<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:52:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:52:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت 'آئی ایم ایف' کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088511/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ معاشی استحکام اور شرح نمو کو بہتر بنانے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کا سبب ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1437156/govt-ready-to-take-more-tough-steps-proposed-by-imf"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے 'آئی ایم ایف' کے وفد اور پاکستانی حکام کے مابین ایک ہفتے پر محیط حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات مثلاً روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا اور مالیاتی سختی کا خیر مقدم کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088431"&gt;آئی ایم ایف کا گیس، بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستانی حکومت کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک کو درپیش شدید مالی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے  ایکسچینج فلیکسبلیٹی میں اصلاحات کے ساتھ مالی اور مانیٹری پالیسیوں میں سختی، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ہونے والی اختتامی ملاقات میں آئی ایم ایف وفد نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پیداواری لاگت سے ہمکنار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ کمپنیاں اضافی آمدنی کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کے سامنے ایکسچینج ریٹ کے مکمل طور پر آزادانہ بہاؤ اور پالیسی ریٹ کو دگنا کرنے کے لیے اقتصادی بنیادوں پر مشتمل ایک نیا فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088198"&gt;آئی ایم ایف کا حکومت سے ریونیو میں اضافہ کرنے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں پیش کردہ مالیاتی اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیا اور مالی خسارہ 5.1 فیصد تک محدود کرنے کے لیے صوبائی آمدنیوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفد نے حکومت سے مزید سخت اقتصادی اقدامات مثلاً آمدنی میں اضافہ اور یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی مدد کے لیے باضابطہ درخواست کا فیصلہ نہیں کر سکی اور بظاہر اس فیصلے کو رواں ماہ کے اختتام تک موخر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں خاص کر 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی مہم کے نعروں میں کشکول توڑنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087940"&gt;آئی ایم ایف اور حکومت کے مابین مشاورت کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے مشیران اپنی اقتصادی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے وزیر اعظم کے قریبی افراد کا موقف یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پی ٹی آئی کے منشور میں پیش کردہ حکومتی حکمتِ عملی کی نفی ہوگا، چنانچہ بہتر ہے کہ اس سلسلے میں دوست ممالک سے مدد حاصل کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ معاشی استحکام اور شرح نمو کو بہتر بنانے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کا سبب ہوسکتا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1437156/govt-ready-to-take-more-tough-steps-proposed-by-imf">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے 'آئی ایم ایف' کے وفد اور پاکستانی حکام کے مابین ایک ہفتے پر محیط حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات مثلاً روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا اور مالیاتی سختی کا خیر مقدم کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088431">آئی ایم ایف کا گیس، بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ</a></strong> </p>

<p>تاہم آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستانی حکومت کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک کو درپیش شدید مالی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے  ایکسچینج فلیکسبلیٹی میں اصلاحات کے ساتھ مالی اور مانیٹری پالیسیوں میں سختی، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ہونے والی اختتامی ملاقات میں آئی ایم ایف وفد نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پیداواری لاگت سے ہمکنار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ کمپنیاں اضافی آمدنی کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں۔</p>

<p>اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کے سامنے ایکسچینج ریٹ کے مکمل طور پر آزادانہ بہاؤ اور پالیسی ریٹ کو دگنا کرنے کے لیے اقتصادی بنیادوں پر مشتمل ایک نیا فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088198">آئی ایم ایف کا حکومت سے ریونیو میں اضافہ کرنے کا مطالبہ</a></strong> </p>

<p>اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں پیش کردہ مالیاتی اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیا اور مالی خسارہ 5.1 فیصد تک محدود کرنے کے لیے صوبائی آمدنیوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔</p>

<p>وفد نے حکومت سے مزید سخت اقتصادی اقدامات مثلاً آمدنی میں اضافہ اور یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔</p>

<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی مدد کے لیے باضابطہ درخواست کا فیصلہ نہیں کر سکی اور بظاہر اس فیصلے کو رواں ماہ کے اختتام تک موخر کردیا گیا ہے۔</p>

<p>ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں خاص کر 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی مہم کے نعروں میں کشکول توڑنا بھی شامل ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087940">آئی ایم ایف اور حکومت کے مابین مشاورت کا آغاز</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے مشیران اپنی اقتصادی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔</p>

<p>اس حوالے سے وزیر اعظم کے قریبی افراد کا موقف یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پی ٹی آئی کے منشور میں پیش کردہ حکومتی حکمتِ عملی کی نفی ہوگا، چنانچہ بہتر ہے کہ اس سلسلے میں دوست ممالک سے مدد حاصل کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088511</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Oct 2018 09:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bb826a4138d2.jpg?r=1427897002" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bb826a4138d2.jpg?r=1393830298"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
