<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:14:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:14:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف کسانوں، مزدوروں کا احتجاج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086460/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی دہلی: بھارت کے کسانوں اور بائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی بڑی تعداد نے دارالحکومت نئی دہلی میں مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہرین حکومت سے فارم سے حاصل ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کے استحکام اور لیبر قوانین پر عمل درآمد، قرضوں میں چھوٹ اور کم سے کم تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1059200"&gt;بھارت میں کسانوں کا مظاہرہ، فائرنگ سے 6 ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا کی &lt;a href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/farmers-workers-rally-in-new-delhi-demand-loan-waiver-minimum-wage-of-rs-18000/articleshow/65690037.cms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 'مزدور کسان جدوجہد ریلی' کا انعقاد سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی ٹی یو)، آل انڈیا کسان صباہ (اے آئی کے ایس) اور آل انڈین اگریکلچرز یونین (اے آئی اے ڈبلیو یو) کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا، جس کا آغاز رام لیلہ میدان سے ہوا تھا اور یہ مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b903097126b5.jpg"  alt="حکومت کے خلاف ریلی میں شامل مظاہرین &amp;mdash; فوٹو بشکریہ انڈین ایکسپریس" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;حکومت کے خلاف ریلی میں شامل مظاہرین — فوٹو بشکریہ انڈین ایکسپریس&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہرین نے سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔       &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'اے آئی کے ایس' کے جنرل سیکریٹری ہنان مولا نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت نے ابتدا سے اب تک کسانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی کی حکومت گشتہ 4 سال سے ہمیں بیواقوف بنا رہی ہے، انہوں نے کسانوں کے لیے کچھ نہیں کیا، ہم نے دیگر مطالبات کے ساتھ مزدروں کی کم سے کم سے تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا کہا تھا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا، 'اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریلی کی قیادت کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 'جب تک مرکزی حکومت تبدیل نہیں ہوجاتی'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1047279"&gt;بھارت: کسانوں کو 500 روپے کے نوٹ استعمال کرنے کی اجازت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریلی کی قیادت کرنے والے کسان اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 3 نومبر کو بیروزگاری کے خلاف ملک بھر میں ریلیز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ 30 نومبر کو دہلی کی جانب لانگ مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر &lt;a href="https://indianexpress.com/article/india/mazdoor-kishan-sangharsh-rally-new-delhi-narendra-modi-bjp-farmers-protest-5341480/"&gt;&lt;strong&gt;انڈین ایکسپریس&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے تعلق رکھنے والے &lt;a href="https://twitter.com/ConnectSajin/status/1037262866796171265?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1037282406741491713%7Ctwgr%5E373939313b636f6e74726f6c&amp;amp;ref_url=https://indianexpress.com/article/india/mazdoor-kishan-sangharsh-rally-new-delhi-narendra-modi-bjp-farmers-protest-5341480/"&gt;&lt;strong&gt;ساجن ساجو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کسانوں اور مزدر یونین کے احتجاج کے حوالے سے مختلف تصاویر اور پیغامات بھی شیئر کیے گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ConnectSajin/status/1037245966083153920"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریلی کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفگ جام کی شکایات بھی سامنے آئیں جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی دہلی: بھارت کے کسانوں اور بائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی بڑی تعداد نے دارالحکومت نئی دہلی میں مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔</p>

<p>مظاہرین حکومت سے فارم سے حاصل ہونے والی اشیاء کی قیمتوں کے استحکام اور لیبر قوانین پر عمل درآمد، قرضوں میں چھوٹ اور کم سے کم تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1059200">بھارت میں کسانوں کا مظاہرہ، فائرنگ سے 6 ہلاک</a></strong></p>

<p>ٹائمز آف انڈیا کی <a href="https://timesofindia.indiatimes.com/india/farmers-workers-rally-in-new-delhi-demand-loan-waiver-minimum-wage-of-rs-18000/articleshow/65690037.cms"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 'مزدور کسان جدوجہد ریلی' کا انعقاد سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونین (سی آئی ٹی یو)، آل انڈیا کسان صباہ (اے آئی کے ایس) اور آل انڈین اگریکلچرز یونین (اے آئی اے ڈبلیو یو) کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا تھا، جس کا آغاز رام لیلہ میدان سے ہوا تھا اور یہ مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b903097126b5.jpg"  alt="حکومت کے خلاف ریلی میں شامل مظاہرین &mdash; فوٹو بشکریہ انڈین ایکسپریس" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">حکومت کے خلاف ریلی میں شامل مظاہرین — فوٹو بشکریہ انڈین ایکسپریس</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مظاہرین نے سرخ رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، جن پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔       </p>

<p>'اے آئی کے ایس' کے جنرل سیکریٹری ہنان مولا نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حکومت نے ابتدا سے اب تک کسانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ 'بی جے پی کی حکومت گشتہ 4 سال سے ہمیں بیواقوف بنا رہی ہے، انہوں نے کسانوں کے لیے کچھ نہیں کیا، ہم نے دیگر مطالبات کے ساتھ مزدروں کی کم سے کم سے تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا کہا تھا'۔</p>

<p>انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا، 'اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھیں'۔</p>

<p>ریلی کی قیادت کرنے والے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 'جب تک مرکزی حکومت تبدیل نہیں ہوجاتی'۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1047279">بھارت: کسانوں کو 500 روپے کے نوٹ استعمال کرنے کی اجازت</a></strong></p>

<p>ریلی کی قیادت کرنے والے کسان اور ٹریڈ یونین رہنماؤں نے اعلان کیا کہ 3 نومبر کو بیروزگاری کے خلاف ملک بھر میں ریلیز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ 30 نومبر کو دہلی کی جانب لانگ مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔</p>

<p>ادھر <a href="https://indianexpress.com/article/india/mazdoor-kishan-sangharsh-rally-new-delhi-narendra-modi-bjp-farmers-protest-5341480/"><strong>انڈین ایکسپریس</strong></a> سے تعلق رکھنے والے <a href="https://twitter.com/ConnectSajin/status/1037262866796171265?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1037282406741491713%7Ctwgr%5E373939313b636f6e74726f6c&amp;ref_url=https://indianexpress.com/article/india/mazdoor-kishan-sangharsh-rally-new-delhi-narendra-modi-bjp-farmers-protest-5341480/"><strong>ساجن ساجو</strong></a> کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کسانوں اور مزدر یونین کے احتجاج کے حوالے سے مختلف تصاویر اور پیغامات بھی شیئر کیے گئے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ConnectSajin/status/1037245966083153920"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ریلی کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفگ جام کی شکایات بھی سامنے آئیں جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086460</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Sep 2018 00:51:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b903097157a8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b903097157a8.jpg"/>
        <media:title>بھارت میں کسان اور مزدور مودی سرکار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے — فوٹو بشکریہ انڈین ایکسپریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
