<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 09:33:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 09:33:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی حکومت اور خودمختار اداروں میں ایک لاکھ 70 ہزار خالی آسامیاں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087123/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اس کے ذیلی خودمختار اداروں میں ایک لاکھ 71 ہزار 2 سو 37 آسامیاں خالی ہیں جو اداروں کے لیے منظور شدہ آسامیوں کی کُل تعداد کے تقریباً 18 فیصد ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری اعداد و شمار برائے سال 17-2016 کے مطابق سرکاری اداروں میں ملازمتوں کی کل تعداد تقریباً 11 لاکھ 37 ہزار 8 سو 43 ہے، جس میں سے 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 آسامیوں پر ملازمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 18 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1433043/over-170000-posts-vacant-in-federal-govt-autonomous-bodies"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وفاقی حکومت کے زیراہتمام اداروں میں کل 6 لاکھ 49 ہزار ایک سو 76 آسامیاں ہیں، جن میں سے 5 لاکھ 70 ہزار 5 سو 53 آسامیوں پر ملازمین اور افسران دستیاب ہیں جبکہ 78 ہزار 6 سو 23 یعنی 12 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/107552"&gt;ملازمتوں کا کوٹہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ تعداد میں گریڈ 17 کے افسران کی 9 ہزار 2 سو 35 آسامیاں جبکہ گریڈ 16 سے کم درجے کی 69 ہزار 3 سو 90 آسامیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین وفاقی حکومت سے منسلک خود مختار یا نیم سرکاری اداروں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان اداروں میں آسامیوں کی کُل تعداد 4 لاکھ 88 ہزار 6 سو 67 ہے اس طرح انہیں 19 فیصد کم ملازمین دستیاب ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ بہت سی آسامیاں ہر سال ملازمین کی ریٹائرمنٹ، اموات یا استعفوں کے ایک باقاعدہ نظام کے بعد خالی ہوئی ہیں لیکن زیادہ تعداد میں آسامیاں خالی ہونے کی وجہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھرتیوں پر پابندی ہونا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054911"&gt;تمام سرکاری افسران اپنی مراعات اور تنخواہیں ظاہر کریں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سرکاری، نیم سرکاری اور دیگر کارپوریٹ اداروں میں ملازمین کی کل 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 89 ہزار 7 سو 99 یعنی سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکور تعداد پنجاب کو حاصل 50 فیصد کوٹے سے بھی زائد ہے، پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کے لیے ملازمتوں میں مختص 50 فیصد کوٹے کے مطابق ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 83 ہزار 3 سو 3 ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب خود مختار اور نیم خودمختار اداروں میں کام کرنے والے 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین میں سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 67 ہے، جو مختص کوٹے سے زائد یعنی 55.81 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1036443"&gt;سرکاری ملازمت کے لیے لازم سرٹیفیکٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی حکومت میں خیبر پختونخوا کا کوٹہ 11.5 فیصد ہے لیکن اس کے پاس 24.55 فیصد ملازمتیں ہیں، یعنی کوٹے کے مطابق صوبے کے ملازمین کی تعداد 1 لاکھ 11 ہزار ایک سو 59 ہونی چاہیے لیکن یہ تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 4 سو 55 ہے، مختص کوٹے سے 87 ہزار 2 سو 96 زائد ملازمتیں خیبر پختونخوا کے پاس ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح بلوچستان کے لیے مختص 6 فیصد کوٹے کے حساب سے وفاقی حکومت میں اس کے ملازمین کی تعداد 57 ہزار 996 ہونی چاہیے، لیکن اس کے بجائے صوبے سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار 4 سو 56 ملازمین ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی اداروں میں سندھ کا کوٹہ 19 فیصد ہے جس کے مطابق صوبے کی آسامیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار 6 سو55 ہونی چاہیے، لیکن صوبے کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار ایک سو 82 ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1011960/"&gt;لاہور:سرکاری ملازمتوں میں نظرانداز کرنے پر نابینا افراد کا احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 27 کے مطابق وفاقی ملازمتوں میں صوبوں کے لیے مختص کوٹے کی مدت 40 سال تھی جو 2013 میں ختم ہوچکی، لیکن مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں 20 سال کی توسیع کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا جو منظور نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اس کے ذیلی خودمختار اداروں میں ایک لاکھ 71 ہزار 2 سو 37 آسامیاں خالی ہیں جو اداروں کے لیے منظور شدہ آسامیوں کی کُل تعداد کے تقریباً 18 فیصد ہیں۔</p>

