<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:07:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:07:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنٹ سے بچے کے بازو ضائع ہونے کا معاملہ، 'ذمہ دار کنڈا لگانے والے عناصر'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086293/</link>
      <description>&lt;p&gt;کے الیکٹرک نے احسن آباد حادثے میں بجلی کے تار گرنے کے واقعے میں بچے کے بازو سے محروم ہونے کا ذمہ دار کنڈا عناصر کے غیر قانونی اقدامات کو قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے جاری بیان میں کہا گیا کہ احسن آباد میں بجلی کے تار گرنے کا واقعہ ایک حادثہ تھا، جس سے بچے کے بازو کاٹنے پڑے اور ادارے کو متاثرہ بچے کے اہل خانہ سے ہمدردی ہے، انسانی بنیادوں پر کے الیکٹرک پہلے ہی متاثرہ بچے کے علاج کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے اور مدد کرنے کا اعلان کرچکا ہے، جس میں علاج اور تعلیم شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک اس بات کی یقن دہانی کراتا ہے کہ عمر کو تمام ضروری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ادارے کی جانب سے معتبر اداروں سے بچے کے مزید علاج کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086047"&gt;کرنٹ لگنے سے بچے کے ہاتھ ضائع ہونے کا معاملہ، کے الیکٹرک کے 7 ملازمین گرفتار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادارے نے شکایتی انداز میں کہا کہ انہیں تا حال متاثرہ خاندان کی جانب سے مثبت جواب کا انتظار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ حادثہ کنڈا ڈالنے والے عناصر کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے پیش آیا اور بچہ دونوں بازو سے محروم ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ کنڈا ڈالنے والے عناصر کے مذکورہ اقدام پر متعدد مرتبہ ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کنڈوں کا خاتمہ کیا جبکہ ادارہ ایسے عناصر کے خلاف مزید موثر کارروائی کے لیے حکومت کی مدد اور حمایت کا منتظر ہے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس اور عوامی تحفظ کو نقصان پہنچانے والے کنڈوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے میڈیا میں یہ واقعہ رپورٹ ہوا تھا کہ 25 اگست کو احسن آباد کے سیکٹر 4 کے رہائشی 8 سالہ عمر کو گھر کی چھت پر کھیلتے ہوئے 11 ہزاروولٹ کی کیبل سے کرنٹ لگا تھا جس سے اس کے دونوں بازو شدید متاثر ہوئے اور ڈاکٹرز کو اس کی جان بچانے کے لیے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086009/"&gt;&lt;strong&gt;دونوں بازو کاٹنے پڑے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086009/"&gt;بجلی کی تار گرنے کا واقعہ: 8 سالہ بچے کے بازو کاٹ دیے گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک حکام سے واقعے پر وضاحت اور کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے نا صرف واقعے کا مقدمہ درج کیا تھا بلکہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086047"&gt;&lt;strong&gt;31 اگست&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے بچے کو کرنٹ لگنے کے واقعہ پر غفلت برتنے کے الزام میں کے الیکٹرک گڈاپ کے دفتر پر چھاپہ مار کر 7 ملازمین کو حراست میں لے لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کے الیکٹرک نے احسن آباد حادثے میں بجلی کے تار گرنے کے واقعے میں بچے کے بازو سے محروم ہونے کا ذمہ دار کنڈا عناصر کے غیر قانونی اقدامات کو قرار دے دیا۔</p>

<p>کے الیکٹرک کے جاری بیان میں کہا گیا کہ احسن آباد میں بجلی کے تار گرنے کا واقعہ ایک حادثہ تھا، جس سے بچے کے بازو کاٹنے پڑے اور ادارے کو متاثرہ بچے کے اہل خانہ سے ہمدردی ہے، انسانی بنیادوں پر کے الیکٹرک پہلے ہی متاثرہ بچے کے علاج کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے اور مدد کرنے کا اعلان کرچکا ہے، جس میں علاج اور تعلیم شامل ہے۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک اس بات کی یقن دہانی کراتا ہے کہ عمر کو تمام ضروری علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ادارے کی جانب سے معتبر اداروں سے بچے کے مزید علاج کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086047">کرنٹ لگنے سے بچے کے ہاتھ ضائع ہونے کا معاملہ، کے الیکٹرک کے 7 ملازمین گرفتار</a></strong></p>

<p>ادارے نے شکایتی انداز میں کہا کہ انہیں تا حال متاثرہ خاندان کی جانب سے مثبت جواب کا انتظار ہے۔</p>

<p>کے الیکٹرک کے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ حادثہ کنڈا ڈالنے والے عناصر کے غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے پیش آیا اور بچہ دونوں بازو سے محروم ہوگیا۔</p>

<p>جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ کنڈا ڈالنے والے عناصر کے مذکورہ اقدام پر متعدد مرتبہ ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کنڈوں کا خاتمہ کیا جبکہ ادارہ ایسے عناصر کے خلاف مزید موثر کارروائی کے لیے حکومت کی مدد اور حمایت کا منتظر ہے تاکہ غیر قانونی نیٹ ورکس اور عوامی تحفظ کو نقصان پہنچانے والے کنڈوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے میڈیا میں یہ واقعہ رپورٹ ہوا تھا کہ 25 اگست کو احسن آباد کے سیکٹر 4 کے رہائشی 8 سالہ عمر کو گھر کی چھت پر کھیلتے ہوئے 11 ہزاروولٹ کی کیبل سے کرنٹ لگا تھا جس سے اس کے دونوں بازو شدید متاثر ہوئے اور ڈاکٹرز کو اس کی جان بچانے کے لیے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086009/"><strong>دونوں بازو کاٹنے پڑے</strong></a> تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086009/">بجلی کی تار گرنے کا واقعہ: 8 سالہ بچے کے بازو کاٹ دیے گئے</a></strong></p>

<p>جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک حکام سے واقعے پر وضاحت اور کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی۔</p>

<p>مذکورہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے نا صرف واقعے کا مقدمہ درج کیا تھا بلکہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086047"><strong>31 اگست</strong></a> کو سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے بچے کو کرنٹ لگنے کے واقعہ پر غفلت برتنے کے الزام میں کے الیکٹرک گڈاپ کے دفتر پر چھاپہ مار کر 7 ملازمین کو حراست میں لے لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086293</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Sep 2018 20:41:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b8d543d62842.jpg?r=812838220" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b8d543d62842.jpg?r=1290704126"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
