<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 17:37:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 17:37:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بی ایم ڈبلیو کی مستقبل کی گاڑی متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087223/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف کمپنی بی ایم ڈبلیو نے اپنی کانسیپٹ ایس یو وی گاڑی ویژن آئی نیکسٹ متعارف کرائی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت یہ کانسیپٹ گاڑی اس کمپنی کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو وہ مستقبل میں استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس کی پروڈکشن 2021 تک شروع کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کانسیپٹ گاڑی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی، وائس کنٹرول اور مسافروں کے پاس موجود اشیاء کی تصاویر یا ویڈیوز دکھانے والے ایک پراجیکٹر، اس کا پورا اندرونی خانہ ٹچ کنٹرول فیچر سے لیس ہے جن کی سیٹنگز کو ڈرائیور اور مسافر نشستوں پر انگلیوں سے ڈرائنگ کرکے بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b9ea531be782.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاﺅنج جیسا کیبن مسافروں کی انگلیوں کے اشارے پر چلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائس کنٹرول سے بھی اس گاڑی کی سیٹنگز کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے جبکہ ایک نیا فیچر انٹیلی جنٹ پرسنل اسسٹنٹ ہے جو ہاتھوں کے اشاروں سے اسٹریو کنٹرول اور فون کال ٹاسکس وغیرہ سرانجام دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں انٹیلی جنٹ بیم نامی ویڈیو پراجیکٹر ہے جو موشن سنسر سے لیس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باہر سے اس گاڑی کا ڈیزائن بی ایم ڈبلیو کی 1933 کی گاڑی سے ملتا جلتا ہے تاہم اس میں جدید ٹچ بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b9ea531cfe93.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ گاڑی 4 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے جبکہ ایک چارج پر 373 میل کا سفر طے کرسکے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف کمپنی بی ایم ڈبلیو نے اپنی کانسیپٹ ایس یو وی گاڑی ویژن آئی نیکسٹ متعارف کرائی ہے۔</p>

<p>درحقیقت یہ کانسیپٹ گاڑی اس کمپنی کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو وہ مستقبل میں استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس کی پروڈکشن 2021 تک شروع کرنا چاہتی ہے۔</p>

<p>یہ کانسیپٹ گاڑی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی، وائس کنٹرول اور مسافروں کے پاس موجود اشیاء کی تصاویر یا ویڈیوز دکھانے والے ایک پراجیکٹر، اس کا پورا اندرونی خانہ ٹچ کنٹرول فیچر سے لیس ہے جن کی سیٹنگز کو ڈرائیور اور مسافر نشستوں پر انگلیوں سے ڈرائنگ کرکے بدل سکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b9ea531be782.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لاﺅنج جیسا کیبن مسافروں کی انگلیوں کے اشارے پر چلتا ہے۔</p>

<p>وائس کنٹرول سے بھی اس گاڑی کی سیٹنگز کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے جبکہ ایک نیا فیچر انٹیلی جنٹ پرسنل اسسٹنٹ ہے جو ہاتھوں کے اشاروں سے اسٹریو کنٹرول اور فون کال ٹاسکس وغیرہ سرانجام دیتا ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس میں انٹیلی جنٹ بیم نامی ویڈیو پراجیکٹر ہے جو موشن سنسر سے لیس ہے۔</p>

<p>باہر سے اس گاڑی کا ڈیزائن بی ایم ڈبلیو کی 1933 کی گاڑی سے ملتا جلتا ہے تاہم اس میں جدید ٹچ بھی دیا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5b9ea531cfe93.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کمپنی کے مطابق یہ گاڑی 4 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے جبکہ ایک چارج پر 373 میل کا سفر طے کرسکے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087223</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Sep 2018 12:27:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5b9ea531b0359.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5b9ea531b0359.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ بی ایم ڈبلیو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
