<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 04:08:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 04:08:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیا کپ: پاکستان کو بنگلہ دیش سے بھی شکست، فائنل سے باہر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087829/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایشیا کپ کے اہم میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے جنید خان کی بہترین کارکردگی پر پانی پھیرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مایوس کن کھیل پیش کیا اور بنگلہ دیش نے یہ میچ 37 رنز سے جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا جہاں ان کا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیمی فائنل میچ میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں یہ فیصلہ غلط نظر آرہا تھا تاہم مشفق الرحیم اور محمد متھن کے بعد مستفیض الرحمٰن سمیت دیگر باؤلرز نے کپتان کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایشیا کپ 2018 میں پہلی مرتبہ ٹیم کا حصہ بننے والے پاکستانی فاسٹ باؤلر جنید خان نے زبردست باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور بنگلہ دیش کے اوپنرز کو صرف 12 رنز پر پویلین بھیج دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/09/5bab93cebeb1c.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو:اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سومیا سرکار صفر پر آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز تھے جس کے بعد مومن الحق 5 اور لٹن داس 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہین شاہ آفریدی نے جنید خان کا ساتھ دیتے ہوئے دوسرے اینڈ سے مومن الحق کو بھی 12 کے اسکور پر آوٹ کیا تو بنگلہ دیشی ٹیم مشکلات کا شکار ہوچکی تھی تاہم چوتھی وکٹ میں بلے بازوں نے ذمہ دارنہ کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم نے محمد متھن کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کو مشکل سے نکال کر اچھی پوزیشن پر لا کھڑا کیا اور دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کرلیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد متھن نے 144 رنز کی شراکت قائم کرنے کر کے 156 کےمجموعے پر 60 رنز کی انفرادی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، انہیں حسن علی آؤٹ کیا جس کے بعد امرالقیس 9  رنز بنا آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/09/5bab820f33662.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو: اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو: اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشفق الرحیم نے شاندار کارکردگی دکھائی تاہم وہ صرف ایک رن کے فرق سے اپنی سنچری مکمل نہیں کرپائے اور 99 رنز بنا کر 197 کے مجموعے پر شاہین آفریدی کا شکار بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنید خان کو باؤلنگ کے ایک مرتبہ پھر واپس لایا گیا تو انہوں نے ایک اور کامیابی دلاتے ہوئے 12 رنز پر کھیلنے والے مہدی حسن میراز کو 221 کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا جس کے بعد 230 پر محمود اللہ کی وکٹیں بھی اڑا دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرفی مرتضیٰ اور روبیل حسین 239 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کی پوری ٹیم اسی مجموعے پر آؤٹ ہوچکی تھی یوں پاکستان کو مقررہ 50 اوورز میں 240 رنز کا ہدف مل گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے جنید خان نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، شاہین آفریدی اور حسن علی نے 2،2 اور شاداب خان نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلا نقصان پر فخر زمان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا جب انہوں نے پہلے ہی اوور میں مہدی حسن میراز کی گیند پر روبیل حسین کو کیچ دے دیا جس کے بعد اگلے اوور مستفیض الرحمٰن نے بابراعظم کو بھی آؤٹ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5babb5a070fa2.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو:اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کپتان سرفراز احمد ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور 18 کے مجموعے پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شعیب ملک نے امام الحق کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 67 رنز کا اضافہ کیا لیکن 85 کے مجموعے پر ایک اہم وقت میں وہ 30 رنز بنا کر روبیل حسین کو وکٹ دے بیٹھے جس کے بعد شاداب خان کو بھیج دیا گیا  جنہوں نے صرف 4 رنز بنائے اور 94 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آصف علی نے امام الحق کا بڑی حد تک ساتھ دیا اور 71 رنز کی ایک اچھی شراکت قائم کی مگر 31 رنز بنا کر 165 کے مجموعے پر آوٹ ہوئے جس کے بعد امام الحق بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5babcee615f02.jpg"  alt="&amp;mdash;فوٹو:اے پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—فوٹو:اے پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امام الحق کی مزاحمت 83 رنز بنا کر دم توڑ گئی جب ٹیم کا اسکور 167 رنز تھا جس کے بعد حسن علی بیٹنگ کے لیے آئے 8 بنا کر 181 کے اسکور پر مستفیض الرحمٰن کی گیند پر مشرفی مرتضیٰ کو کیچ تھمایا اور واپس چل دیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محمد نواز بھی ٹیم کے لیے کچھ نہ کر سکے اور صرف 8 رنز بنا کر مستفیض الرحمٰن کی وکٹ بن گئے جبکہ جنید خان اور شاہین آفریدی نے آخری وکٹ میں 16 رنز کا اضافہ کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان  نے ہدف کے تعاقب میں مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں پر 202 رنز بنائے اور یوں 37 رنز سے میچ ہار کر ایشیا کپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہین آفریدی 14 اور جنید خان نے آؤٹ ہوئے بغیر 3 رنز بنائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی جانب سے مستفیض الرحمٰن نے 4 وکٹیں حاصل کیں، مہدی حسن میراز نے 2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا میچ ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت سے مقابلے کے لیے نہایت اہم تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں پاکستان ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی، گزشتہ میچوں میں ناکام رہنے والے باؤلر محمد عامر کی جگہ جنید خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر بنگلہ دیش کی ٹیم کو آل راؤنڈر شکیب الحسن کی خدمات حاصل نہیں، وہ انجری کا شکار ہو کر اس اہم میچ سے باہر ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ٹیم&lt;/strong&gt; سرفراز احمد (کپتان)، فخر زمان، امام الحق، بابر اعظم، شعیب ملک، آصف علی، شادام خان، محمد نواز، حسن علی، جنید خان اور شاہین شاہ آفریدی پر مشتمل تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کی ٹیم&lt;/strong&gt; میں کپتان مشرفی مرتضیٰ، لٹن داس، سومیا سرکار، محمد متھن، مشفق الرحیم، مومن الحق، امر القیس، محمود اللہ، مہدی حسن میراز، روبیل حسین اور مستفیض الرحمٰن شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایشیا کپ کے اہم میچ میں پاکستانی بلے بازوں نے جنید خان کی بہترین کارکردگی پر پانی پھیرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مایوس کن کھیل پیش کیا اور بنگلہ دیش نے یہ میچ 37 رنز سے جیت کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا جہاں ان کا مقابلہ بھارت سے ہوگا۔</p>

