<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 11 Jun 2026 17:40:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 17:40:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دیوسائی کا دیومالائی حسن
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1088997/</link>
      <description>&lt;h1 id='5be03706e5e15'&gt;&lt;div style= "color: #5D0166; text-align: center;" markdown="1"&gt;دیوسائی کا دیومالائی حسن&lt;/div&gt;&lt;/h1&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2535"&gt;عظمت اکبر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا نے پاکستان کو فطری حسن کی تمام رعنائیاں بخشی ہیں۔ صحراؤں سے میدانوں اور دریاؤں سے بلند و بالا چوٹیوں تک ہر ایک کی اپنی ہی ایک منفرد خوبصورتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملکِ پاکستان میں واقع ایک ایسا ہی جنت نظیر مقام کا رختِ سفر باندھا۔ منزل تو کیا راستہ ہی آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہے، نیلا کھلا آسمان، آوارہ بادل، پیش وخم سے راستے کسی طلسماتی دیس میں ہونے کا گمان پیدا کرتے ہیں۔ آنکھوں کو تازگی اور سماعتوں میں رس گھولتے نیلگوں بہتے پانی کی مدھر آواز آپ کی ہم سفر ہوتی ہے۔ یہ مقام ہے دیوسائی، جسے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کم و بیش ہر سال ہی اسکردو اور ہنزہ کی طرف جانا ہوتا ہے، لیکن برف کی وجہ سے ہمیشہ ہی دیوسائی کو جانے والے راستے بند ملے اور یوں دنیا کے اس دوسرے بڑے اونچے میدان/پلیٹو کے دلفریب مناظر سے محظوظ ہونے کا موقع نہ ملا سکا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1b77aba.jpg"  alt="نیلگوں بہتے پانی کی گفتگو اور دنیا کی چھت کہلانے والی دیوسائی&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نیلگوں بہتے پانی کی گفتگو اور دنیا کی چھت کہلانے والی دیوسائی—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c20e5bac.jpg"  alt="دیوسائی کے گوناگوں رنگ&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دیوسائی کے گوناگوں رنگ—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;14 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دیوسائی کا شمار دنیا کا تبت کے بعد سطح مرتفع پر بلند ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3 ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ دیوسائی اسکردو سے ڈیڑھ گھنٹے اور استور سے تقریباً 5 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں وسیع و غریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف پوش رہتے ہیں، اور اس وقت بھی وہاں یہی صورتحال ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیوسائی کراس کرنے کے لیے سب سے اچھا وقت جولائی اور اگست ہے، کیونکہ ان دنوں میں یہ پلیٹو لش سبزے اور رنگ برنگے خوبصورت پھولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سال 5 اگست کو ایک گروپ کے ساتھ ہنزہ ٹرپ کے بعد 11 اگست کو واپسی پر ناران ہی ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کچھ دوستوں کے ساتھ استور کے راستے دیوسائی اور پھر اسکردو جانے کا پروگرام بنایا۔ چونکہ 14 اگست قریب تھا اس لیے جشن آزادی ناران میں ہی منانے کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c25c4adf.jpg"  alt="قراقرم اور کوہِ ہمالیہ کے دامن میں وسیع وعریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;قراقرم اور کوہِ ہمالیہ کے دامن میں وسیع وعریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c11c0009.jpg"  alt="رات کے قیام کا فیصلہ راما جھیل کے آغوش میں لگائے کیمپس میں کیا گیا&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;رات کے قیام کا فیصلہ راما جھیل کے آغوش میں لگائے کیمپس میں کیا گیا—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران میں نے اپنے بچپن کے دوست اور دودی پت سر جھیل ٹریک کے ساتھی ملک سجاد مہمند کو بھی بلالیا۔ 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ناران میں زبردست آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے اور اگلے دن لالازار کے سبزہ زاروں کی سیر کے بعد 15 اگست کو ہم 2 گاڑیوں پر سوار ہو کر استور اور راما کے لیے روانہ ہوگئے۔ چونکہ راما جھیل کے مقام پر رات بسر کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اسی لیے سب نے 8 سے 9 گھنٹوں پر مشتمل سفر کے لیے خود کو تیار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہماری گاڑیوں میں ایک جیپ اور ایک کرولا شامل تھی، ہم میں سے 4 لوگ لوکل جیپ میں سوار تھے، لیکن بابو سر ٹاپ پر شدید سردی کے بعد چیلاس کی شدید گرمی اور گرد و غبار نے ہمارا بُرا حال کردیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رائے کوٹ کا پُل کراس کرتے ہی شاہراہ قراقرم کی کارپیٹڈ سڑک، سنگلاخ ہمالیہ و ہندوکش کے پہاڑی سلسلے اور پورے آن بان سے بہتے دریائے سندھ کے مناظر نے سفر کا لطف دوبالا کردیا۔ اب موسم بھی قدرے بہتر ہوچکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد قراقرم ہائی وے سے ہم استور کو جاتے راستے کی طرف مڑ گئے، یہاں سے استور شہر تک ہمیں مزید 44 کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;استور کو جاتی سڑک پر جگہ جگہ کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے سڑک ٹوٹ کا پھوٹ کا شکار تھی، یہی وجہ تھی کہ سفر مزید 2 گھنٹے طویل ہوگیا اور ہم دوپہر 2 بجے کے قریب ڈاشکن کے مقام پر پہنچے جہاں نمازِ ظہر اور کھانے کے لیے کچھ دیر قیام کیا۔ یہاں سے استور کا فاصلہ مزید تقریباً 23 کلومیٹر تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c142ccc9.jpg"  alt="ڈاشکن کا وہ مقام جہاں پر موجود چشمہ ہوٹل سیاحوں کو طعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ استور کا سفر یہاں سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ڈاشکن کا وہ مقام جہاں پر موجود چشمہ ہوٹل سیاحوں کو طعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ استور کا سفر یہاں سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c209e5ba.jpg"  alt="بلند و بالا اور وسیع و عریض چراگاہوں اور میدانوں کی سرزمین استور ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہے" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بلند و بالا اور وسیع و عریض چراگاہوں اور میدانوں کی سرزمین استور ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;45 منٹ کے مزید سفر کے بعد دنیا کے بلند ترین چراگاہوں (pastures) کی سرزمین استور نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ سطح سمندر سے 2600 میٹر (8500) فٹ بلندی پر واقع وادئ استور کو 2004ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل یہ علاقہ دیامبر ضلع کا حصہ تھا۔ یہاں سے قراقرم ہائی وے 44 کلومیٹر دور ہے جبکہ اسکردو شہر سے براستہ دیوسائی 95 کلومیٹر، اور جگلوٹ سے براستہ اسکردو 135 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد یہاں پہنچا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں استور کو سیاحتی اعتبار سے ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی مشہور چوٹی نانگا پربت کے 2 رخ اس ضلع میں واقع راما اور ترشنگ گاؤں کی وادئ روفل سے نظر آتے ہیں اور ان دونوں مقامات کی خوبصورتی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بروغل پاس اور پاک بھارت سرحد پر واقع آخری خوبصورت گاؤں منی مرگ اور دیوسائی دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ راما جھیل، ریمبو جھیل اور شیوسر جھیل یہاں کی مشہور جھیلیں ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1669a5e.jpg"  alt="وادی روپل، منی مرگ، راما اور دیوسائی یہاں کے خوبصورت مقامات ہیں&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وادی روپل، منی مرگ، راما اور دیوسائی یہاں کے خوبصورت مقامات ہیں—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1f0bd4f.jpg"  alt="شہر کے کلمہ چوک سے راما جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے &amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شہر کے کلمہ چوک سے راما جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے —تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہر پہنچتے ہی طوفان نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی، گردوغبار نے ہمیں تقریبا 15 منٹ تک جیپ میں ہی مقید رکھا۔ 