<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:34:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:34:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرضوں کے جال میں پھنسنے کا خدشہ، پاکستان کا سلک روڈ منصوبے پر غور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088122/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کے تحت نئے منصوبوں پر خدشات ہیں، تاہم چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1436109/wary-of-debt-trap-govt-rethinks-silk-road-projects"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان کو چین کے بی آر آئی کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے میں اس کی قیمت اور سرمایہ کاری کی شرائط پر خدشات ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے وزیرِاعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان منصوبوں میں مزاحمت دکھائی جارہی ہے، جبکہ عمران خان پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ بیرونی قرضے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، تاہم ملک کو غیر ملکی قرضوں کی عادت سے الگ کرنا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی، ترقیاتی و اصلاحاتی امور خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک ماڈل کس طرح تیار کرنا ہے تاکہ تمام خطرے کا سامنا حکومتِ پاکستان کو نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086752"&gt;’پاکستان سی پیک منصوبے کے معاہدوں پر نظرثانی کرے گا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتِ پاکستان چاہتی تھی کہ بی آر آئی منصوبے میں تمام معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، تاہم اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران چین کے ساتھ معاہدے احسن طریقے سے انجام نہیں پائے؛ یہ بہت مہنگے ہیں یا پھر اس میں زیادہ فائدہ چین کو دیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد کی بے چینی دیکھتے ہوئے بیجنگ نے صرف ان منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جو اب تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک بی آر آئی منصوبے میں کام جاری رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں، تاکہ جو منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ گئے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں اور جو ابھی جاری ہیں وہ آسانی کے ساتھ مکمل ہوسکیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان چین کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پُر عزم ہیں، تاہم اس میں قیمت اور گنجائش پر زور دیا جارہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083124"&gt;مالی بحران کے باعث سی پیک کے مختلف منصوبے تعطل کا شکار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں چین کے سفیر یو جنگ نے بتایا کہ بیجنگ اسلام آباد کی تجاویز پر معاہدے کی شقیں تبدیل کرنے کے لیے رضا مند ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ باہمی مشاورت کی بنیاد پر بی آر آئی منصوبے کے لیے چین نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرے گا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی سفیر نے واضح کیا کہ ’بیجنگ، اسلام آباد کے ساتھ ان ہی منصوبوں پر کام کرے گا جو وہ چاہتا ہے، کیونکہ یہ اس کی معیشت اور اس کا معاشرہ ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی کمزور معیشت کو چینی قرضوں سے سہارا دینے کے انحصار کی وجہ سے اسلام آباد کی بیجنگ کے منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی کوشش میں مشکلات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کے تحت نئے منصوبوں پر خدشات ہیں، تاہم چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1436109/wary-of-debt-trap-govt-rethinks-silk-road-projects"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستان کو چین کے بی آر آئی کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے میں اس کی قیمت اور سرمایہ کاری کی شرائط پر خدشات ہیں۔ </p>

<p>پاکستان کی جانب سے وزیرِاعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان منصوبوں میں مزاحمت دکھائی جارہی ہے، جبکہ عمران خان پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ بیرونی قرضے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، تاہم ملک کو غیر ملکی قرضوں کی عادت سے الگ کرنا ہے۔ </p>

<p>ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی، ترقیاتی و اصلاحاتی امور خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک ماڈل کس طرح تیار کرنا ہے تاکہ تمام خطرے کا سامنا حکومتِ پاکستان کو نہ کرنا پڑے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086752">’پاکستان سی پیک منصوبے کے معاہدوں پر نظرثانی کرے گا‘</a></strong></p>

<p>حکومتِ پاکستان چاہتی تھی کہ بی آر آئی منصوبے میں تمام معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، تاہم اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران چین کے ساتھ معاہدے احسن طریقے سے انجام نہیں پائے؛ یہ بہت مہنگے ہیں یا پھر اس میں زیادہ فائدہ چین کو دیا گیا ہے۔ </p>

<p>اسلام آباد کی بے چینی دیکھتے ہوئے بیجنگ نے صرف ان منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جو اب تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ </p>

<p>چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک بی آر آئی منصوبے میں کام جاری رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں، تاکہ جو منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ گئے ہیں وہ معمول کے مطابق جاری رہیں اور جو ابھی جاری ہیں وہ آسانی کے ساتھ مکمل ہوسکیں۔ </p>

<p>ادھر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان چین کی سرمایہ کاری کے حوالے سے پُر عزم ہیں، تاہم اس میں قیمت اور گنجائش پر زور دیا جارہا ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1083124">مالی بحران کے باعث سی پیک کے مختلف منصوبے تعطل کا شکار</a></strong></p>

<p>پاکستان میں چین کے سفیر یو جنگ نے بتایا کہ بیجنگ اسلام آباد کی تجاویز پر معاہدے کی شقیں تبدیل کرنے کے لیے رضا مند ہے۔ </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ باہمی مشاورت کی بنیاد پر بی آر آئی منصوبے کے لیے چین نئی حکومت کے ایجنڈے کی پیروی کرے گا‘۔ </p>

<p>چینی سفیر نے واضح کیا کہ ’بیجنگ، اسلام آباد کے ساتھ ان ہی منصوبوں پر کام کرے گا جو وہ چاہتا ہے، کیونکہ یہ اس کی معیشت اور اس کا معاشرہ ہے‘۔</p>

<p>پاکستان کی کمزور معیشت کو چینی قرضوں سے سہارا دینے کے انحصار کی وجہ سے اسلام آباد کی بیجنگ کے منصوبے کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی کوشش میں مشکلات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088122</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Oct 2018 12:23:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bb1aa523919b.jpg?r=1817640781" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bb1aa523919b.jpg?r=1650300594"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
