<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:47:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:47:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کی طویل ترین پرواز کرنے والا جہاز امریکا پہنچ گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088980/</link>
      <description>&lt;p&gt;سنگاپور سے اڑان بھرنے والا ایک جہاز تقریباً 18 گھنٹوں کی دنیا کی طویل ترین پرواز مکمل کرنے کے بعد امریکا میں لینڈ کرگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کی طویل ترین پرواز کو 2013 میں ختم ہونے والے روٹ کی بحالی سے منسوب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگاپور ائرلائنز کی پرواز ایس کیو22 مقامی وقت کے مطابق صبح کے 5 بج کر 29 منٹ پر پہنچی جو سنگاپور کے چانگی ائرپورٹ سے 11 اکتوبر کو رات 11 بجے روانہ ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کی طویل ترین پرواز 17 گھنٹے اور 52 منٹ پر مشتمل تھی جبکہ پرواز کو شیڈول کے مطابق 18 گھنٹے اور25 منٹ میں پہنچنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہاز میں 150 مسافروں اور عملے کے 17 اراکین بھی شامل تھے جنہوں نے 10 ہزار 250 میل (16 ہزار500 کلومیٹر) کا فاصلہ بغیر کسی وقفے کے طے کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ مسافر کرسٹوفر الیدن کا کہنا تھا کہ ‘میں نے آرام محسوس کیا، میں خوش قسمت ہوں کیونکہ میں جہاز میں سو پایا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیویارک سے سنگاپور کا سفر اس سے بھی طویل ترین ہوگا جو 18 گھنٹے اور 45 منٹ پر مشتمل ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگاپور ائرلائنز میں صرف پریمیم اکانومی اور بزنس سیٹس کی سہولت ہے جو عام مسافروں کے لیے نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیڈا کے شہری کا کہنا تھا کہ ‘گوکہ آپ پریمیم کلاس میں ہوتے ہیں اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ فرسٹ کلاس میں ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیویارک پہنچنے کے بعد سنگاپور سے تعلق رکھنے والے پرجوش مسافر اور انجینئر ڈینی اونگ کا کہنا تھا کہ ‘پرواز شاندار اور آرام دہ تھی اور بہت جلد ختم ہوئی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘پرواز نے اڑان بھرتے ہی ہمیں تین زبردست سہولتیں میسر تھیں، میں فوراً سوگیا تھا، جاگنے کے بعد احساس ہوا کہ ہمیں مزید 8 گھنٹے سفر کرنا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈینی اونگ نے نیویارک پہنچتے ہی فوری طور پر سنگاپور واپسی کی پرواز بھی لی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;em&gt;یہ خبر 13 اکتوبر کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/em&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سنگاپور سے اڑان بھرنے والا ایک جہاز تقریباً 18 گھنٹوں کی دنیا کی طویل ترین پرواز مکمل کرنے کے بعد امریکا میں لینڈ کرگیا۔</p>

<p>دنیا کی طویل ترین پرواز کو 2013 میں ختم ہونے والے روٹ کی بحالی سے منسوب کیا گیا ہے۔</p>

<p>سنگاپور ائرلائنز کی پرواز ایس کیو22 مقامی وقت کے مطابق صبح کے 5 بج کر 29 منٹ پر پہنچی جو سنگاپور کے چانگی ائرپورٹ سے 11 اکتوبر کو رات 11 بجے روانہ ہوئی تھی۔</p>

<p>دنیا کی طویل ترین پرواز 17 گھنٹے اور 52 منٹ پر مشتمل تھی جبکہ پرواز کو شیڈول کے مطابق 18 گھنٹے اور25 منٹ میں پہنچنا تھا۔</p>

<p>جہاز میں 150 مسافروں اور عملے کے 17 اراکین بھی شامل تھے جنہوں نے 10 ہزار 250 میل (16 ہزار500 کلومیٹر) کا فاصلہ بغیر کسی وقفے کے طے کیا۔</p>

<p>کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ مسافر کرسٹوفر الیدن کا کہنا تھا کہ ‘میں نے آرام محسوس کیا، میں خوش قسمت ہوں کیونکہ میں جہاز میں سو پایا’۔</p>

<p>نیویارک سے سنگاپور کا سفر اس سے بھی طویل ترین ہوگا جو 18 گھنٹے اور 45 منٹ پر مشتمل ہوگا۔</p>

<p>سنگاپور ائرلائنز میں صرف پریمیم اکانومی اور بزنس سیٹس کی سہولت ہے جو عام مسافروں کے لیے نہیں ہے۔</p>

<p>کینیڈا کے شہری کا کہنا تھا کہ ‘گوکہ آپ پریمیم کلاس میں ہوتے ہیں اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ فرسٹ کلاس میں ہیں’۔</p>

<p>نیویارک پہنچنے کے بعد سنگاپور سے تعلق رکھنے والے پرجوش مسافر اور انجینئر ڈینی اونگ کا کہنا تھا کہ ‘پرواز شاندار اور آرام دہ تھی اور بہت جلد ختم ہوئی’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘پرواز نے اڑان بھرتے ہی ہمیں تین زبردست سہولتیں میسر تھیں، میں فوراً سوگیا تھا، جاگنے کے بعد احساس ہوا کہ ہمیں مزید 8 گھنٹے سفر کرنا ہے’۔</p>

<p>ڈینی اونگ نے نیویارک پہنچتے ہی فوری طور پر سنگاپور واپسی کی پرواز بھی لی۔</p>

<hr />

<p><strong><em>یہ خبر 13 اکتوبر کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</em></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088980</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Oct 2018 14:00:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc1b262a1641.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc1b262a1641.png"/>
        <media:title>—فائل/فوٹو:ڈٓان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
