<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 08:10:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 08:10:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی پارک، ریگولیٹری باڈی بنانے پر کام جاری ہے، وفاقی وزیر
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088969/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کی تعلیم کے لیے ایک ریگولیٹری باڈی بنانے پر کام جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ٹی کی تعلیم سے متعلق اس نئے ادارے کے پاس تعلیمی معیار کو وضع کرنے اور ملازمتوں کی صلاحیت کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ  یہ بالکل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرح کام کرے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اتھارٹی آئی ٹی کے نصاب کو جامعات میں بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی کوش کرے گی تاکہ پاکستان اور بین الاقوامی طالب علموں کے درمیان فرق ختم ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وزیرِ برائے ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کی تقرری پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ان کے پاس یہ وزارت سنبھالنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084930"&gt;71 سالوں میں پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کہاں پہنچا؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ بحث بے وجہ ہے کیونکہ کئی وزرا بنیادی طور پر اپنی وزارتوں میں ماہر نہیں ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میری بھی یہی خواہش تھی کہ وزارت کسی ایسے شخص کے پاس جانی چاہیے جو اس میں ماہر ہو، تاہم یہ صرف سیاسی تصفیہ کے طور پر لینی پڑی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان ایشیائی خطے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت پہچھے ہے، جس کی مثال فلپائن سے دے جاسکتی ہے جو 10 کروڑ 30 لاکھ لوگوں پر مشتمل ہے لیکن اس کی آئی ٹی اور الیکٹرونکس میں رواں مالی سال کے دوران برآمدات 30 ارب ڈالر رہیں جبکہ پاکستان اس شعبے میں صرف ایک ارب ڈالر کی برآمدات کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیرِ آئی ٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات کا ہندسہ 5 ارب ڈالر تک ہے، تاہم ملک میں ادائیگی کے راستے کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر برآمدات متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے کی جاتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086869"&gt;2019 پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کی آمد کا سال&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے وزارت خارجہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے، تاہم امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پالیسی ساز عالمی ادائیگی کے اداروں کو پاکستان لانے کے خواہش مند ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے قلیل مدتی ترجیحات میں تعلیمی نظام میں بہتری لانا، رقم کی ادائیگی کرنے والی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح ایک ’سلیکون ویلی‘ جیسے آئی ٹی کے مرکز کی ضرورت ہے، جہاں آبادی تعلیم اور مواقع زیادہ ہوں، اور ایسے میں کراچی قدرتی طور پر ایک بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی میں آئی ٹی پارک کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کی جگہ کے تعین کے لیے بات چیت جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق بھی کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس سے متعلق ابھی بریفنگ دی گئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 13 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر برائے ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کی تعلیم کے لیے ایک ریگولیٹری باڈی بنانے پر کام جاری ہے۔ </p>

<p>آئی ٹی کی تعلیم سے متعلق اس نئے ادارے کے پاس تعلیمی معیار کو وضع کرنے اور ملازمتوں کی صلاحیت کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا اختیار ہوگا جبکہ  یہ بالکل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی طرح کام کرے گا۔ </p>

<p>ڈان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اتھارٹی آئی ٹی کے نصاب کو جامعات میں بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی کوش کرے گی تاکہ پاکستان اور بین الاقوامی طالب علموں کے درمیان فرق ختم ہوجائے۔</p>

<p>واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وزیرِ برائے ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی کی تقرری پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ان کے پاس یہ وزارت سنبھالنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084930">71 سالوں میں پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کہاں پہنچا؟</a></strong></p>

<p>تاہم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر یہ بحث بے وجہ ہے کیونکہ کئی وزرا بنیادی طور پر اپنی وزارتوں میں ماہر نہیں ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ میری بھی یہی خواہش تھی کہ وزارت کسی ایسے شخص کے پاس جانی چاہیے جو اس میں ماہر ہو، تاہم یہ صرف سیاسی تصفیہ کے طور پر لینی پڑی۔ </p>

<p>پاکستان ایشیائی خطے میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت پہچھے ہے، جس کی مثال فلپائن سے دے جاسکتی ہے جو 10 کروڑ 30 لاکھ لوگوں پر مشتمل ہے لیکن اس کی آئی ٹی اور الیکٹرونکس میں رواں مالی سال کے دوران برآمدات 30 ارب ڈالر رہیں جبکہ پاکستان اس شعبے میں صرف ایک ارب ڈالر کی برآمدات کیں۔</p>

<p>وزیرِ آئی ٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی برآمدات کا ہندسہ 5 ارب ڈالر تک ہے، تاہم ملک میں ادائیگی کے راستے کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر برآمدات متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے کی جاتی ہیں۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086869">2019 پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کی آمد کا سال</a></strong></p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے وزارت خارجہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے، تاہم امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پالیسی ساز عالمی ادائیگی کے اداروں کو پاکستان لانے کے خواہش مند ہیں۔ </p>

<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے قلیل مدتی ترجیحات میں تعلیمی نظام میں بہتری لانا، رقم کی ادائیگی کرنے والی کمپنیوں کو سہولت فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ </p>

<p>ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارت کی طرح ایک ’سلیکون ویلی‘ جیسے آئی ٹی کے مرکز کی ضرورت ہے، جہاں آبادی تعلیم اور مواقع زیادہ ہوں، اور ایسے میں کراچی قدرتی طور پر ایک بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی میں آئی ٹی پارک کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کی جگہ کے تعین کے لیے بات چیت جاری ہے۔ </p>

<p>وفاقی وزیر نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق بھی کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس سے متعلق ابھی بریفنگ دی گئی ہے۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 13 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088969</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Oct 2018 12:31:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc18720b8525.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc18720b8525.png?0.9188971329837596"/>
        <media:title>وفاقی وزیر برائے ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی — فوٹو، فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
