہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی پر بحال کردیا جائے گا۔</p>

<p>اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 24 گھنٹوں میں مذکورہ واقع کے پسِ پردہ ماسٹر مائنڈ کی شناخت کرلی جائے گی۔</p>

<p>ڈی آئی جی گوہر نفیس کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں  فورس کمانڈر، چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بھی شرکت کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084237/">گلگت بلتستان: لڑکیوں کیلئے قائم متعدد اسکول نذر آتش</a></strong></p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس میں پولیس کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔</p>

<p>واضح رہے کہ 3 اور 4 اگست کی درمیانی شب گلگت بلتستان میں نامعلوم شرپسندوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قائم 12 اسکولوں کو نذر آتش کردیا تھا، بعدِ ازاں مزید 2 اسکولوں کو جلانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔</p>

<p>چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے 4 اگست کو دیامر اور چلاس میں دہشت گردوں کی جانب سے اسکولوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084535/">گلگت بلتستان: نذرآتش کیے جانے والے 14 اسکولوں میں سے ایک بحال</a></strong></p>

<p>بعد ازاں پولیس کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ گلگت بلتستان کے علاقے دیامر میں لڑکیوں کے 14 اسکولوں کو نذر آتش کرنے والا مشتبہ دہشت گرد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک اور اہلکار جاں بحق ہوا۔</p>

<p>خیال رہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے انتظامیہ کو نذرآتش ہونے والے اسکولوں کو 15 روز میں تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اور یکم ستمبر سے تعلیمی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1084780</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Aug 2018 14:52:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امتیاز تاجویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b6e8a33d7eb1.jpg?r=822704486" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b6e8a33d7eb1.jpg?r=1187089204"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
