<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:00:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:00:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معیشت کی بہتری کیلئے حکومت کا وفاقی بجٹ میں تبدیلی کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086553/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) میں شامل نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے اراکین کے مطالبے پر وفاقی حکومت نے معیشت کی بہتری اور بجٹ برائے مالی سال 19-2018  کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے اس میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1431451/govt-ready-to-take-tough-decisions-amend-budget"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق نو تشکیل شدہ اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں 3 بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات، ویب لنک میں آنے والی خرابی کے سبب شامل نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ آمدنی اور اخراجات کے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے بجٹ برائے سال 19-2018 میں کئی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی، تاہم بیل آؤٹ پیکج کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کے سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085779"&gt;وفاقی کابینہ کی 'اقتصادی رابطہ کمیٹی' تشکیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں قرضوں، مالیاتی مشکلات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حوالے سے 3 ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو آئندہ ہفتے وزیر خزانہ اسد عمر سے علیحدہ، علیحدہ ملاقات کریں گے، بعد ازاں اس ضمن میں وزیر اعظم کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں اکثریت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ابتدائی 2 ماہ میں سیاسی نتائج کی پرواہ کیے بغیر سیاسی اور سماجی وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت فیصلے کرے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اراکین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اہم فیصلے کرنے میں تاخیر کی تو صورتحال دن بدن مشکل ہوتی چلی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ بڑے پیمانے پر دیئے جانے والے ٹیکس استثنیٰ پر نظر ثانی کی جائے، خاص طور پر انکم ٹیکس استثنیٰ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے دی گئیں رعایتوں پر غور کیا جائے جس سے قومی خزانے میں 90 ارب روپے تک شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086040"&gt;’آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمان کے مشورے سے ہوگا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں سابق حکومت کے مقبول اور امیروں کے مفاد میں کیے گئے فیصلوں کو ختم کرنے کے لیے سنجیدگی سے سخت اقدامات اٹھائے جائیں بجائے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085940"&gt;بجلی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086412"&gt;گیس کی قیمتوں میں اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کرنے کے، کیونکہ اس سے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر زیادہ بوجھ پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس میں دی گئی رعایت واپس لینا انتہائی مشکل فیصلہ ہوگا، کیونکہ ایک دفعہ کوئی سہولت دے دی جائے تو اسے واپس لینا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بڑے معاشی شعبہ جات خاص کر کپڑے کی صنعت کی بنیادی مصنوعات کے لیے سبسڈی دینے کے بجائے منافع بخش شعبہ جات کو رعایت فراہم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085400"&gt;نئی حکومت کو گردشی قرضوں سے نمٹنے کیلئے قرضہ لینا پڑے گا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر زیادہ تر اراکین نے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے لیے بجٹ کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی ترقی کے لیے دور رس فیصلے کرنے پر زور دیا، تاکہ روزگار میں اضافہ، تعلیم کے شعبے میں بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور حکومت کی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر ا عظم عمران خان نے یقین دہانی کروائی کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے اراکین کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر سیاسی نتائج کی پرواہ کیے بغیر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا، کیونکہ یہ ملک و قوم کے دور رس اقتصادی مفاد میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) میں شامل نجی سیکٹر سے تعلق رکھنے والے اراکین کے مطالبے پر وفاقی حکومت نے معیشت کی بہتری اور بجٹ برائے مالی سال 19-2018  کو حقیقت سے قریب تر بنانے کے لیے اس میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرلیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1431451/govt-ready-to-take-tough-decisions-amend-budget">رپورٹ</a></strong> کے مطابق نو تشکیل شدہ اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں 3 بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات، ویب لنک میں آنے والی خرابی کے سبب شامل نہ ہوسکے۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ آمدنی اور اخراجات کے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے بجٹ برائے سال 19-2018 میں کئی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی، تاہم بیل آؤٹ پیکج کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کے سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085779">وفاقی کابینہ کی 'اقتصادی رابطہ کمیٹی' تشکیل</a></strong> </p>

<p>اجلاس میں قرضوں، مالیاتی مشکلات اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے حوالے سے 3 ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو آئندہ ہفتے وزیر خزانہ اسد عمر سے علیحدہ، علیحدہ ملاقات کریں گے، بعد ازاں اس ضمن میں وزیر اعظم کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔</p>

<p>اجلاس میں اکثریت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ابتدائی 2 ماہ میں سیاسی نتائج کی پرواہ کیے بغیر سیاسی اور سماجی وسائل کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت فیصلے کرے۔ </p>

<p>اراکین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اہم فیصلے کرنے میں تاخیر کی تو صورتحال دن بدن مشکل ہوتی چلی جائے گی۔</p>

<p>کچھ اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ بڑے پیمانے پر دیئے جانے والے ٹیکس استثنیٰ پر نظر ثانی کی جائے، خاص طور پر انکم ٹیکس استثنیٰ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے دی گئیں رعایتوں پر غور کیا جائے جس سے قومی خزانے میں 90 ارب روپے تک شامل ہوسکتے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086040">’آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ پارلیمان کے مشورے سے ہوگا‘</a></strong> </p>

<p>اس ضمن میں سابق حکومت کے مقبول اور امیروں کے مفاد میں کیے گئے فیصلوں کو ختم کرنے کے لیے سنجیدگی سے سخت اقدامات اٹھائے جائیں بجائے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085940">بجلی</a></strong> اور <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086412">گیس کی قیمتوں میں اضافہ</a></strong> کرنے کے، کیونکہ اس سے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر زیادہ بوجھ پڑے گا۔</p>

<p>اس سلسلے میں ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس میں دی گئی رعایت واپس لینا انتہائی مشکل فیصلہ ہوگا، کیونکہ ایک دفعہ کوئی سہولت دے دی جائے تو اسے واپس لینا آسان نہیں ہوتا۔</p>

<p>اس کے علاوہ بڑے معاشی شعبہ جات خاص کر کپڑے کی صنعت کی بنیادی مصنوعات کے لیے سبسڈی دینے کے بجائے منافع بخش شعبہ جات کو رعایت فراہم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085400">نئی حکومت کو گردشی قرضوں سے نمٹنے کیلئے قرضہ لینا پڑے گا</a></strong></p>

<p>اس موقع پر زیادہ تر اراکین نے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے لیے بجٹ کو مضبوط بنانے اور طویل مدتی ترقی کے لیے دور رس فیصلے کرنے پر زور دیا، تاکہ روزگار میں اضافہ، تعلیم کے شعبے میں بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور حکومت کی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکے۔</p>

<p>اجلاس میں وزیر ا عظم عمران خان نے یقین دہانی کروائی کہ اقتصادی مشاورتی کونسل کے اراکین کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز پر سیاسی نتائج کی پرواہ کیے بغیر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا، کیونکہ یہ ملک و قوم کے دور رس اقتصادی مفاد میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086553</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Sep 2018 10:19:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b91e8bcd428f.jpg?r=1068814023" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b91e8bcd428f.jpg?r=181350023"/>
        <media:title>اقتصادی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وزیراعظم سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا — فوٹو: گورنمنٹ آف پاکستان فیس بک پیج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
