<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:16:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:16:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی قرض کیلئے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے درخواست
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088850/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے ملک کی معیشت کو درپیش خطرات سے نکالنے کے لیے باضابطہ طور پر بیل آؤٹ پیکیج کےلیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رابطہ کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے باضابطہ طور پر مالی امداد کی درخواست دے دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088831"&gt;پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ درخواست انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کی سائڈلائن پر ہونے والی ملاقات میں وزیر خزانہ اسد عمر اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی جانب سے دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/IMFNews/status/1050295737244942336?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1050295737244942336&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1438309"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں مزید بتایا گیا کہ ’ آئی ایم ایف کی ٹیم آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے گی، جہاں آئی ایم ایف کی حمایت سے ممکنہ معاشی پروگرام پر بات چیت کا آغاز کیا جائے گا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سال 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہیں ملک کی معاشی صورتحال کو ابتر قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف سے قرض کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک کی اقتصادی حالت کو ابتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی خزانے کے لیے 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں 8 اکتوبر کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت نے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088674"&gt;حکومت کا بیل آؤٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان، آئی ایم ایف سے سب سے بڑا 8 ارب ڈالر تک کا قرض حاصل کرنا چاہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکیجز لے چکا ہے اور اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکیج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے ملک کی معیشت کو درپیش خطرات سے نکالنے کے لیے باضابطہ طور پر بیل آؤٹ پیکیج کےلیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے رابطہ کرلیا۔</p>

<p>آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے باضابطہ طور پر مالی امداد کی درخواست دے دی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088831">پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش</a></strong></p>

<p>انہوں نے بتایا کہ یہ درخواست انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس کی سائڈلائن پر ہونے والی ملاقات میں وزیر خزانہ اسد عمر اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی جانب سے دی گئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/IMFNews/status/1050295737244942336?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1050295737244942336&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1438309"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس حوالے سے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں مزید بتایا گیا کہ ’ آئی ایم ایف کی ٹیم آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے گی، جہاں آئی ایم ایف کی حمایت سے ممکنہ معاشی پروگرام پر بات چیت کا آغاز کیا جائے گا‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ رواں سال 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار میں آنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہیں ملک کی معاشی صورتحال کو ابتر قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف سے قرض کا عندیہ دیا تھا۔</p>

<p>اسد عمر نے اگست میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ملک کی اقتصادی حالت کو ابتر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی خزانے کے لیے 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔</p>

<p>بعد ازاں 8 اکتوبر کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت نے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے پاس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کی منظوری دی۔</p>

<p>اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔</p>

<p>پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088674">حکومت کا بیل آؤٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>دوسری جانب سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ ملک کے موجودہ بحرانوں کی وجہ سے معیشت کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے پاکستان، آئی ایم ایف سے سب سے بڑا 8 ارب ڈالر تک کا قرض حاصل کرنا چاہے گا۔</p>

<p>یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکیجز لے چکا ہے اور اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکیج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088850</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Oct 2018 15:29:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bbf1a162eca4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bbf1a162eca4.jpg"/>
        <media:title>وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے مصافحہ کرتے ہوئے— فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
