<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:07:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:07:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کیا ماڈل ٹاؤن سانحے میں دوسری جے آئی ٹی بنائی جاسکتی ہے؟‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088564/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے پنجاب حکومت، پنجاب ایڈووکیٹ جنرل اور پروسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کیس میں دوبارہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں سوال کیا گیا کہ ماڈل ٹاؤن سانحے پر پہلے ایک جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرا رکھی ہے، کیا قانونی طور پر اس ہی معاملے پر نئی جے آئی ٹی بنانا جائز ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماڈل ٹاؤن سانحے میں اپنی والدہ کو کھونے والی نوجوان لڑکی بسمہ کی درخواست پر سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087814"&gt;ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف، شہباز شریف کی طلبی کی درخواست خارج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طاہر القادری کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت پنجاب کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جاری کی گئی رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کیس میں ملزمان ہی اس وقت انتظامیہ کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جانب کے گواہ حکومتی دباؤ کی وجہ سے جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوسکے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے یک طرفہ گواہان کو سنا جو غیر امتیازی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085682"&gt;سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مطلوب افسران کو عہدے نہ دیئےجائیں، عوامی تحریک کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ قانونی طور پر جائز ہے کہ نئی جے آئی ٹی بنائی جائے جبکہ گزشتہ نے اپنی رپورٹ جمع کرا رکھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ایک سے زیادہ بار بنائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کے وکیل نے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سماعت کی وجہ سے کیس سے معذرت کرلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بینچ سے درخواست کی کہ ٹرائل کو ہفتے میں 2 مرتبہ کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے پنجاب حکومت، پنجاب ایڈووکیٹ جنرل اور پروسیکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ماڈل ٹاؤن کیس میں دوبارہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔</p>

<p>عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں سوال کیا گیا کہ ماڈل ٹاؤن سانحے پر پہلے ایک جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرا رکھی ہے، کیا قانونی طور پر اس ہی معاملے پر نئی جے آئی ٹی بنانا جائز ہے۔</p>

<p>ماڈل ٹاؤن سانحے میں اپنی والدہ کو کھونے والی نوجوان لڑکی بسمہ کی درخواست پر سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی۔</p>

<p>چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087814">ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف، شہباز شریف کی طلبی کی درخواست خارج</a></strong></p>

<p>عدالت میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ طاہر القادری بھی موجود تھے۔</p>

<p>طاہر القادری کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت پنجاب کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جاری کی گئی رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کیس میں ملزمان ہی اس وقت انتظامیہ کا حصہ تھے۔</p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جانب کے گواہ حکومتی دباؤ کی وجہ سے جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوسکے تھے۔</p>

<p>انہوں نے الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے یک طرفہ گواہان کو سنا جو غیر امتیازی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085682">سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مطلوب افسران کو عہدے نہ دیئےجائیں، عوامی تحریک کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ قانونی طور پر جائز ہے کہ نئی جے آئی ٹی بنائی جائے جبکہ گزشتہ نے اپنی رپورٹ جمع کرا رکھی ہے۔</p>

<p>عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی ایک سے زیادہ بار بنائی جاسکتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کے وکیل نے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سماعت کی وجہ سے کیس سے معذرت کرلی۔</p>

<p>انہوں نے بینچ سے درخواست کی کہ ٹرائل کو ہفتے میں 2 مرتبہ کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرلیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088564</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Oct 2018 01:06:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رانا بلالویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bb9124f6d935.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bb9124f6d935.jpg"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
