<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:47:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:47:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت ملکی درآمدات کو کم کرنے کیلئے کوشاں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087197/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: کامرس ڈویژن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی شقوں کے تحت ملکی درآمدات کو کم کرنے کے لیے تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1433233/far-reaching-import-curbs-on-the-cards"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کامرس ڈویژن نے مخصوص ٹیرف لائن کو متعین کرنے کے لیے حکام کی ایک ٹیم ترتیب دی ہے جو مختلف پابندیوں پر غور کرے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی اندازے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدامات ملکی مجموعی درآمدات کو 2 ارب ڈالر سے ڈھائی ارب ڈالر تک رکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب اس معاملے میں سیکریٹری کامرس ڈویژن یونس ڈاگھا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ ’ان کے پاس کئی آپشن موجود ہیں، ابھی تک کسی کو حتمی شکل نہیں دی گئی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086907"&gt;برآمدات میں اضافہ، تجارتی خسارے میں کمی، حکومت پر بیرونی دباؤ کم ہونے لگا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تجویز کے مطابق کامرس ڈویژن کچھ ٹیرف کی فہرست ترتیب دے دی ہے جو ان کی تعدادی پابندی سے مشروط ہے، اس کے علاوہ یہ فہرست کوٹہ، درآمدات و برآمدات کے لائسنز اور دیگر پر ترتیب دی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان فہرستوں میں زیادہ تر ان اشیا کو شامل کیا گیا ہے جو آسانی کے ساتھ مقامی منڈیوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسرا آپشن یہ ہے کہ تمام لگژری اور غیر ضروری اشیا پر پابندی لگائی جائے جو پہلے ہی مقامی سطح پر تیار ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں کامرس ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ اس آپشن کی مدد سے  سرمایہ کاروں کو ان سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082225"&gt;ملک کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تجویز میں سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی درآمدات پر پابندی بھی زیرِ غور ہے، تاہم اس میں بھی تین درجے رکھے گئے ہیں، ایک یہ کہ درآمد ہونے والی گاڑی کی عمر کی حد میں کمی کردی جائے، دوسرا یہ کہ اس بارے میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے گاڑیوں کو درآمدات کی حوصلہ شکنی ہو، یا پھر اسے صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک محدود کردیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی درآمدات بھی ان پابندیوں سے متعلق زیرِ گور ہے، جس کی درآمدات میں گزشتہ مالی کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا تھا، اور ملک میں 84 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے موبائل فون درآمد ہوئے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے جس میں درآمد ہونے والی اشیا کی تعداد پر پابندی، یا پھر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے اور کئی کیسز میں مخصوص اشیا کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے، تاکہ ملکی درآمدات کو کم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: کامرس ڈویژن ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی شقوں کے تحت ملکی درآمدات کو کم کرنے کے لیے تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1433233/far-reaching-import-curbs-on-the-cards"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کامرس ڈویژن نے مخصوص ٹیرف لائن کو متعین کرنے کے لیے حکام کی ایک ٹیم ترتیب دی ہے جو مختلف پابندیوں پر غور کرے گی۔ </p>

<p>ابتدائی اندازے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدامات ملکی مجموعی درآمدات کو 2 ارب ڈالر سے ڈھائی ارب ڈالر تک رکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ </p>

<p>جب اس معاملے میں سیکریٹری کامرس ڈویژن یونس ڈاگھا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ ’ان کے پاس کئی آپشن موجود ہیں، ابھی تک کسی کو حتمی شکل نہیں دی گئی‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086907">برآمدات میں اضافہ، تجارتی خسارے میں کمی، حکومت پر بیرونی دباؤ کم ہونے لگا</a></strong></p>

<p>ایک تجویز کے مطابق کامرس ڈویژن کچھ ٹیرف کی فہرست ترتیب دے دی ہے جو ان کی تعدادی پابندی سے مشروط ہے، اس کے علاوہ یہ فہرست کوٹہ، درآمدات و برآمدات کے لائسنز اور دیگر پر ترتیب دی گئی ہے۔ </p>

<p>ان فہرستوں میں زیادہ تر ان اشیا کو شامل کیا گیا ہے جو آسانی کے ساتھ مقامی منڈیوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔ </p>

<p>دوسرا آپشن یہ ہے کہ تمام لگژری اور غیر ضروری اشیا پر پابندی لگائی جائے جو پہلے ہی مقامی سطح پر تیار ہو رہی ہیں۔</p>

<p>اس بارے میں کامرس ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ اس آپشن کی مدد سے  سرمایہ کاروں کو ان سیکٹرز میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082225">ملک کا تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا</a></strong></p>

<p>ایک اور تجویز میں سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی درآمدات پر پابندی بھی زیرِ غور ہے، تاہم اس میں بھی تین درجے رکھے گئے ہیں، ایک یہ کہ درآمد ہونے والی گاڑی کی عمر کی حد میں کمی کردی جائے، دوسرا یہ کہ اس بارے میں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے گاڑیوں کو درآمدات کی حوصلہ شکنی ہو، یا پھر اسے صرف بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں تک محدود کردیا جائے۔</p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی درآمدات بھی ان پابندیوں سے متعلق زیرِ گور ہے، جس کی درآمدات میں گزشتہ مالی کے دوران 19 فیصد اضافہ ہوا تھا، اور ملک میں 84 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے موبائل فون درآمد ہوئے تھے۔ </p>

<p>واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کئی آپشنز پر غور کر رہی ہے جس میں درآمد ہونے والی اشیا کی تعداد پر پابندی، یا پھر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے اور کئی کیسز میں مخصوص اشیا کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے، تاکہ ملکی درآمدات کو کم کیا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087197</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Sep 2018 14:18:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b9e1b616b3dd.jpg?r=795711500" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b9e1b616b3dd.jpg?r=1623471580"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
