<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:54:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:54:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیف جسٹس نے پی کے ایل آئی کے بورڈ آف گورنر میں شہباز شریف کی شمولیت کا نوٹس لے لیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1085615/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی)  کے بورڈ آف گورنر (بی اوجی) میں  سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف  اور دیگر کی تقرری کا نوٹس لے لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1428756/cjp-takes-notice-of-ex-cm-others-induction-into-pkli-board"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عطا عمر بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں پی کے ایل آئی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور فنڈز میں خورد برد پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر عدالتی کمیشن کے  کوکب جمال زبیری نے انسٹِٹیوٹ کی فارنزک آڈٹ رپورٹ جمع کروائی اور ساتھ ہی ویڈیو بھی پیش کی جس میں عمارت کی خستہ حالی ، گندگی، چھتوں سے ٹپکتا پانی دکھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079735"&gt;سپریم کورٹ کا پی کے ایل آئی میں 20 ارب اخراجات کا فرانزک آڈٹ کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان  کا کہنا تھا کہ ادارے کے فنڈز میں خورد برد اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ دسمبر 2017 میں مکمل ہوجانا تھا لیکن 20 ارب روپے خرچ ہونے کے بعد بھی تاحال پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان  کا مزید کہنا تھاکہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے 12 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ 53 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دورانِ سماعت چیف جسٹس کے علم میں یہ بات آئی کہ پی کے ایل آئی منصوبے کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070687"&gt;نیب کی نواز شریف، شہباز شریف کے خلاف ریفرنس کی منظوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس نے  ریمارکس دیے کہ  پی کے ایل آئی میں اربوں روپوں کی بندر بانٹ کی گئی تمام امور میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، ایسا لگتا ہے سلطان جو کرنا چاہتا تھا اس نے کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ پی کے ایل آئی کے قانون میں دیکھا  گیاہے کہ یہاں کوئی قانون نہیں، حکومت نے اپنے اختیارات نجی کمپنی کو کیسے دے دیے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ عدالت میں انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے سربراہ کی لاکھوں روپے کی اضافی تنخواہ کا معاملہ بھی زیر غورآیا.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071843"&gt;آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف نیب میں طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ شیر دل مجاہد بحیثیت ڈپٹی کمشنر 70ہزار روپے تنخواہ حاصل کررہے تھے اور آئی ڈی اے پی کا چیف ایگزیکٹو افسر بننے کے بعد انہیں ملنے والی تنخواہ یک دم 8 لاکھ 50 ہزارتک جاپہنچی، اس کے علاوہ ان کے بھائی بھی بیوروکریٹ اور سابق حکومت کے منظورِ نظر تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پنجاب (آئی ڈی اےپی) کے چیف ایگزیکٹو افسر مجاہد شیر دل سے استفسار کیا کہ اتنے اعلیٰ عہدے پر تعینات ہونے کے لیے آپ کی قابلیت کیا ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے والد نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری رہے ہیں ، آپ کے والد کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے بھائی کو نوازا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085398"&gt;کرپشن کیسز میں ملوث ہونے کا الزام، شہباز شریف نیب میں پیش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت میں پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ  کے چیئرمین کو  پی کے ایل آئی میں مبینہ مالیاتی بے قاعدگیوں پر تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت مؤخر کردی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی)  کے بورڈ آف گورنر (بی اوجی) میں  سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف  اور دیگر کی تقرری کا نوٹس لے لیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1428756/cjp-takes-notice-of-ex-cm-others-induction-into-pkli-board">رپورٹ</a></strong> کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عطا عمر بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں پی کے ایل آئی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور فنڈز میں خورد برد پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔</p>

<p>اس موقع پر عدالتی کمیشن کے  کوکب جمال زبیری نے انسٹِٹیوٹ کی فارنزک آڈٹ رپورٹ جمع کروائی اور ساتھ ہی ویڈیو بھی پیش کی جس میں عمارت کی خستہ حالی ، گندگی، چھتوں سے ٹپکتا پانی دکھایا گیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079735">سپریم کورٹ کا پی کے ایل آئی میں 20 ارب اخراجات کا فرانزک آڈٹ کا حکم</a></strong></p>

<p>ان  کا کہنا تھا کہ ادارے کے فنڈز میں خورد برد اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ دسمبر 2017 میں مکمل ہوجانا تھا لیکن 20 ارب روپے خرچ ہونے کے بعد بھی تاحال پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا۔</p>

<p>ان  کا مزید کہنا تھاکہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے 12 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ 53 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔</p>

<p>دورانِ سماعت چیف جسٹس کے علم میں یہ بات آئی کہ پی کے ایل آئی منصوبے کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے منظوری بھی نہیں لی گئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070687">نیب کی نواز شریف، شہباز شریف کے خلاف ریفرنس کی منظوری</a></strong></p>

<p>اس پر چیف جسٹس نے  ریمارکس دیے کہ  پی کے ایل آئی میں اربوں روپوں کی بندر بانٹ کی گئی تمام امور میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا، ایسا لگتا ہے سلطان جو کرنا چاہتا تھا اس نے کیا۔</p>

<p>اس موقع پر عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ پی کے ایل آئی کے قانون میں دیکھا  گیاہے کہ یہاں کوئی قانون نہیں، حکومت نے اپنے اختیارات نجی کمپنی کو کیسے دے دیے؟</p>

<p>اس کے ساتھ عدالت میں انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے سربراہ کی لاکھوں روپے کی اضافی تنخواہ کا معاملہ بھی زیر غورآیا.</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071843">آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: شہباز شریف نیب میں طلب</a></strong></p>

<p>اس موقع پر چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ شیر دل مجاہد بحیثیت ڈپٹی کمشنر 70ہزار روپے تنخواہ حاصل کررہے تھے اور آئی ڈی اے پی کا چیف ایگزیکٹو افسر بننے کے بعد انہیں ملنے والی تنخواہ یک دم 8 لاکھ 50 ہزارتک جاپہنچی، اس کے علاوہ ان کے بھائی بھی بیوروکریٹ اور سابق حکومت کے منظورِ نظر تھے۔</p>

<p>چیف جسٹس نے انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پنجاب (آئی ڈی اےپی) کے چیف ایگزیکٹو افسر مجاہد شیر دل سے استفسار کیا کہ اتنے اعلیٰ عہدے پر تعینات ہونے کے لیے آپ کی قابلیت کیا ہے؟</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے والد نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری رہے ہیں ، آپ کے والد کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے بھائی کو نوازا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085398">کرپشن کیسز میں ملوث ہونے کا الزام، شہباز شریف نیب میں پیش</a></strong> </p>

<p>بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت میں پنجاب پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ  کے چیئرمین کو  پی کے ایل آئی میں مبینہ مالیاتی بے قاعدگیوں پر تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت مؤخر کردی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1085615</guid>
      <pubDate>Sun, 02 Dec 2018 13:13:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b811543d83f5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b811543d83f5.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
