<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 14:03:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 14:03:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی کے 23 شانگلہ میں 10 ستمبر کو دوبارہ انتخاب کا حکم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1085429/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ میں 10 ستمبر کو دوبارہ انتخاب کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالیہ عام انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شوکت یوسف زئی نے کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم خواتین ووٹرز کے کم ٹرن آؤٹ کے باعث &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084734"&gt;&lt;strong&gt;حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینا ہوتا ہے، جہاں ڈالے گئے کُل ووٹوں میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1052371"&gt;’خواتین کی 10 فیصد لازمی ووٹنگ کی مخالفت‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شوکت یوسف زئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو 'ظالمانہ' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'الیکشن کمیشن کو پورے حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے بجائے چاہیے تھا کہ وہ صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 'شانگلہ کے علاقے میں انتخابات کرانا آسان نہیں، جبکہ حلقے میں دوبارہ انتخاب سے ہمیں نقصان ہوگا۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ 'جن امیدواروں نے 25 جولائی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا وہ ان ہی پارٹی نشانات پر 10 ستمبر کے انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔'&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ میں 10 ستمبر کو دوبارہ انتخاب کا حکم دے دیا۔</p>

<p>حالیہ عام انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے شوکت یوسف زئی نے کامیابی حاصل کی تھی۔</p>

<p>تاہم خواتین ووٹرز کے کم ٹرن آؤٹ کے باعث <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084734"><strong>حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار</strong></a> دیا گیا تھا۔ </p>

<p>الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق الیکشن کمیشن کو اس حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینا ہوتا ہے، جہاں ڈالے گئے کُل ووٹوں میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم ہو۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1052371">’خواتین کی 10 فیصد لازمی ووٹنگ کی مخالفت‘</a></strong></p>

<p>شوکت یوسف زئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو 'ظالمانہ' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'الیکشن کمیشن کو پورے حلقے کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے بجائے چاہیے تھا کہ وہ صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے۔'</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ 'شانگلہ کے علاقے میں انتخابات کرانا آسان نہیں، جبکہ حلقے میں دوبارہ انتخاب سے ہمیں نقصان ہوگا۔'</p>

<p>الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ 'جن امیدواروں نے 25 جولائی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا وہ ان ہی پارٹی نشانات پر 10 ستمبر کے انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔'</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1085429</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Aug 2018 20:10:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر باچاویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b7ad6a0178d0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b7ad6a0178d0.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
