<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:22:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:22:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چترال: گولین گول بجلی منصوبے کا ایک اور یونٹ نیشنل گرڈ سے منسلک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087651/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے 108 میگا واٹ کے گولین گول ہائیڈروپاور منصوبے کے دوسرے یونٹ چترال سے تمرگرہ کی اہم ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے کو نیشنل گرڈ منسلک کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واپڈا کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ڈان کو بتایا کہ ’ ہم نے کامیابی سے 36 میگا واٹ کے دوسرے یونٹ کو منسلک کردیا ہے اور گولین گول (چترال) سے تمرگرہ تک کی سب سے زیادہ اہم ٹرانسمیشن لائن کو مکمل کرنے سے نیشنل گرڈ میں بجلی میں اضافہ ہوگا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گولین گول سے تمرگرہ تک 180 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن پہاڑوں سے گزرتی ہے، جہاں موسمی صورتحال انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072278"&gt;طلب سے تین گنا زیادہ بجلی پیدا کرنے والا چترال پاور پراجیکٹ فعال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اہم ٹرانسمیشن لائن میں 132 کے وی کے 141 اور 220 کے وی کے 565 ٹاوروں پر مشتمل کل 706 ٹرانسمیشن ٹاور ہیں، جو برف کے پہاڑوں پر لگے ہوئے ہیں، ان ٹاورز میں 10 ہزار 312 فٹ کی سب سے زیادہ اونچائی پر لواری ٹوپ بھی شامل ہے جبکہ پاکستان میں اتنی اونچائی پر کبھی ٹرانسمیشن ٹاورز نہیں لگائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واپڈا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ اس منصوبے کے پہلے یونٹ نے رواں سال جنوری سے پیداوار کا آغاز کردیا تھا اور وہ چترال ، اپر چترال اور دروش کے علاقوں کو ان کی ضرورت سے زائد بجلی فراہم کر رہے ہیں جبکہ دوسرے یونٹ کا جوڑنا اور ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی کی ترسیل قوم کےلیے ایک بڑی خبر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس منصوبے کے تیسرے یونٹ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب واپڈا کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ اس منصوبے کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا گیا ہے اور دوسرے یونٹس سے آزمائشی بنیادوں پر نیشنل گرڈ کے ذریعے بجلی کی فراہمی کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ دوسرا یونٹس معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے ساتھ کام کر رہا ہے اور یہ 36 میگا واٹ تک کی بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ جنوری سے واپڈا کے مقامی انتظامات کے ذریعے منصوبے کا پہلا یونٹ چترال اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بجلی کی فراہمی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/136808/chitral-energy-saudia-sy"&gt;چترال میں ہائیڈرو پاور منصوبے کیلئے سعودی امداد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان نے واضح کیا کہ اس منصوبے سے بجلی کے صارفین کو 3 کروڑ 30 لاکھ یونٹس فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ اس کا تیسرا اور آخری یونٹ بھی مکمل ہے، جسے جلد ہی نیشنل گرڈ سے جوڑ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گولین گول منصوبہ چترال کے قریب دریائے مستوج کے اطراف قائم ہے اور یہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 43 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کرے گا اور اس سے تقریبا 3ارب 70 کروڑ روپے سالانہ کی بچت کا بھی امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 24 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے 108 میگا واٹ کے گولین گول ہائیڈروپاور منصوبے کے دوسرے یونٹ چترال سے تمرگرہ کی اہم ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے کو نیشنل گرڈ منسلک کردیا۔ </p>

<p>واپڈا کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے ڈان کو بتایا کہ ’ ہم نے کامیابی سے 36 میگا واٹ کے دوسرے یونٹ کو منسلک کردیا ہے اور گولین گول (چترال) سے تمرگرہ تک کی سب سے زیادہ اہم ٹرانسمیشن لائن کو مکمل کرنے سے نیشنل گرڈ میں بجلی میں اضافہ ہوگا‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ گولین گول سے تمرگرہ تک 180 کلو میٹر طویل ٹرانسمیشن لائن پہاڑوں سے گزرتی ہے، جہاں موسمی صورتحال انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072278">طلب سے تین گنا زیادہ بجلی پیدا کرنے والا چترال پاور پراجیکٹ فعال</a></strong></p>

<p>اس اہم ٹرانسمیشن لائن میں 132 کے وی کے 141 اور 220 کے وی کے 565 ٹاوروں پر مشتمل کل 706 ٹرانسمیشن ٹاور ہیں، جو برف کے پہاڑوں پر لگے ہوئے ہیں، ان ٹاورز میں 10 ہزار 312 فٹ کی سب سے زیادہ اونچائی پر لواری ٹوپ بھی شامل ہے جبکہ پاکستان میں اتنی اونچائی پر کبھی ٹرانسمیشن ٹاورز نہیں لگائے گئے ہیں۔</p>

<p>واپڈا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ اس منصوبے کے پہلے یونٹ نے رواں سال جنوری سے پیداوار کا آغاز کردیا تھا اور وہ چترال ، اپر چترال اور دروش کے علاقوں کو ان کی ضرورت سے زائد بجلی فراہم کر رہے ہیں جبکہ دوسرے یونٹ کا جوڑنا اور ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی کی ترسیل قوم کےلیے ایک بڑی خبر ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس منصوبے کے تیسرے یونٹ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائے گا۔</p>

<p>دوسری جانب واپڈا کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ اس منصوبے کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا گیا ہے اور دوسرے یونٹس سے آزمائشی بنیادوں پر نیشنل گرڈ کے ذریعے بجلی کی فراہمی کی جارہی ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ دوسرا یونٹس معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے ساتھ کام کر رہا ہے اور یہ 36 میگا واٹ تک کی بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ جنوری سے واپڈا کے مقامی انتظامات کے ذریعے منصوبے کا پہلا یونٹ چترال اور اس سے ملحقہ علاقوں کو بجلی کی فراہمی کر رہا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/136808/chitral-energy-saudia-sy">چترال میں ہائیڈرو پاور منصوبے کیلئے سعودی امداد</a></strong></p>

<p>ترجمان نے واضح کیا کہ اس منصوبے سے بجلی کے صارفین کو 3 کروڑ 30 لاکھ یونٹس فراہم کیے جاچکے ہیں جبکہ اس کا تیسرا اور آخری یونٹ بھی مکمل ہے، جسے جلد ہی نیشنل گرڈ سے جوڑ دیا جائے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ گولین گول منصوبہ چترال کے قریب دریائے مستوج کے اطراف قائم ہے اور یہ نیشنل گرڈ کو سالانہ 43 کروڑ 60 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کرے گا اور اس سے تقریبا 3ارب 70 کروڑ روپے سالانہ کی بچت کا بھی امکان ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 24 ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087651</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Sep 2018 10:10:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خالد حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5ba8718ec4b4f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5ba8718ec4b4f.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
