<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 16:08:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 16:08:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آصف زرداری، فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1085725/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/UXdNu-dugBs?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے سامنے پیش ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے مسلسل چوتھی مرتبہ طلب کیے جانے پر سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ زونل آفس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے، اس موقع پر پولیس اور ایف آئی اے ٹیم نے عمارت کو حصار میں لیا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زونل آفس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی پیشی کے موقع پر ان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ، روبینہ قائم خانی اور شیری رحمٰن بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085264"&gt;منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے میں پیشی کے موقع پر تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ سے جعلی اکاؤنٹس اور رقم کی ٹرانزیکشن کے حوالے سے سوالات کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں سابق صدر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ کیس سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ جو چاہے سوالات اٹھائے لیکن اصل بات یہ ہے کہ 'حقائق کیا ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے آصف علی زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو دباؤ میں لانے کے لیے اس طرح کے کیسز بنائے گئے ہیں؟ تو سابق صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ بات کس نے کہی ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b8409a987df3'&gt;چیف جسٹس کیس کا نوٹس لیں، قمر الزمان کائرہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی ایف آئی اے میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی )کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ پیشی کے موقع پر آصف علی زرداری سے کوئی سوالات نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیپلز پارٹی رہنما نے واضح کیا کہ پیشی کے حوالے سے جیسی رپورٹنگ ہوئی ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قمر الزمان کاہرہ کا کہنا تھا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور اس کیس میں ملزم نہیں بلکہ گواہوں کی فہرست میں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے معاملے کا ںوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ سابق صدر کو سوالنامہ دیا گیا یا نہیں اور ساتھ ہی پیمرا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے رہنما نے وضاحت کی کہ آج جس کیس میں آصف زرداری پیش ہوئے وہ 2014 اور 2015 کے کیس ہیں، ان کی پارٹی تلخی نہیں بڑھانا چاہتی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b8409a987e44'&gt;سوالات پوچھنے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، پیپلز پارٹی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پیپلزپارٹی نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی پیشی پر ایف آئی اے کی جانب سے سوالات پوچھنے کی تردید کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے پی پی پی نے چیئرمین پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں سے سوالات پوچھے جانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا نہ ہی ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو کوئی سوال دیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بے بنیاد خبروں سے عوام میں غلط تاثر گیا ہے جبکہ کسی کیس کی تحقیقات سے متعلق خبر نشر کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیمرا اس بے بنیاد خبروں کا نوٹس لے کر متعلقہ چینلز کے خلاف کارروائی کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5b8409a987e8a'&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو معروف بینکر حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آئے تھے جن کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085161/"&gt;منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کے ’ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری' جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں کراچی کی بینکنگ کورٹس نے ایف آئی اے سے عدم تعاون پر سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد آصف زرداری اسلام آباد ہائیکورٹ چلے گئے تھے، جہاں عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/UXdNu-dugBs?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p><strong>پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کے سامنے پیش ہوگئے۔</strong></p>

<p>جعلی اکاؤنٹس کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے مسلسل چوتھی مرتبہ طلب کیے جانے پر سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ زونل آفس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے، اس موقع پر پولیس اور ایف آئی اے ٹیم نے عمارت کو حصار میں لیا ہوا تھا۔</p>

<p>زونل آفس میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی پیشی کے موقع پر ان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، قمر زمان کائرہ، روبینہ قائم خانی اور شیری رحمٰن بھی موجود تھیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085264">منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کی حفاظتی ضمانت منظور</a></strong></p>

<p>ایف آئی اے میں پیشی کے موقع پر تحقیقاتی ٹیم نے سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ سے جعلی اکاؤنٹس اور رقم کی ٹرانزیکشن کے حوالے سے سوالات کیے۔</p>

<p>بعد ازاں سابق صدر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ کیس سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں بنایا گیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ جو چاہے سوالات اٹھائے لیکن اصل بات یہ ہے کہ 'حقائق کیا ہیں'۔</p>

