<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 05:33:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 05:33:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کس عمر کے بچوں کو کتنے گھنٹے سونا چاہیے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086612/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.lifehacker.co.uk/"&gt;لائف ہیکر&lt;/a&gt; پر پوسٹ ہونے والے چارٹ کے مطابق بچوں کو ایک مخصوص وقت پر اپنے بستر کا رخ کرنا چاہیے اور اس کا انحصار ان کے نیند سے جاگنے کے اوقات پر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;5 سے 12 برس تک کی عمر کے بچوں کے لیے نیند اور جاگنے کے اوقات درج ہیں کہ 5 سالہ بچے کو اس کے جاگنے کے وقت کے حساب سے 6:45 اور 8:15 کے درمیان سونے کی تیاری کرنی چاہیے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ 12 سالہ بچے 8:15 سے 9:45 کے درمیان کسی بھی وقت سونے کی تیاری کرسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کا 5 سالہ بچہ 6:30 بجے اٹھ جاتا ہے تو انہیں 7:15 بجے بستر پر سلا دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اگر وہ 7 بجے ہی اٹھ جاتے ہیں تو انہیں 7:30 بجے نیند کے لیے تیار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bcec59be4b70.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ ایک 8 سالہ بچہ جو صبح 6:45 بجے اٹھ جاتا ہے تو اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ 8:15 بجے سونے کے لیے بستر پر چلے جائے۔ اگر اسی عمر کا بچہ 7:30 بجے اٹھا ہے تو وہ 9 بجے سے پہلے نیند کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084639/"&gt;بچہ روز رات کو اٹھ جاتا ہے تو اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5bcec9369232f'&gt;بچوں کو کتنے گھنٹوں کی نیند کرنی چاہیے؟&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;نومولود (سے 3 ماہ کے) بچے: 14 سے 17 گھنٹے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیر خوار (4 سے 11 ماہ کے) بچے: 12 سے 15 گھنٹے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چھوٹے (ایک سے 2 سال کے) بچے: 11 سے 14 گھنٹے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پری اسکول (3 سے 5 سال کے) بچے: 10 سے 13 گھنٹے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکول جانے والے (6 سے 13 سال کے) بچے: 9 سے 11 گھنٹے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئین اور ٹین ایجر (14 سے 17 سال کے) بچے: 8 سے 10 گھنٹے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><a href="http://www.lifehacker.co.uk/">لائف ہیکر</a> پر پوسٹ ہونے والے چارٹ کے مطابق بچوں کو ایک مخصوص وقت پر اپنے بستر کا رخ کرنا چاہیے اور اس کا انحصار ان کے نیند سے جاگنے کے اوقات پر ہے۔</p>

<p>5 سے 12 برس تک کی عمر کے بچوں کے لیے نیند اور جاگنے کے اوقات درج ہیں کہ 5 سالہ بچے کو اس کے جاگنے کے وقت کے حساب سے 6:45 اور 8:15 کے درمیان سونے کی تیاری کرنی چاہیے۔  </p>

<p>جبکہ 12 سالہ بچے 8:15 سے 9:45 کے درمیان کسی بھی وقت سونے کی تیاری کرسکتے ہیں۔ </p>

<p>اگر آپ کا 5 سالہ بچہ 6:30 بجے اٹھ جاتا ہے تو انہیں 7:15 بجے بستر پر سلا دینا چاہیے۔</p>

<p>لیکن اگر وہ 7 بجے ہی اٹھ جاتے ہیں تو انہیں 7:30 بجے نیند کے لیے تیار ہوتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bcec59be4b70.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جبکہ ایک 8 سالہ بچہ جو صبح 6:45 بجے اٹھ جاتا ہے تو اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ 8:15 بجے سونے کے لیے بستر پر چلے جائے۔ اگر اسی عمر کا بچہ 7:30 بجے اٹھا ہے تو وہ 9 بجے سے پہلے نیند کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084639/">بچہ روز رات کو اٹھ جاتا ہے تو اس کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں</a></strong></p>

<h2 id='5bcec9369232f'>بچوں کو کتنے گھنٹوں کی نیند کرنی چاہیے؟</h2>

<p>نومولود (سے 3 ماہ کے) بچے: 14 سے 17 گھنٹے</p>

<p>شیر خوار (4 سے 11 ماہ کے) بچے: 12 سے 15 گھنٹے</p>

<p>چھوٹے (ایک سے 2 سال کے) بچے: 11 سے 14 گھنٹے</p>

<p>پری اسکول (3 سے 5 سال کے) بچے: 10 سے 13 گھنٹے</p>

<p>اسکول جانے والے (6 سے 13 سال کے) بچے: 9 سے 11 گھنٹے</p>

<p>ٹوئین اور ٹین ایجر (14 سے 17 سال کے) بچے: 8 سے 10 گھنٹے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086612</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Oct 2018 12:09:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b92afaf91683.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b92afaf91683.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
