<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:52:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:52:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'دیہی آبادی کی شہروں کی جانب منتقلی سے مسائل میں اضافہ'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1085148/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: پاکستان میں رہائشی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے مرتب کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں عوام کی دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقلی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ سیاسی جماعتیں بھی عوام کو چھت فراہم کرنے کے سیاسی وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی کالج لندن کے تحت ایشیئن کولیشن آف ہاؤسنگ رائٹس کے لیے مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ 2 محققین عارف حسن اور حمزہ عارف نے مشترکہ طور پر تیار کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 2.4 فیصد فی برس کے اعتبار سے بڑھ کر 20 کروڑ 77 لاکھ ہوچکی ہے جبکہ شہری آبادی میں 2.7 کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو تقریباً 7 کروڑ 55 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063927"&gt;پاکستان کو بڑھتی آبادی سے کن مسائل کا سامنا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں پہلی مرتبہ فٹ پاتھوں، چوراہوں، کھلے ہوٹلوں، پلوں کے نیچے اور کھُلے آسمان تلے لوگوں کو سوتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت ان افراد کو سر پر چھت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وہ لوگ کچی آبادیوں میں جا کر مقیم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جگہ کی کمی، مہنگائی میں اضافے اور گنجائش نہ ہونے کے باعث شہر کے وسط میں رہائش اختیار کرنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسوائے ٹھیکیداروں کو قرضوں کی فراہمی، اس پر لاگو ٹیکس میں کمی اور کچی آبادی کو ریگولزائز کرنے علاوہ پالیسی کے مطابق بہت کم سفارشات پر عمل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1030116"&gt;سکڑتے وسائل اور برباد ہوتی ماحولیات کا درد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شہروں کی توسیع کے سبب قیمتی زرعی رقبہ سکڑ رہا ہے، جس کے باعث شہری  ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ پانی کے ذخائر میں کمی اور اس میں آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی کچی آبادیوں کے باعث جغرافیائی صورتحال، جنگلات اور پانی کا قدرتی بہاؤ بھی تباہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر سیلاب کی آمد اور درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، خاص کر گنجان آباد علاقے اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اگر اس معاملے پر توجہ نہ دی گئی تو ماحولیات کو مزید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1001729"&gt;زوال پذیر زراعت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھروں کی کمی، غیر قانونی آبادکاری کے خاتمے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بدعنوانی کے مسائل کا نوٹس لیے جانے میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ عدالتوں نے پانی کی قلت اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا نوٹس لے کر اس پر خصوصی ٹریبونیل بھی قائم کیے تاہم عدالتیں اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سول سوسائٹی کی حمایت سے شہری علاقوں میں منتقلی کے خلاف تحریک کا آغاز کر کے اس تشویشناک صورتحال پر سیاسی حکام اور عدالتوں کی توجہ مبذول کروائی جائے تاکہ اس ضمن میں قوانین پر عمل درآمد ہوسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 17 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: پاکستان میں رہائشی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے مرتب کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں عوام کی دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقلی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں۔</p>

<p>حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی منصوبہ بندی دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ سیاسی جماعتیں بھی عوام کو چھت فراہم کرنے کے سیاسی وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔</p>

<p>یونیورسٹی کالج لندن کے تحت ایشیئن کولیشن آف ہاؤسنگ رائٹس کے لیے مذکورہ تحقیقاتی رپورٹ 2 محققین عارف حسن اور حمزہ عارف نے مشترکہ طور پر تیار کی۔</p>

<p>رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 2.4 فیصد فی برس کے اعتبار سے بڑھ کر 20 کروڑ 77 لاکھ ہوچکی ہے جبکہ شہری آبادی میں 2.7 کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو تقریباً 7 کروڑ 55 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063927">پاکستان کو بڑھتی آبادی سے کن مسائل کا سامنا ہے؟</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں خاص طور پر کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں پہلی مرتبہ فٹ پاتھوں، چوراہوں، کھلے ہوٹلوں، پلوں کے نیچے اور کھُلے آسمان تلے لوگوں کو سوتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت ان افراد کو سر پر چھت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وہ لوگ کچی آبادیوں میں جا کر مقیم ہوجاتے ہیں، کیوں کہ جگہ کی کمی، مہنگائی میں اضافے اور گنجائش نہ ہونے کے باعث شہر کے وسط میں رہائش اختیار کرنا مشکل ہے۔</p>

<p>سیاسی جماعتوں کے کھوکھلے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ماسوائے ٹھیکیداروں کو قرضوں کی فراہمی، اس پر لاگو ٹیکس میں کمی اور کچی آبادی کو ریگولزائز کرنے علاوہ پالیسی کے مطابق بہت کم سفارشات پر عمل کیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1030116">سکڑتے وسائل اور برباد ہوتی ماحولیات کا درد</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ شہروں کی توسیع کے سبب قیمتی زرعی رقبہ سکڑ رہا ہے، جس کے باعث شہری  ماحولیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ پانی کے ذخائر میں کمی اور اس میں آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی کچی آبادیوں کے باعث جغرافیائی صورتحال، جنگلات اور پانی کا قدرتی بہاؤ بھی تباہ ہورہا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ان وجوہات کی بنا پر سیلاب کی آمد اور درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے، خاص کر گنجان آباد علاقے اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اگر اس معاملے پر توجہ نہ دی گئی تو ماحولیات کو مزید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1001729">زوال پذیر زراعت</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے کم آمدنی والے طبقے کے لیے گھروں کی کمی، غیر قانونی آبادکاری کے خاتمے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بدعنوانی کے مسائل کا نوٹس لیے جانے میں اضافہ ہوا۔</p>

<p>اس کے علاوہ عدالتوں نے پانی کی قلت اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا نوٹس لے کر اس پر خصوصی ٹریبونیل بھی قائم کیے تاہم عدالتیں اس ضمن میں کوئی موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہیں۔</p>

<p>رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سول سوسائٹی کی حمایت سے شہری علاقوں میں منتقلی کے خلاف تحریک کا آغاز کر کے اس تشویشناک صورتحال پر سیاسی حکام اور عدالتوں کی توجہ مبذول کروائی جائے تاکہ اس ضمن میں قوانین پر عمل درآمد ہوسکے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 17 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1085148</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Aug 2018 10:28:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رمشا جہانگیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b764b249eba9.jpg?r=2011647821" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b764b249eba9.jpg?r=338044687"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