<p>اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری اعداد و شمار برائے سال 17-2016 کے مطابق سرکاری اداروں میں ملازمتوں کی کل تعداد تقریباً 11 لاکھ 37 ہزار 8 سو 43 ہے، جس میں سے 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 آسامیوں پر ملازمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ 18 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1433043/over-170000-posts-vacant-in-federal-govt-autonomous-bodies">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وفاقی حکومت کے زیراہتمام اداروں میں کل 6 لاکھ 49 ہزار ایک سو 76 آسامیاں ہیں، جن میں سے 5 لاکھ 70 ہزار 5 سو 53 آسامیوں پر ملازمین اور افسران دستیاب ہیں جبکہ 78 ہزار 6 سو 23 یعنی 12 فیصد آسامیاں خالی ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/107552">ملازمتوں کا کوٹہ</a></strong></p>

<p>مذکورہ تعداد میں گریڈ 17 کے افسران کی 9 ہزار 2 سو 35 آسامیاں جبکہ گریڈ 16 سے کم درجے کی 69 ہزار 3 سو 90 آسامیاں شامل ہیں۔</p>

<p>اسی طرح 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین وفاقی حکومت سے منسلک خود مختار یا نیم سرکاری اداروں میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان اداروں میں آسامیوں کی کُل تعداد 4 لاکھ 88 ہزار 6 سو 67 ہے اس طرح انہیں 19 فیصد کم ملازمین دستیاب ہیں۔</p>

<p>اس حوالے سے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ بہت سی آسامیاں ہر سال ملازمین کی ریٹائرمنٹ، اموات یا استعفوں کے ایک باقاعدہ نظام کے بعد خالی ہوئی ہیں لیکن زیادہ تعداد میں آسامیاں خالی ہونے کی وجہ گزشتہ دورِ حکومت میں بھرتیوں پر پابندی ہونا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1054911">تمام سرکاری افسران اپنی مراعات اور تنخواہیں ظاہر کریں</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ سرکاری، نیم سرکاری اور دیگر کارپوریٹ اداروں میں ملازمین کی کل 9 لاکھ 66 ہزار 6 سو 6 میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 89 ہزار 7 سو 99 یعنی سب سے زیادہ ہے۔</p>

<p>مذکور تعداد پنجاب کو حاصل 50 فیصد کوٹے سے بھی زائد ہے، پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کے لیے ملازمتوں میں مختص 50 فیصد کوٹے کے مطابق ملازمین کی تعداد 4 لاکھ 83 ہزار 3 سو 3 ہونی چاہیے۔</p>

<p>دوسری جانب خود مختار اور نیم خودمختار اداروں میں کام کرنے والے 3 لاکھ 96 ہزار 53 ملازمین میں سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تعداد 2 لاکھ 21 ہزار 67 ہے، جو مختص کوٹے سے زائد یعنی 55.81 فیصد ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1036443">سرکاری ملازمت کے لیے لازم سرٹیفیکٹ</a></strong></p>

<p>وفاقی حکومت میں خیبر پختونخوا کا کوٹہ 11.5 فیصد ہے لیکن اس کے پاس 24.55 فیصد ملازمتیں ہیں، یعنی کوٹے کے مطابق صوبے کے ملازمین کی تعداد 1 لاکھ 11 ہزار ایک سو 59 ہونی چاہیے لیکن یہ تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 4 سو 55 ہے، مختص کوٹے سے 87 ہزار 2 سو 96 زائد ملازمتیں خیبر پختونخوا کے پاس ہیں۔</p>

<p>اس طرح بلوچستان کے لیے مختص 6 فیصد کوٹے کے حساب سے وفاقی حکومت میں اس کے ملازمین کی تعداد 57 ہزار 996 ہونی چاہیے، لیکن اس کے بجائے صوبے سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار 4 سو 56 ملازمین ہیں۔</p>

<p>وفاقی اداروں میں سندھ کا کوٹہ 19 فیصد ہے جس کے مطابق صوبے کی آسامیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار 6 سو55 ہونی چاہیے، لیکن صوبے کے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار ایک سو 82 ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1011960/">لاہور:سرکاری ملازمتوں میں نظرانداز کرنے پر نابینا افراد کا احتجاج</a></strong></p>

<p>آئین کے آرٹیکل 27 کے مطابق وفاقی ملازمتوں میں صوبوں کے لیے مختص کوٹے کی مدت 40 سال تھی جو 2013 میں ختم ہوچکی، لیکن مسلم لیگ (ن) نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں 20 سال کی توسیع کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا جو منظور نہ ہوسکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087123</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Sep 2018 10:23:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b9c7d277e1d9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b9c7d277e1d9.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
