<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:47:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:47:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088831/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے سب سے بڑا 8 ارب ڈالر تک کا قرض حاصل کرنا چاہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آئی ایم ایف سخت شرائط رکھ سکتا ہے اور قرض کی سہولت 12 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، تاہم اضافی قرض کے حصول کے لیے پاکستان پر ان شرائط کو مکمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088511"&gt;حکومت 'آئی ایم ایف' کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر (8 اکتوبر) کی رات کو اس بات کی تصدیق کی تھی پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ  شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکیجز لے چکا ہے اور  اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکیج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف سے لیے گئے پچھلے پروگرواموں کا مقصد ’افراط زر کو نیچے لانا اور مالیاتی خسارے کو کم کرکے مستحکم سطح تک لانا تھا‘، اس کے علاوہ ’ زیادہ اور بہتر ترقی کے حصول میں مدد کے لیے اقدامات کرنا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب آئی ایم ایف ماہر معاشیات موریس اوبسفیڈ نے پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران کا ذکر کیا اور مالی مدد کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088734"&gt;’عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے پر قوم سے معافی مانگیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں کہ ایمرجنسی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کیا ردعمل دے گا تو اس پر انہوں نے کہا کہ ’ اچھے تعلقات والا ہر رکن فنڈ کے ذریعے مالی معاونت کی درخواست کا حقدار ہے، لہٰذا جب وہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کو بہت توجہ سے سنیں گے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں کئی مرتبہ پاکستان نے مسلسل پروگرامز حاصل کیے اور یہ ایک اچھی نشانی ہے جو آگے بڑھ رہی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 11 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے سب سے بڑا 8 ارب ڈالر تک کا قرض حاصل کرنا چاہے گا۔</p>

<p>سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آئی ایم ایف سخت شرائط رکھ سکتا ہے اور قرض کی سہولت 12 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، تاہم اضافی قرض کے حصول کے لیے پاکستان پر ان شرائط کو مکمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088511">حکومت 'آئی ایم ایف' کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر (8 اکتوبر) کی رات کو اس بات کی تصدیق کی تھی پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔</p>

<p>اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ  شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔</p>

<p>پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔</p>

<p>یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکیجز لے چکا ہے اور  اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکیج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔</p>

<p>آئی ایم ایف سے لیے گئے پچھلے پروگرواموں کا مقصد ’افراط زر کو نیچے لانا اور مالیاتی خسارے کو کم کرکے مستحکم سطح تک لانا تھا‘، اس کے علاوہ ’ زیادہ اور بہتر ترقی کے حصول میں مدد کے لیے اقدامات کرنا تھا‘۔</p>

<p>دوسری جانب آئی ایم ایف ماہر معاشیات موریس اوبسفیڈ نے پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران کا ذکر کیا اور مالی مدد کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088734">’عمران خان آئی ایم ایف کے پاس جانے پر قوم سے معافی مانگیں‘</a></strong></p>

<p>ایک سوال کے جواب میں کہ ایمرجنسی بیل آؤٹ پیکیج کے لیے پاکستان کی درخواست پر آئی ایم ایف کیا ردعمل دے گا تو اس پر انہوں نے کہا کہ ’ اچھے تعلقات والا ہر رکن فنڈ کے ذریعے مالی معاونت کی درخواست کا حقدار ہے، لہٰذا جب وہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کو بہت توجہ سے سنیں گے‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں کئی مرتبہ پاکستان نے مسلسل پروگرامز حاصل کیے اور یہ ایک اچھی نشانی ہے جو آگے بڑھ رہی ہے‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 11 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088831</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Oct 2018 15:30:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bbec6569b3ae.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bbec6569b3ae.jpg"/>
        <media:title>پاکستان پر شرائط کیلئے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