<p>ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیمی فائنل میچ میں بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ابتدا میں یہ فیصلہ غلط نظر آرہا تھا تاہم مشفق الرحیم اور محمد متھن کے بعد مستفیض الرحمٰن سمیت دیگر باؤلرز نے کپتان کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔ </p>

<p>ایشیا کپ 2018 میں پہلی مرتبہ ٹیم کا حصہ بننے والے پاکستانی فاسٹ باؤلر جنید خان نے زبردست باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور بنگلہ دیش کے اوپنرز کو صرف 12 رنز پر پویلین بھیج دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/09/5bab93cebeb1c.jpg"  alt="&mdash;فوٹو:اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سومیا سرکار صفر پر آؤٹ ہونے والے پہلے بلے باز تھے جس کے بعد مومن الحق 5 اور لٹن داس 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>

<p>شاہین شاہ آفریدی نے جنید خان کا ساتھ دیتے ہوئے دوسرے اینڈ سے مومن الحق کو بھی 12 کے اسکور پر آوٹ کیا تو بنگلہ دیشی ٹیم مشکلات کا شکار ہوچکی تھی تاہم چوتھی وکٹ میں بلے بازوں نے ذمہ دارنہ کارکردگی دکھائی۔</p>

<p>بنگلہ دیش کے تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم نے محمد متھن کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کو مشکل سے نکال کر اچھی پوزیشن پر لا کھڑا کیا اور دونوں بلے بازوں نے اپنی نصف سنچریاں بھی مکمل کرلیں۔</p>

<p>محمد متھن نے 144 رنز کی شراکت قائم کرنے کر کے 156 کےمجموعے پر 60 رنز کی انفرادی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے، انہیں حسن علی آؤٹ کیا جس کے بعد امرالقیس 9  رنز بنا آؤٹ ہوئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/09/5bab820f33662.jpg"  alt="&mdash;فوٹو: اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو: اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مشفق الرحیم نے شاندار کارکردگی دکھائی تاہم وہ صرف ایک رن کے فرق سے اپنی سنچری مکمل نہیں کرپائے اور 99 رنز بنا کر 197 کے مجموعے پر شاہین آفریدی کا شکار بنے۔</p>

<p>جنید خان کو باؤلنگ کے ایک مرتبہ پھر واپس لایا گیا تو انہوں نے ایک اور کامیابی دلاتے ہوئے 12 رنز پر کھیلنے والے مہدی حسن میراز کو 221 کے مجموعے پر پویلین بھیج دیا جس کے بعد 230 پر محمود اللہ کی وکٹیں بھی اڑا دیں۔</p>

