<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاناما جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی، چیف جسٹس کی وضاحت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1085105/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاناما پیپرز کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے اس طرح کے ریمارکس میڈیا پر رپورٹ ہوئے تھے کہ پاناما جے آئی ٹی میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں کو چوہدری نثار نے شامل کروایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کو انہوں نے شامل نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085031/"&gt;’پاناما جے آئی ٹی میں خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو چوہدری نثار، نواز شریف نے شامل کروایا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس معاملے پر آج(جمعرات کو) ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے ہی بنائی تھی، ان کے کہنے کا مقصد ڈان لیکس جے آئی ٹی تھا، مجھ سے غلطی ہوگئی ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تصیح کی جائے، لگتا ہے کسی کو مجھ سے زیادہ محبت ہے، دی نیوز نے کیا چھاپا ہے، کہاں ہے دی نیوز کا رپورٹر؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر سپریم کورٹ میں موجود بیٹ رپورٹر نے عدالت کے سامنے کہا کہ وہ اس عمل پر معافی مانگتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر ٹاک شوز بھی ہوگئے، تھپڑ لگا کر معافی مانگنے کا کیا فائدہ، میر ابراہیم کل لاہور عدالت میں پیش ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ میر ابراہیم جیو ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او ) ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنگ اور دی نیوز عدالت کی ایسی رپورٹ کیوں کر رہا ہے، مجبور نہ کریں ہم ان رپوٹرز کی عدالت میں داخلے پر پابندی لگا دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران جنگ کے رپورٹر نے عدالت سے معافی کی استدعا کی، جس کے بعد عدالت نے رپورٹر کی معذرت پر معاملہ نمٹا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2016 میں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف منظرعام پر آنے والے پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے 20 اپریل 2017 کو عبوری فیصلہ سناتے ہوئے اس کی مزید تفتیش کے لیے ریاستی اداروں کے نمائندگان پر مشتمل 6 رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085077/"&gt;پاناما جے آئی ٹی میں فوجی افسران سپریم کورٹ کے فیصلے پر شامل ہوئے، چوہدری نثار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظر میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 28 جولائی 2017 کو حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف 3 علیحدہ علیحدہ ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کیے جس پر متعدد سماعتیں ہوئی، تاہم 6 جون 2018 کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو قید کی سزا سنادی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاناما پیپرز کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی۔</p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے اس طرح کے ریمارکس میڈیا پر رپورٹ ہوئے تھے کہ پاناما جے آئی ٹی میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں کو چوہدری نثار نے شامل کروایا تھا۔</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی میں خفیہ اداروں کے نمائندوں کو انہوں نے شامل نہیں کیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085031/">’پاناما جے آئی ٹی میں خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کو چوہدری نثار، نواز شریف نے شامل کروایا‘</a></strong></p>

<p>تاہم اس معاملے پر آج(جمعرات کو) ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے ہی بنائی تھی، ان کے کہنے کا مقصد ڈان لیکس جے آئی ٹی تھا، مجھ سے غلطی ہوگئی ہوگی۔</p>

<p>چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تصیح کی جائے، لگتا ہے کسی کو مجھ سے زیادہ محبت ہے، دی نیوز نے کیا چھاپا ہے، کہاں ہے دی نیوز کا رپورٹر؟</p>

<p>اس پر سپریم کورٹ میں موجود بیٹ رپورٹر نے عدالت کے سامنے کہا کہ وہ اس عمل پر معافی مانگتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر ٹاک شوز بھی ہوگئے، تھپڑ لگا کر معافی مانگنے کا کیا فائدہ، میر ابراہیم کل لاہور عدالت میں پیش ہوں۔</p>

<p>خیال رہے کہ میر ابراہیم جیو ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او ) ہیں۔</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنگ اور دی نیوز عدالت کی ایسی رپورٹ کیوں کر رہا ہے، مجبور نہ کریں ہم ان رپوٹرز کی عدالت میں داخلے پر پابندی لگا دیں۔</p>

<p>اس دوران جنگ کے رپورٹر نے عدالت سے معافی کی استدعا کی، جس کے بعد عدالت نے رپورٹر کی معذرت پر معاملہ نمٹا دیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ 2016 میں نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف منظرعام پر آنے والے پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے 20 اپریل 2017 کو عبوری فیصلہ سناتے ہوئے اس کی مزید تفتیش کے لیے ریاستی اداروں کے نمائندگان پر مشتمل 6 رکنی جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085077/">پاناما جے آئی ٹی میں فوجی افسران سپریم کورٹ کے فیصلے پر شامل ہوئے، چوہدری نثار</a></strong></p>

<p>مذکورہ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظر میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 28 جولائی 2017 کو حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔</p>

<p>سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف 3 علیحدہ علیحدہ ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔</p>

<p>نیب نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کیے جس پر متعدد سماعتیں ہوئی، تاہم 6 جون 2018 کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو قید کی سزا سنادی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1085105</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Aug 2018 16:01:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b7555d8f11e8.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b7555d8f11e8.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
