<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:44:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:44:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کا نیپال کو اپنی بندرگاہوں تک رسائی دینے کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086640/</link>
      <description>&lt;p&gt;کھٹمنڈو: چین نے نیپال کو اپنی 4 بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا،جو چاروں طرف سے خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ تجارت کے لیے  بھارت کے رحم و کرم پر ہے اور اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان واقع  نیپال ایندھن سمیت  اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا کی فراہمی کے لیے بھارت پر انحصار کرتا ہے اور دیگر ممالک سے تجارت کے لیے اس کی بندرگاہیں استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اب کھٹمنڈو بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے چین کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے کیوں کہ بھارت کے ساتھ منسلک سرحد پر سال 2015 سے 2016 سے جاری طویل ناکہ بندی سے ملک کو کئی ماہ سے  ایندھن اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027279"&gt;نیپال میں 42 انڈین چینل احتجاجاً بلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیپال کی وزارت کامرس کی جانب سے جاری کردہ بیان کےمطابق  نیپال اور چین کے حکام نے  کھٹمنڈو میں ہونے والے اجلاس کے دوران پروٹوکول کو حتمی شکل دی،  جس کے تحت نیپال کو تیانجن، شینزین، لائینونگینگ، اور زنجیانگ کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیپال کو اپنی 3 زمینی بندرگاہیں اور سڑکیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا اور پروٹوکول پر دستخط  ہونے کے بعد انتظامات کو عملی شکل دینے کا آغاز کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس  ضمن میں نیپالی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگِ میل ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھارت کی 2 بندرگاہوں سمیت چین کی 4 بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1020399"&gt;زلزلہ، کھٹمنڈو جنوب کی طرف 10 فٹ کھسک گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان چین کے راستے سے لایا جاسکے گا جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب زمینی راستے سے آنے والا سامان زیادہ تر مشرقی بھارت میں واقع کولکتہ کے راستے لایا جاتا ہے جس میں 3 ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے، تاہم نئی دہلی نے اپنی جنوبی بندرگاہ وشاکاپٹنم بھی نیپالی تجارت کےلیے کھول دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر نیپالی تاجروں کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک ہونے کا فیصلے میں  بہتر سڑکیں اور کسٹم کا  نظام  نہ ہونے کے سبب  دشواریاں پیش آسکتی ہیں، خیال رہے کہ نیپال کا  نزدیک  ترین چینی بندرگاہ سے فاصلہ  26 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 8 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کھٹمنڈو: چین نے نیپال کو اپنی 4 بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا،جو چاروں طرف سے خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ تجارت کے لیے  بھارت کے رحم و کرم پر ہے اور اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان واقع  نیپال ایندھن سمیت  اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا کی فراہمی کے لیے بھارت پر انحصار کرتا ہے اور دیگر ممالک سے تجارت کے لیے اس کی بندرگاہیں استعمال کرتا ہے۔</p>

<p>لیکن اب کھٹمنڈو بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے چین کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے کیوں کہ بھارت کے ساتھ منسلک سرحد پر سال 2015 سے 2016 سے جاری طویل ناکہ بندی سے ملک کو کئی ماہ سے  ایندھن اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1027279">نیپال میں 42 انڈین چینل احتجاجاً بلاک</a></strong></p>

<p>نیپال کی وزارت کامرس کی جانب سے جاری کردہ بیان کےمطابق  نیپال اور چین کے حکام نے  کھٹمنڈو میں ہونے والے اجلاس کے دوران پروٹوکول کو حتمی شکل دی،  جس کے تحت نیپال کو تیانجن، شینزین، لائینونگینگ، اور زنجیانگ کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔</p>

<p>بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیپال کو اپنی 3 زمینی بندرگاہیں اور سڑکیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا اور پروٹوکول پر دستخط  ہونے کے بعد انتظامات کو عملی شکل دینے کا آغاز کردیا جائے گا۔</p>

<p>اس  ضمن میں نیپالی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگِ میل ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھارت کی 2 بندرگاہوں سمیت چین کی 4 بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1020399">زلزلہ، کھٹمنڈو جنوب کی طرف 10 فٹ کھسک گیا</a></strong></p>

<p>انہوں نے بتایا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان چین کے راستے سے لایا جاسکے گا جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔</p>

<p>دوسری جانب زمینی راستے سے آنے والا سامان زیادہ تر مشرقی بھارت میں واقع کولکتہ کے راستے لایا جاتا ہے جس میں 3 ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے، تاہم نئی دہلی نے اپنی جنوبی بندرگاہ وشاکاپٹنم بھی نیپالی تجارت کےلیے کھول دی تھی۔</p>

<p>ادھر نیپالی تاجروں کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک ہونے کا فیصلے میں  بہتر سڑکیں اور کسٹم کا  نظام  نہ ہونے کے سبب  دشواریاں پیش آسکتی ہیں، خیال رہے کہ نیپال کا  نزدیک  ترین چینی بندرگاہ سے فاصلہ  26 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 8 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086640</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Sep 2018 13:05:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b93824128c46.jpg?r=590658316" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b93824128c46.jpg?r=1185185685"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
