<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:17:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:17:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیکس میں چھوٹ سے خزانےکو پہنچنے والا نقصان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086254/</link>
      <description>&lt;p&gt;اپنے دیگر ہم عصر ترقی پذیر ممالک کی طرح حکومتِ پاکستان کی مالیات کا ایک بڑا حصہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی  پر مشتمل ہے لیکن دیگر معیشتوں کے مقابلے میں ملک کی مجموعی پیداواری کا تناسب ٹیکس وصولی نہایت کم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان میں شائع ہونے والے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1430644/tax-exemptions-chip-away-at-the-exchequer"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس کی وجوہات میں ٹیکس اخراجات جو ٹیکس کوڈ میں اہم خصوصیت رکھتے ہیں، جیسا کہ ٹیکس چھوٹ، خصوصی اسکیمیں، کم شرح اورٹیکس قوانین کے بین الاقوامی میعار سے دیگر انحرافات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان اخراجات کی وجہ سے مالی سال 18-2017 کے دوران ریونیو میں  5 سو41 ارب روپے  کا نقصان ہوا جو وفاقی ٹیکس وصولی کا 14 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086117/"&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں ٹیکس آمدن میں 13.6 فیصد اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ اور معیشت پر پڑنے والے اس کے اثرات سے اور اسے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ملک میں غیر متوقع مجموعی آمدن پر لاگو ٹیکس کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ زائد آمدنی والے افراد پر ٹیکس  غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے آمدنی کی تقسیم  بھی غیر متوازن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمدنی کے بڑے ذریعے کی حیثیت سے بلاواسطہ ٹیکس  پر حد سے زیادہ انحصار جو مجموعی وصولی کا 62 فیصد ہے، کے باعث نظام کو نہ ہی سب کے لیے یکساں اور نہ ہی منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085939"&gt;ایف بی آر کو کرپٹ ٹیکس افسران کےخلاف انکوائری مکمل کرنے کیلئے 3 ماہ کی مہلت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ٹیکس وصولی میں بہت بڑا خلا اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینے کی شرح انتہائی کم ہونے کے باعث براہِ راست وصولی  کی مد میں ایک بہت بڑا حصہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے باعث متوقع ٹیکس ا ورحاصل ہونے والے ٹیکس میں نہایت فرق ہوتا ہے، یہ بات بھی جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ حکومتی ٹیکس اصل میں بلاواسطہ ٹیکس کی ہی ایک قسم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کی وجہ سے بلاواسطہ حاصل ہونے والے ٹیکس کی وصولی  کا  اصل مجموعہ 62 فیصد  کی سرکاری شرح کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086119/"&gt;حکومت نے 2 ماہ میں 77 ارب روپے قرضہ لیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر اسٹینڈرڈ ٹیکس پالیسی جو اچھی طرزِ حکمرانی کی اہم خاصیت سمجھی جاتی  ہے، میں ٹیکس کی معافی، رعایت اور دیگر منحرفات سے مالیاتی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لیے مالی شفافیت قائم کرنے کے لیے حکومتی ڈھانچے اور معاملات ، پالیسی ارادے، پبلک سیکٹر اکاؤنٹس اور تخمینوں تک  عوام کی رسائی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ بجٹ  میں  ٹیکس اخراجات شامل کرنا بھی شفافیت کے لیے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ حکومت سال 07-2006 سے  ہر سال پیش کیے جانے والے معاشی سروے میں  صرف تخمینہ  شائع کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ٹیکس اخراجات کے حوالے سے مالیاتی پالیسی آبادی کے مختلف گروہوں کی آمدنی اور  بہتر رہن سہن  پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ ٹیکس اخراجات بظاہر ذرائع آمدنی میں غیر یکسانیت کی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اپنے دیگر ہم عصر ترقی پذیر ممالک کی طرح حکومتِ پاکستان کی مالیات کا ایک بڑا حصہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی  پر مشتمل ہے لیکن دیگر معیشتوں کے مقابلے میں ملک کی مجموعی پیداواری کا تناسب ٹیکس وصولی نہایت کم ہے۔</p>