<p>مشرفی مرتضیٰ اور روبیل حسین 239 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کی پوری ٹیم اسی مجموعے پر آؤٹ ہوچکی تھی یوں پاکستان کو مقررہ 50 اوورز میں 240 رنز کا ہدف مل گیا۔</p>

<p>پاکستان کی جانب سے جنید خان نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں، شاہین آفریدی اور حسن علی نے 2،2 اور شاداب خان نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔</p>

<p>ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلا نقصان پر فخر زمان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا جب انہوں نے پہلے ہی اوور میں مہدی حسن میراز کی گیند پر روبیل حسین کو کیچ دے دیا جس کے بعد اگلے اوور مستفیض الرحمٰن نے بابراعظم کو بھی آؤٹ کردیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5babb5a070fa2.jpg"  alt="&mdash;فوٹو:اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کپتان سرفراز احمد ایک مرتبہ پھر ناکام رہے اور 18 کے مجموعے پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔</p>

<p>شعیب ملک نے امام الحق کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 67 رنز کا اضافہ کیا لیکن 85 کے مجموعے پر ایک اہم وقت میں وہ 30 رنز بنا کر روبیل حسین کو وکٹ دے بیٹھے جس کے بعد شاداب خان کو بھیج دیا گیا  جنہوں نے صرف 4 رنز بنائے اور 94 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہو گئے۔</p>

<p>آصف علی نے امام الحق کا بڑی حد تک ساتھ دیا اور 71 رنز کی ایک اچھی شراکت قائم کی مگر 31 رنز بنا کر 165 کے مجموعے پر آوٹ ہوئے جس کے بعد امام الحق بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/09/5babcee615f02.jpg"  alt="&mdash;فوٹو:اے پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—فوٹو:اے پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>امام الحق کی مزاحمت 83 رنز بنا کر دم توڑ گئی جب ٹیم کا اسکور 167 رنز تھا جس کے بعد حسن علی بیٹنگ کے لیے آئے 8 بنا کر 181 کے اسکور پر مستفیض الرحمٰن کی گیند پر مشرفی مرتضیٰ کو کیچ تھمایا اور واپس چل دیے۔</p>

<p>محمد نواز بھی ٹیم کے لیے کچھ نہ کر سکے اور صرف 8 رنز بنا کر مستفیض الرحمٰن کی وکٹ بن گئے جبکہ جنید خان اور شاہین آفریدی نے آخری وکٹ میں 16 رنز کا اضافہ کیا۔ </p>

<p>پاکستان  نے ہدف کے تعاقب میں مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں پر 202 رنز بنائے اور یوں 37 رنز سے میچ ہار کر ایشیا کپ کے فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔ </p>

<p>شاہین آفریدی 14 اور جنید خان نے آؤٹ ہوئے بغیر 3 رنز بنائے۔</p>

<p>بنگلہ دیش کی جانب سے مستفیض الرحمٰن نے 4 وکٹیں حاصل کیں، مہدی حسن میراز نے 2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا گیا میچ ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت سے مقابلے کے لیے نہایت اہم تھا۔</p>

<p>قبل ازیں پاکستان ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی، گزشتہ میچوں میں ناکام رہنے والے باؤلر محمد عامر کی جگہ جنید خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔</p>

<p>ادھر بنگلہ دیش کی ٹیم کو آل راؤنڈر شکیب الحسن کی خدمات حاصل نہیں، وہ انجری کا شکار ہو کر اس اہم میچ سے باہر ہوگئے تھے۔</p>

<p><strong>پاکستان کی ٹیم</strong> سرفراز احمد (کپتان)، فخر زمان، امام الحق، بابر اعظم، شعیب ملک، آصف علی، شادام خان، محمد نواز، حسن علی، جنید خان اور شاہین شاہ آفریدی پر مشتمل تھی۔ </p>

<p><strong>بنگلہ دیش کی ٹیم</strong> میں کپتان مشرفی مرتضیٰ، لٹن داس، سومیا سرکار، محمد متھن، مشفق الرحیم، مومن الحق، امر القیس، محمود اللہ، مہدی حسن میراز، روبیل حسین اور مستفیض الرحمٰن شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087829</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Sep 2018 01:10:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5babb3489621b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5babb3489621b.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5bab93b1ed15b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5bab93b1ed15b.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