<p>اس موقع پر ایک صحافی کی جانب سے آصف علی زرداری سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو دباؤ میں لانے کے لیے اس طرح کے کیسز بنائے گئے ہیں؟ تو سابق صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ بات کس نے کہی ہے؟</p>

<h3 id='5b8409a987df3'>چیف جسٹس کیس کا نوٹس لیں، قمر الزمان کائرہ</h3>

<p>سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی ایف آئی اے میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی )کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ پیشی کے موقع پر آصف علی زرداری سے کوئی سوالات نہیں کیے گئے۔</p>

<p>پیپلز پارٹی رہنما نے واضح کیا کہ پیشی کے حوالے سے جیسی رپورٹنگ ہوئی ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔</p>

<p>قمر الزمان کاہرہ کا کہنا تھا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور اس کیس میں ملزم نہیں بلکہ گواہوں کی فہرست میں ہیں۔</p>

<p>انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے معاملے کا ںوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو بھی اس کی وضاحت کرنی چاہیے کہ سابق صدر کو سوالنامہ دیا گیا یا نہیں اور ساتھ ہی پیمرا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔</p>

<p>پیپلز پارٹی کے رہنما نے وضاحت کی کہ آج جس کیس میں آصف زرداری پیش ہوئے وہ 2014 اور 2015 کے کیس ہیں، ان کی پارٹی تلخی نہیں بڑھانا چاہتی۔</p>

<h3 id='5b8409a987e44'>سوالات پوچھنے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، پیپلز پارٹی</h3>

<p>دوسری جانب پیپلزپارٹی نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی پیشی پر ایف آئی اے کی جانب سے سوالات پوچھنے کی تردید کردی۔</p>

<p>اس حوالے سے پی پی پی نے چیئرمین پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو بھی خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں سے سوالات پوچھے جانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔</p>

<p>پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا نہ ہی ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک کو کوئی سوال دیے گئے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بے بنیاد خبروں سے عوام میں غلط تاثر گیا ہے جبکہ کسی کیس کی تحقیقات سے متعلق خبر نشر کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیمرا اس بے بنیاد خبروں کا نوٹس لے کر متعلقہ چینلز کے خلاف کارروائی کرے۔</p>

<h3 id='5b8409a987e8a'>جعلی اکاؤنٹس کیس</h3>

<p>واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے 6 جولائی کو معروف بینکر حسین لوائی سمیت 3 اہم بینکرز کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست میں لیا گیا تھا۔</p>

<p>حسین لوائی اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر میں اہم انکشاف سامنے آئے تھے جن کے مطابق اس کیس میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے نام شامل تھے۔</p>

<p>ایف آئی آر کے مندرجات میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا ذکر بھی تھا، اس کے علاوہ یہ بھی ذکر تھا کہ زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔</p>

<p>ایف آئی آر کے متن میں منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں اور افراد کو سمن جاری کیا گیا جبکہ فائدہ اٹھانے والے افراد اور کمپنیوں سے وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔</p>

<p>ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا تھا کہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ 6 مارچ 2014 سے 12 جنوری 2015 تک کی گئی جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور بھی قرار دیا گیا تھا۔</p>

<p>جس کے بعد جعلی اکاؤنٹس کیس اور 35 ارب روپے کی فرضی لین دین سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085161/">منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کے ’ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری' جاری</a></strong></p>

<p>تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں رہنما منی لانڈرنگ کیس میں ملزم ہیں، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں کراچی کی بینکنگ کورٹس نے ایف آئی اے سے عدم تعاون پر سابق صدر آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔</p>

<p>اس کے بعد آصف زرداری اسلام آباد ہائیکورٹ چلے گئے تھے، جہاں عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1085725</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Aug 2018 19:24:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شکیل قرارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/08/5b83b47bc816a.jpg?r=2078822503" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/08/5b83b47bc816a.jpg?r=235414936"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