<p>ڈان میں شائع ہونے والے <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1430644/tax-exemptions-chip-away-at-the-exchequer">مضمون</a></strong> کے مطابق اس کی وجوہات میں ٹیکس اخراجات جو ٹیکس کوڈ میں اہم خصوصیت رکھتے ہیں، جیسا کہ ٹیکس چھوٹ، خصوصی اسکیمیں، کم شرح اورٹیکس قوانین کے بین الاقوامی میعار سے دیگر انحرافات شامل ہیں۔</p>

<p>ان اخراجات کی وجہ سے مالی سال 18-2017 کے دوران ریونیو میں  5 سو41 ارب روپے  کا نقصان ہوا جو وفاقی ٹیکس وصولی کا 14 فیصد ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086117/">رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں ٹیکس آمدن میں 13.6 فیصد اضافہ</a></strong></p>

<p>اس سے ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ اور معیشت پر پڑنے والے اس کے اثرات سے اور اسے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ ملک میں غیر متوقع مجموعی آمدن پر لاگو ٹیکس کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ زائد آمدنی والے افراد پر ٹیکس  غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے آمدنی کی تقسیم  بھی غیر متوازن ہے۔</p>

<p>آمدنی کے بڑے ذریعے کی حیثیت سے بلاواسطہ ٹیکس  پر حد سے زیادہ انحصار جو مجموعی وصولی کا 62 فیصد ہے، کے باعث نظام کو نہ ہی سب کے لیے یکساں اور نہ ہی منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085939">ایف بی آر کو کرپٹ ٹیکس افسران کےخلاف انکوائری مکمل کرنے کیلئے 3 ماہ کی مہلت</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب ٹیکس وصولی میں بہت بڑا خلا اور رضاکارانہ طور پر ٹیکس دینے کی شرح انتہائی کم ہونے کے باعث براہِ راست وصولی  کی مد میں ایک بہت بڑا حصہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔</p>

<p>جس کے باعث متوقع ٹیکس ا ورحاصل ہونے والے ٹیکس میں نہایت فرق ہوتا ہے، یہ بات بھی جھٹلائی نہیں جاسکتی کہ حکومتی ٹیکس اصل میں بلاواسطہ ٹیکس کی ہی ایک قسم ہے۔</p>

<p>جس کی وجہ سے بلاواسطہ حاصل ہونے والے ٹیکس کی وصولی  کا  اصل مجموعہ 62 فیصد  کی سرکاری شرح کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086119/">حکومت نے 2 ماہ میں 77 ارب روپے قرضہ لیا</a></strong></p>

<p>ادھر اسٹینڈرڈ ٹیکس پالیسی جو اچھی طرزِ حکمرانی کی اہم خاصیت سمجھی جاتی  ہے، میں ٹیکس کی معافی، رعایت اور دیگر منحرفات سے مالیاتی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔</p>

<p>اس لیے مالی شفافیت قائم کرنے کے لیے حکومتی ڈھانچے اور معاملات ، پالیسی ارادے، پبلک سیکٹر اکاؤنٹس اور تخمینوں تک  عوام کی رسائی ہونی چاہیے۔</p>

<p>اس کے ساتھ بجٹ  میں  ٹیکس اخراجات شامل کرنا بھی شفافیت کے لیے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ حکومت سال 07-2006 سے  ہر سال پیش کیے جانے والے معاشی سروے میں  صرف تخمینہ  شائع کرتی ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ ٹیکس اخراجات کے حوالے سے مالیاتی پالیسی آبادی کے مختلف گروہوں کی آمدنی اور  بہتر رہن سہن  پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ ٹیکس اخراجات بظاہر ذرائع آمدنی میں غیر یکسانیت کی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086254</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Sep 2018 17:02:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ایم بلال حسن)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b8d04d4bd5d1.jpg?r=1253786376" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b8d04d4bd5d1.jpg?r=395185026"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
