<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:14:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:14:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا کے جزیرے میں زلزلہ، سونامی سے کئی افراد لاپتہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1087990/</link>
      <description>&lt;p&gt;انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 7.5 شدت زلزلے کے بعد 1.5 میٹر اونچے سونامی کے نتیجے میں سینکڑوں گھر تباہ جبکہ کئی افراد لاپتہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی  اے پی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کی  ڈیزاسٹر ایجنسی  کے ترجمان سوتوپو پورونو گھورو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سونامی صوبہ سولاویسی کے دارالحکومت پالو اور ایک چھوٹے شہر ڈونگ گالا سے ٹکرایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ سولاویسی صوبے میں دو شہروں سے سونامی ٹکرانے کے  نتیجے میں کئی گھر تباہ،سینکڑوں خاندان لاپتہ ہیں جبکہ علاقے سے مواصلاتی رابطہ بھی معطل ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’ بجلی اور مواصلاتی روابط معطل ہونے سے متاثرہ علاقوں سے اطلاعات کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ramadhaniep/status/1045651327550812160"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سولاویسی میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس دوران شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں سے ایک کی شدت 6.7 تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084420"&gt;انڈونیشیا: جزیرہ لومبوک میں زلزلے سے 91 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا کی میٹریولوجی اور جیو فزکس ایجنسی کی سربراہ  دیوی کوریتا کارنواتی کا کہنا تھا کہ سونامی 1.5 میٹر ( 5 فٹ) اونچا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایک بڑے زلزلے کی وارننگ جاری کی گئی تھی جسے آدھے گھنٹے بعد  سونامی ختم ہوتے ہی ہٹادیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں پالو ایئرپورٹ پر زلزلے سے تباہی کے بعد فلائٹ آپریشن 24 گھنٹے کے لیے بند کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی معلومات کے مطابق وسطی سولاویسی میں جمعہ کی صبح 6.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ، 10 زخمی اور درجنوں گھر تباہ ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/zabinajafi/status/1045667329927868417"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سولاویسی جزیرے ہی کے شہر کینداری  کے رہائشی مرزا اریصم کا کہنا تھا کہ ان کے انکل سمیت خاندان کے پانچ افراد جن میں تین بچے بھی شامل تھے ، پالو کے علاقے میں چھٹیاں گزارنے آئے تھے، تاہم  سونامی کے بعد  سے کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب  ڈیزاسسٹر ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو گلیوں کی جانب دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، انہوں نے ایک تباہ شدہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کی تصویر بھی جاری کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1048579"&gt;انڈونیشیا: زلزلے کے بعد 84 ہزار افراد بے گھر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈونگ گالا کے رہائشی محمد فکری نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ’ میرے گھر میں موجود تمام اشیا جھول رہی تھیں اور زلزلے سے میرے گھر کی  دیوار میں دراڑ بھی آگئی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں آنے والے زلزلے سے 91 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 تھی جو 10 کلومیٹر زیر زمین آیا تھا جبکہ 2 درجن جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل دسمبر 2016 میں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں آنے والے 6.5 شدت کے زلزلے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زیرِزمین پلیٹس آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں، جس کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2004 میں انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا کے قریب آنے والے ایک زلزلے کے بعد سونامی کی وجہ سے ایک لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 7.5 شدت زلزلے کے بعد 1.5 میٹر اونچے سونامی کے نتیجے میں سینکڑوں گھر تباہ جبکہ کئی افراد لاپتہ ہوگئے۔</p>

<p>خبر ایجنسی  اے پی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کی  ڈیزاسٹر ایجنسی  کے ترجمان سوتوپو پورونو گھورو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ سونامی صوبہ سولاویسی کے دارالحکومت پالو اور ایک چھوٹے شہر ڈونگ گالا سے ٹکرایا تھا۔</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ سولاویسی صوبے میں دو شہروں سے سونامی ٹکرانے کے  نتیجے میں کئی گھر تباہ،سینکڑوں خاندان لاپتہ ہیں جبکہ علاقے سے مواصلاتی رابطہ بھی معطل ہوگیا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ’ بجلی اور مواصلاتی روابط معطل ہونے سے متاثرہ علاقوں سے اطلاعات کی فراہمی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ramadhaniep/status/1045651327550812160"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سولاویسی میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس دوران شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن میں سے ایک کی شدت 6.7 تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084420">انڈونیشیا: جزیرہ لومبوک میں زلزلے سے 91 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>انڈونیشیا کی میٹریولوجی اور جیو فزکس ایجنسی کی سربراہ  دیوی کوریتا کارنواتی کا کہنا تھا کہ سونامی 1.5 میٹر ( 5 فٹ) اونچا تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایک بڑے زلزلے کی وارننگ جاری کی گئی تھی جسے آدھے گھنٹے بعد  سونامی ختم ہوتے ہی ہٹادیا گیا تھا۔ </p>

<p>علاوہ ازیں پالو ایئرپورٹ پر زلزلے سے تباہی کے بعد فلائٹ آپریشن 24 گھنٹے کے لیے بند کردیا گیا ہے۔</p>

<p>ابتدائی معلومات کے مطابق وسطی سولاویسی میں جمعہ کی صبح 6.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق ، 10 زخمی اور درجنوں گھر تباہ ہوگئے تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/zabinajafi/status/1045667329927868417"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سولاویسی جزیرے ہی کے شہر کینداری  کے رہائشی مرزا اریصم کا کہنا تھا کہ ان کے انکل سمیت خاندان کے پانچ افراد جن میں تین بچے بھی شامل تھے ، پالو کے علاقے میں چھٹیاں گزارنے آئے تھے، تاہم  سونامی کے بعد  سے کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوپارہا۔</p>

<p>دوسری جانب  ڈیزاسسٹر ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو گلیوں کی جانب دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، انہوں نے ایک تباہ شدہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کی تصویر بھی جاری کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1048579">انڈونیشیا: زلزلے کے بعد 84 ہزار افراد بے گھر</a></strong></p>

<p>ڈونگ گالا کے رہائشی محمد فکری نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ’ میرے گھر میں موجود تمام اشیا جھول رہی تھیں اور زلزلے سے میرے گھر کی  دیوار میں دراڑ بھی آگئی ہے‘۔</p>

<p>گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے لومبوک میں آنے والے زلزلے سے 91 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے اور متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں تھیں۔</p>

<p>ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7 تھی جو 10 کلومیٹر زیر زمین آیا تھا جبکہ 2 درجن جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔</p>

<p>اس سے قبل دسمبر 2016 میں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں آنے والے 6.5 شدت کے زلزلے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>

<p>واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زیرِزمین پلیٹس آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں، جس کے باعث زلزلے اور آتش فشاں پھٹنے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔</p>

<p>2004 میں انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا کے قریب آنے والے ایک زلزلے کے بعد سونامی کی وجہ سے ایک لاکھ 70 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1087990</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Sep 2018 21:33:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/09/5bae55164cb1a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/09/5bae55164cb1a.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو : اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
