<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:13:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:13:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بین الصوبائی اختلافات ختم کرنے کیلئے قومی آبی کونسل کا اجلاس بلانے کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088960/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے پانی کے حوالے سے صوبوں کے درمیان تنازعات دور کرنے اور اس بارے میں ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں 'قومی آبی کونسل' کا پہلا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا جو رواں ماہ کے آخر میں منعقد کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1438695/national-water-council-to-mull-over-strategy-to-end-inter-provincial-rifts"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق رواں برس اپریل میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے منظور کردہ پہلی قومی آبی پالیسی کے تحت ملک میں پانی کے مسائل حل کرنے اور ذخائر کی تعمیر کے لیے ’قومی آبی کونسل‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم اس آبی کونسل کے دیگر اراکین میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزیر برائے آبی ذخائر، خزانہ، توانائی اور وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077796"&gt;پاکستان کی پہلی آبی پالیسی مشکلات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 5 آبی ماہرین، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ بھی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اجلاس میں کراچی کے لیے 12 سو کیوسک پانی مختص کرنے کے ساتھ  آبی شعبے کے مسائل اور مستقبل کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب سندھ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے کراچی کے 12 کیوسک پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا تو زیادہ تر اراکین خاص کر دیگر 3 صوبوں کے نمائندوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077473"&gt;مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ سندھ نے کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ماضی میں سندھ نے وفاقی دارالحکومت کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس سمجھوتے کے تحت اشتراک کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ کراچی کی پانی کی ضرورت دیگر صوبے مل کر پوری کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم وزیراعلیٰ سندھ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے نمائندہ پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات ریکارڈ پر موجود نہیں جو اس دعوے کو ثابت کر سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے بھی اپنے حصے میں سے کراچی کو پانی دینے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، اس تمام تنازع  پر وزیر برائے صوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے یہ مسئلہ قومی آبی کونسل کے سپرد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085782"&gt;پاکستان کس طرح قیمتی پانی ضائع کرتا ہے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آبی کونسل کے اجلاس میں قومی آبی پالیسی کے قیام سے اب تک اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور پانی کے شعبے کے مسائل اور چیلنجز کے ساتھ ساتھ پانی سے متعلق صوبائی تنازعات کے حل کے بارے میں غور کرنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ قومی آبی پالیسی کے مطابق ملک میں تقریباً 46 ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے، جسے نہروں اور آبی ذخائر کی مدد سے  سال 2030 تک کم از کم 33 فیصد کم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ آبپاشی میں ڈرپ اور چھڑکاؤ کی جدید اور بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے 2030 تک پانی استعمال کرنے کی صلاحیت میں 30 فیصد اضافہ اور استعمال کے مطابق اس کی قیمت مقرر کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے پانی کے حوالے سے صوبوں کے درمیان تنازعات دور کرنے اور اس بارے میں ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں 'قومی آبی کونسل' کا پہلا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا جو رواں ماہ کے آخر میں منعقد کیا جائے گا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1438695/national-water-council-to-mull-over-strategy-to-end-inter-provincial-rifts">رپورٹ</a></strong> کے مطابق رواں برس اپریل میں مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے منظور کردہ پہلی قومی آبی پالیسی کے تحت ملک میں پانی کے مسائل حل کرنے اور ذخائر کی تعمیر کے لیے ’قومی آبی کونسل‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>وزیر اعظم کی سربراہی میں قائم اس آبی کونسل کے دیگر اراکین میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی وزیر برائے آبی ذخائر، خزانہ، توانائی اور وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی شامل ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077796">پاکستان کی پہلی آبی پالیسی مشکلات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے؟</a></strong> </p>

<p>اس کے علاوہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 5 آبی ماہرین، وزیر اعظم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ بھی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق اجلاس میں کراچی کے لیے 12 سو کیوسک پانی مختص کرنے کے ساتھ  آبی شعبے کے مسائل اور مستقبل کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>

<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب سندھ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے کراچی کے 12 کیوسک پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا تو زیادہ تر اراکین خاص کر دیگر 3 صوبوں کے نمائندوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077473">مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری</a></strong></p>

<p>وزیر اعلیٰ سندھ نے کونسل کو آگاہ کیا تھا کہ ماضی میں سندھ نے وفاقی دارالحکومت کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اس سمجھوتے کے تحت اشتراک کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ کراچی کی پانی کی ضرورت دیگر صوبے مل کر پوری کریں گے۔</p>

<p>تاہم وزیراعلیٰ سندھ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے نمائندہ پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی بات ریکارڈ پر موجود نہیں جو اس دعوے کو ثابت کر سکے۔</p>

<p>اس کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے بھی اپنے حصے میں سے کراچی کو پانی دینے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، اس تمام تنازع  پر وزیر برائے صوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے یہ مسئلہ قومی آبی کونسل کے سپرد کردیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085782">پاکستان کس طرح قیمتی پانی ضائع کرتا ہے</a></strong></p>

<p>ذرائع کے مطابق آبی کونسل کے اجلاس میں قومی آبی پالیسی کے قیام سے اب تک اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور پانی کے شعبے کے مسائل اور چیلنجز کے ساتھ ساتھ پانی سے متعلق صوبائی تنازعات کے حل کے بارے میں غور کرنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ قومی آبی پالیسی کے مطابق ملک میں تقریباً 46 ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے، جسے نہروں اور آبی ذخائر کی مدد سے  سال 2030 تک کم از کم 33 فیصد کم کرنا ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ آبپاشی میں ڈرپ اور چھڑکاؤ کی جدید اور بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے 2030 تک پانی استعمال کرنے کی صلاحیت میں 30 فیصد اضافہ اور استعمال کے مطابق اس کی قیمت مقرر کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088960</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Oct 2018 10:04:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc1656b3f96c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc1656b3f96c.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
