<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:12:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:12:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’مہنگی کاروں،موبائل فونز کی درآمد پر پابندی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچاسکتی ہے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1086751/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: ایک سینئر حکومتی مشیر نے کہا ہے کہ انٹرنیشل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ کے حصول سے بچنے کے لیے اقتصادی مشیر لگژری گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور چیز کی درآمدات پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1432002/do-nothing-scenario-on-economic-situation-unacceptable-adviser"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کے پہلے اجلاس میں فی الحال تو کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، تاہم نئی قائم کردہ 'ای اے سی' نے ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور رہی کہ برآمدات کی کمی آور درآمدات میں ہوشربا اضافے سے پاکستانی معیشت میں ڈالر کی کمی ہے، جس کی وجہ سے روپے پر دباؤ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کم ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084333"&gt;معاشی صورتحال ابتر ہے، فوری 12 ارب ڈالر درکارہوں گے، اسد عمر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اکثر مالیاتی ماہرین کو یہ توقع ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس اپنے بیل آؤٹ کے لیے جائے گا، جو 1980 سے لے کر اب تک کا 15واں بیل آؤٹ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف پر انحصار کرنے پر تنقید کر چکے ہیں اور پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کے حکام یہ خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط حکومتی وعدوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اشفاق حسن خان نے بتایا کہ جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں غیر روایتی تجاویز پیش کیں جس سے درآمدات کو کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اجلاس میں مجھے کوئی ایسا رکن نظر نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور حل نہیں، لہٰذا ہمیں کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ نہ کرنا ناقابل قبول ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ای اے سی اجلاس پر اسد عمر کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حال ہی میں سینیٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی ضروریات کے لیے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اشفاق حسن خان نے بتایا کہ اجلاس میں بنیادی اقدامات جیسے غیر ملکی چیز، کاریں، موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال کی طویل پابندی لگانے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور بتایا گیا کہ ان اقدامات سے ہم 4 سے 5 ارب ڈالر تک بچا سکتے ہیں اور ہماری برآمدات کو بھی 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086639"&gt;اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک اور رکن ڈاکٹر عمران رسول مستعفی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں باہر سے کتنا چیز آرہا ہے اور مارکیٹ درآمدی چیز سے بھری ہوئی ہیں، ایسے وقت میں جب ملک کے پاس ڈالرز نہیں ہیں تو کیا ایسی چیز کی درآمدات کی ضرورت ہے؟'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس سابق حکومت نے چیز، ہائی ہارس پاور کاروں سمیت 240 درآمدی اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف بڑھایا تھا اور درجنوں نئی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کی تھیں لیکن کوئی درآمدی پابندیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: ایک سینئر حکومتی مشیر نے کہا ہے کہ انٹرنیشل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ کے حصول سے بچنے کے لیے اقتصادی مشیر لگژری گاڑیوں، اسمارٹ فونز اور چیز کی درآمدات پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1432002/do-nothing-scenario-on-economic-situation-unacceptable-adviser"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کے پہلے اجلاس میں فی الحال تو کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، تاہم نئی قائم کردہ 'ای اے سی' نے ملک کے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو روکنے کے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا۔</p>

<p>وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت اس اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور رہی کہ برآمدات کی کمی آور درآمدات میں ہوشربا اضافے سے پاکستانی معیشت میں ڈالر کی کمی ہے، جس کی وجہ سے روپے پر دباؤ ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کم ہو رہا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084333">معاشی صورتحال ابتر ہے، فوری 12 ارب ڈالر درکارہوں گے، اسد عمر</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ اکثر مالیاتی ماہرین کو یہ توقع ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس اپنے بیل آؤٹ کے لیے جائے گا، جو 1980 سے لے کر اب تک کا 15واں بیل آؤٹ ہوگا۔</p>

<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف پر انحصار کرنے پر تنقید کر چکے ہیں اور پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کے حکام یہ خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرائط حکومتی وعدوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔</p>

<p>اس حوالے سے اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن اشفاق حسن خان نے بتایا کہ جمعرات کو منعقدہ اجلاس میں غیر روایتی تجاویز پیش کیں جس سے درآمدات کو کم کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’اجلاس میں مجھے کوئی ایسا رکن نظر نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے کیونکہ ہمارے پاس کوئی اور حل نہیں، لہٰذا ہمیں کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ نہ کرنا ناقابل قبول ہے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ ای اے سی اجلاس پر اسد عمر کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حال ہی میں سینیٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو مالیاتی ضروریات کے لیے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا آخری آپشن ہوگا۔</p>

<p>اشفاق حسن خان نے بتایا کہ اجلاس میں بنیادی اقدامات جیسے غیر ملکی چیز، کاریں، موبائل فونز اور پھلوں پر ایک سال کی طویل پابندی لگانے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور بتایا گیا کہ ان اقدامات سے ہم 4 سے 5 ارب ڈالر تک بچا سکتے ہیں اور ہماری برآمدات کو بھی 2 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086639">اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک اور رکن ڈاکٹر عمران رسول مستعفی</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ملک میں باہر سے کتنا چیز آرہا ہے اور مارکیٹ درآمدی چیز سے بھری ہوئی ہیں، ایسے وقت میں جب ملک کے پاس ڈالرز نہیں ہیں تو کیا ایسی چیز کی درآمدات کی ضرورت ہے؟'</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس سابق حکومت نے چیز، ہائی ہارس پاور کاروں سمیت 240 درآمدی اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف بڑھایا تھا اور درجنوں نئی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کی تھیں لیکن کوئی درآمدی پابندیاں نہیں لگائی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1086751</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Sep 2018 12:27:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b9606e957da5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b9606e957da5.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