2 دوستوں نے گاڑی سے اُتر کر مقامی لوگوں سے رہنمائی حاصل کی کہ آیا چلم چوکی کا سفر جاری رکھا جائے یا راما ہی میں رات گزاری جائے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی لوگوں کے مشورے اور کچھ دیر کلمہ چوک میں فوٹوگرافی کے بعد ہم راما میڈوز کو جاتی سڑک پر رواں دواں تھے۔ یہاں سے راما گاؤں 7 کلومیٹر دور ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم نہایت ہی خوبصورت وادی میں تھے اور ہمارے سامنے بلند و بالا نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے اپنی بلندیوں پر نازاں دکھائی دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c12082ab.jpg"  alt="نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے ہوئے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے ہوئے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1887e45.jpg"  alt="راما سرسبز لہلہاتے کھیتوں اور پھولوں پر مشتمل ایک وادی کا نام ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راما سرسبز لہلہاتے کھیتوں اور پھولوں پر مشتمل ایک وادی کا نام ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راما کے بارے میں نوجوان سفرنامہ نگار محمد احسن کے مطابق، کسی زمانے میں جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین ایک قدیم راستہ موجود تھا جو استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078441/"&gt;نوری جھیل؛ جس کو دریافت کرنا تمام خوشیوں سے بڑھ کر لگا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ راستہ آج بھی موجود ہے مگر کشمیر کا بیشتر حصہ ہندوستانی قبضے میں ہونے کی وجہ سے زیرِ استعمال نہیں۔ اس دور میں گلگت بلتستان بھی کشمیر کا حصہ ہوتا تھا۔ اگر کشمیر آزاد ہوجائے تو گلگت بلتستان لداخ سمیت خودکار طریقے سے دوبارہ کشمیر ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُنہی پرانے وقتوں کی بات ہے کہ جب ہندو تاجر اور راہب استور سے گزرتے تھے تو مزید بلندی پر موجود نانگا پربت بیس کیمپ بھی جایا کرتے تھے۔ اُنہی تاجروں اور راہبوں میں زبردست اہلِ دل اور اہلِ فطرت بھی موجود ہوتے تھے۔ جب وہ نانگا پربت کا آفاقی حُسن دیکھتے تھے تو اُنہیں اُسی طرح "رام" یاد آتا تھا جیسے ہمیں یہاں "اللہ" یاد آیا ہے۔ انہوں نے اس علاقے کو سیدھا سیدھا اسٹریٹ اوے "راما" نام دے دیا۔ اسی سے راما میڈوز اور راما جھیل نام مشہور ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c13f17e8.jpg"  alt="جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین جو قدیم راستہ موجود تھا وہ استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین جو قدیم راستہ موجود تھا وہ استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1c2bb8c.jpg"  alt="راما میڈوز میں سیاحوں کی رہائش کے لیے لگائے گئے کیمپس کا ایک منظر&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راما میڈوز میں سیاحوں کی رہائش کے لیے لگائے گئے کیمپس کا ایک منظر—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شام ہوچکی تھی اور تھکاوٹ سے بُرا حال بھی تھا، اسی لیے راما میڈوز کے آغاز میں واقع کیمپنگ ہوٹل میں رات بسر کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ کل 9 افراد کے لیے ہم نے 5 خیمے کرائے پر حاصل کیے، جو کہ انتہائی مناسب کرایوں میں مل گئے۔ سامان رکھنے اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد ہم نے گھریلو اسٹائل اور بغیر مرچ مصالحوں کے چکن کے سالن کا آڈر دیا۔ سالن کو تیار ہونے میں وقت تھا اس لیے ہم جنگل کے درمیان لگے ان کیمپس سے باہر فطرت کے فن پاروں کے پیش و خم دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوڑی دیرمیں سالن تیار ہوگیا، بدقسمتی سے کک مصالحوں کے ساتھ ساتھ نمک ڈالنا بھی بھول گیا تھا۔ بغیر نمک کے سالن &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086166/"&gt;&lt;strong&gt;فلپائن کے کھانوں  کی یاد تازہ کر رہا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھانے کی میز پر ہی اگلے دن کی منصوبہ بندی کی گئی اور علی الصبح سورج نکلنے سے پہلے ناشتہ کیے بغیر راما جھیل کا رخ کرنے اور واپسی پر ناشتہ کرنے کا پروگرام فائنل ہوا اور گروپ کے تمام افراد کو جلدی سونے کا کہا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0fac90a.jpg"  alt="راما میڈوز کے آغاز میں لگائے گئے عارضی خیمہ ہوٹل، جہاں ہم نے رات بسر کی &amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راما میڈوز کے آغاز میں لگائے گئے عارضی خیمہ ہوٹل، جہاں ہم نے رات بسر کی —تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن ابھی لیٹے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے شینے زبان کی مقامی موسیقی سنائی دینے لگی۔ یہ گلگت یونیورسٹی سے آئے ہوئے  طالب علموں کا ایک گروپ تھا جو مقامی موسیقی پر روایتی رقص کر رہے تھے۔ کچھ دیر خیمے میں سونے کی ناکام کوشش کی لیکن موسیقی، ساز آواز اور تالیوں کی گونج نے نیند کو میرے قریب نہیں بھٹکنے دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ باہر ان کے روایتی رقص کو دیکھنے کے لیے خیمے سے باہر آگیا۔ باہر جاکر کیا دیکھتا ہوں کہ باہر آنے والوں میں، مَیں اپنے گروپ کا آخری فرد ہوں ورنہ باقی سارے تو پہلے ہی دائرے کی شکل میں کرسیوں پر براجمان ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رات دیر تک گلگت اور راما کے مقامی لوگوں نے موسیقی کی اس محفل کو خوب جمائے رکھا۔ رات کا ایک بجا تو موسیقی کا سلسلہ بھی تھم گیا اور ہم دوبارہ خیموں میں چلے گئے۔ خدا خدا کرکے آخر نیند آہی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1adb3ca.jpg"  alt="صبح سویرے جب خیمے سے باہر جھانکا تو یہ سامنے یہ منظر تھا&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;صبح سویرے جب خیمے سے باہر جھانکا تو یہ سامنے یہ منظر تھا—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صبح سویرے ہم سبھی جاگ گئے، ابھی وضو کے لیے پانی کو ہاتھ لگایا تو کرنٹ سا محسوس ہوا، جی نہیں کوئی بجلی کا کرنٹ نہیں تھا بلکہ ٹھنڈک کا جھٹکا تھا۔ یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے میں پورے 15 منٹ لگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نماز کی ادائیگی کے بعد تقریباً 6 بجے کے قریب ہم جیپ پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے، سڑک کے دونوں اطرف چیڑ اور دیار کے درخت تھے۔  یہاں سے صرف 4 کلومیٹر دور تھوڑی بلندی پر راما جھیل واقع ہے۔ اب ہم ایک طرف کھلے میدان میں داخل ہوچکے تھے، یہ راما میڈوز کا خوبصورت میدان ہے۔ جہاں پر ایک طرف ایک ہوٹل اور دوسری طرف چند کمروں پر مشتمل پولیس کا ریسٹ ہاؤس بنا ہوا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c115964c.jpg"  alt="پی ٹی ڈی سی ہوٹل راما کا ایک منظر، یہ ہوٹل ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پی ٹی ڈی سی ہوٹل راما کا ایک منظر، یہ ہوٹل ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوبصورت اور گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان۔ جی ہاں یہی ہیں راما میڈوز کا دل کو لبھانے والے مناظر۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوڑا اور آگے جاکر سڑک کے دونوں جانب عارضی مگر خوبصورت کیمپنگ اور عارضی ریسٹورنٹ یہاں پر بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کی آمد کی گواہی پیش کر رہے تھے۔ کیمپنگ سائٹ کے ساتھ ہی ایک پل موجود ہے جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوجاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1ea4ed8.jpg"  alt="گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1e60a44.jpg"  alt="کیمپنگ کے فوراً بعد ایک پُل موجود تھا۔ جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوگیا&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کیمپنگ کے فوراً بعد ایک پُل موجود تھا۔ جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوگیا—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی ہم جھیل تک نہیں پہنچے تھے لیکن راستے میں جیپ روک دی گئی۔ ہم جیپ سے باہر نکلے۔ آگے ایک گلیشیئر کے آثار تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ گلیشیئر کو پیدل عبور کرکے ایک 2 موڑ کے بعد جھیل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب نہار منہ ہم سب تقریباً آدھا کلومیٹر پر محیط پیدل ٹریک پر روانہ ہوئے۔ ہم برف سے ڈھکے فلک بوس نانگا پربت سے کافی قریب تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ اس جانب نانگا پربت کی سب سے چھوٹی چوٹیاں موجود ہیں مگر پھر بھی ان کی بلندی اور خوبصورتی بے مثال تھی۔ جبکہ دوسری جانب کاجو جیسی ایک چھوٹی سی جھیل شرماتی ہوئی نظر آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0fea19a.jpg"  alt="نانگا پربت کی چوٹیوں کا خوبصورت منظر&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;نانگا پربت کی چوٹیوں کا خوبصورت منظر— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1094cb6.jpg"  alt="راستے میں خوبصورت کاجو کی شکل جیسی ایک چھوٹی سی جھیل&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راستے میں خوبصورت کاجو کی شکل جیسی ایک چھوٹی سی جھیل—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس جھیل کی فوٹوگرافی کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک ایسا موڑ آیا جو منزل بھی ساتھ لے آیا اور راما جھیل سامنے تھی۔ جھیل کے پاس ایک چھوٹا سا پہاڑ تھا جس پر پائن درخت کھڑے نظر آئے اور اُس کے پیچھے نانگا پربت تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پائن کے درخت اور نانگا پربت کے دامن میں ایک طرف یہ خوبصورت جھیل تھی اور دوسری طرف نانگا پربت کا ایک بڑا گلیشئیر تھا۔ گلیشیئر کا پانی نیچے دریائے استور کی جانب بہہ رہا تھا۔ راما جھیل ٹراوٹ مچھلی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔  یہاں آنے والے زیادہ تر سیاح جھیل کے کنارے کیمپنگ کرتے ہیں۔ ہم یہاں کچھ دیر رُکے اور پھر واپسی کی راہ لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جھیل سے واپسی پر میری نظر قریب موجود پہاڑی پر پڑی جس نے مجھ سمیت تمام ساتھیوں کو دکھی کردیا۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ ماضی میں اس پہاڑ پر بے تحاشا درخت تھے لیکن اب تو نام کا بھی ایک درخت باقی نہیں رہا البتہ درختوں کی باقیات موجود تھی۔ درختوں کی مسلسل کٹائی نے اس پہاڑ سے جنگل کا نام و نشان ہی مٹا دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c179535c.jpg"  alt="راما جھیل، قریب ایک چھوٹا سا پہاڑ، پیچھے نانگا پربت اور جھیل کے پرسکون پانیوں کا ایک منظر&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راما جھیل، قریب ایک چھوٹا سا پہاڑ، پیچھے نانگا پربت اور جھیل کے پرسکون پانیوں کا ایک منظر—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنگل میں بلند و بالا درخت کھڑے تھے اور جنگل سے نیچے کی جانب دیکھیں تو آپ کو گھوڑے گھاس کھاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ جنگل کے راستے میں جگہ جگہ آبشاریں اور چشمے بہہ رہے تھے، جبکہ بعض مقامات پر چٹانوں کو دیکھ کے معلوم ہورہا تھا کہ یہاں سے بھی کبھی آبشار کا گزر ہوتا تھا لیکن پانی نے اپنا راستے بدل لیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c17a4e40.jpg"  alt="راما میڈوز کے پھولوں کی مہک دور دور تک محسوس ہوتی ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راما میڈوز کے پھولوں کی مہک دور دور تک محسوس ہوتی ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھوڑی دیر میں ہم ہوٹل پہنچ گئے، لیکن تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے ہمیں ناشتہ نصیب نہ ہوا۔ اس مشکل صورتحال کے باجود اس امید کے ساتھ یہاں سے سیدھا جیپ پر اپنے کیمپ سائٹ کی طرف روانہ ہوئے کہ شاید وہاں ناشتہ مل جائے، مگر کیمپ سائٹ پر بھی ناشتہ نہ ہونے کی وجہ صرف ایک کپ چائے پر اکتفا کرکے ہم اپنی اگلی منزل چلم چوکی کی طرف روانہ ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمارا ارادہ تھا کہ منی مرگ کا خوبصورت قصبہ دیکھا جائے لیکن اس کے لیے پاک فوج کی اجازت لینا لازمی تھی۔ ہمارے ایک ہم سفر ساتھی کے ایک دوست کنٹریکٹر تھے اور منی مرگ میں کچھ پروجیکٹس پر کام کر رہے تھے، انہوں نے آرمی سے اجازت لینے کی یقین دہانی کروائی اور چلم جوشی سے 25 کلومیٹر پہلے چشمہ ہوٹل پر انتظار کرنے کو کہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چونکہ ’ایس کام‘ کے علاوہ کوئی نیٹ ورک استور سے آگے کام نہیں کرتا لہٰذا ہمارے ساتھی نے اپنے دوست سے آخری دفعہ رابطہ کرکے چشمہ ہوٹل کا ایڈریس کنفرم کیا اور پھر ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;استور سے فیول ٹینک فل کرواکے میں جیپ سے کار میں شفٹ ہوگیا تھا۔ کچھ دیر سفر کرنے کے بعد ہم ترشنگ اور روفل پاس کو جانے والے راستے کے دوارہے پر تھے جبکہ جیپ ہم سے آگے جا چکی تھی۔ اس دوراہے پر نصب بورڈز ترشنگ کے راستے پر دیوسائی کی نشاندہی کررہا تھا جبکہ میرے پاس جو نقشہ تھا اُس پر مارکنگ کے مطابق سیدھا جانے والا راستہ ہی دیوسائی اور چلم چوکی کا راستہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیر ہم  تھوڑا سفر ترشنگ والے راستے پر کرچکے تھے وہاں پر سڑک کنارے کھڑے ایک مقامی شخص سے جب دیوسائی کا راستہ معلوم کیا تو اُنہوں نے واپس مڑنے اور دوسرے والے راستے پر جانے کا کہا۔ اب ہم واپس مڑ کر دیوسائی والے راستے پر تھے لیکن ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ کہیں جیپ بھی ترشنگ نہ جا پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم پوری اسپیڈ کے ساتھ گاڑی دوڑا رہے تھے اور مسلسل 2 گھنٹے کے سفر کے بعد بھی ہمیں جیپ کے کوئی آثار نہیں ملے۔ راستے میں بکھری خوبصورتی، دریائے استور کا پانی اور دوسری طرف جیپ کی ٹینشن! اس صورتحال کو کیا نام دیں گے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلفریب مناظر کے ساتھ ساتھ ہم ساتھیوں کی گمشدگی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ تقریباً 3 گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہم چشمہ کے مقام پر واقع ہوٹل پہنچے جو نمکین گوشت اور افغانی روش کے لیے مشہور ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہوٹل سے اور اردگرد لوگوں سے جیپ کے بارے میں معلومات کی لیکن کسی نے بھی جیپ کے بارے میں خبر نہیں دی۔ صرف ایک شخص نے بتایا کہ ایک جیپ یہاں سے چیلم چوکی آدھا گھنٹہ پہلے گزری تھی۔ مگر وہ جیپ وہی تھی؟ یہ کنفرم نہیں تھا اس لیے اس کا پیچھا کرنے کے بجائے وہیں رکنے اور کھانا کھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کھانا کھانے کے بعد ہم آدھا گھنٹہ مزید انتظار کرنے کے بعد چلم چوکی کی طرف نکل پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم راستے میں بھی مقامی لوگوں سے جیپ کے حوالے سے پوچھتے رہے لیکن سب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چلم چوکی میں پتا کرنے کا مشورہ دیا۔ تقریباً 25 کلو میٹر کا سفر کرنے کے بعد ہم چیلم چوکی پہنچے۔ چلم چوکی ایک خوبصورت ٹاؤن ہے جہاں پر عارضی ہوٹلز کے علاوہ آرمی بیس کیمپ بھی موجود ہے۔ آرمی چیک پوسٹ سے پتا کیا تو وہاں سے علم ہوا کہ ایسی کوئی گاڑی چلم چوکی پہنچی ہی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c128eb44.jpg"  alt="چلم چوکی سے ایک راستہ برزل پاس، منی مرگ اور دوسرا راستہ دیوسائی کی طرف جاتا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چلم چوکی سے ایک راستہ برزل پاس، منی مرگ اور دوسرا راستہ دیوسائی کی طرف جاتا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c236abf7.jpg"  alt="دیوسائی کی بلندیاں چڑھتے ہوئے چلم چوکی کا خوبصورت ٹاؤن نظر آتا ہے &amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دیوسائی کی بلندیاں چڑھتے ہوئے چلم چوکی کا خوبصورت ٹاؤن نظر آتا ہے —تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں سے ہمارا خدشہ یقین میں بدل گیا کہ وہ دیوسائی کے بجائے ترشنگ کی طرف نکل گئے ہوں گے۔ اُس دوراہے سے ترشنگ کا فاصلہ 25 سے 30 کلومیٹر بنتا ہے۔ ترشنگ گاؤں اور روپل وادی استور کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل ہیں۔ نانگا پربت کا ایک رخ یہاں سے بھی نظر آتا ہے۔ ناناگا پربت کے دامن میں واقع وادئ روپل کا خوبصورت میدان سیاحوں کے لیے سال بھر توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چلم چوکی پر اب ہمارے پاس انتظار کے سوا اور کوئی آپشن نہیں تھا، تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد ہمارے گمشدہ ساتھی آرمی چیک پوسٹ پہنچ گئے اور وہیں راستہ بٹھک جانے کی روداد سنانے لگے۔ اُن کا بھوک سے بُرا حال تھا کیونکہ چشمہ ہوٹل پر رکنے کے بجائے وہ ہمارے پیچھے آگئے تھے۔ قریبی ہوٹل پر کھانا کھانے کے بعد ہم ایک بار پھر آرمی چیک پوسٹ پہنچے اور اپنے ساتھی کے دوست کا حوالہ دے کر منی مرگ جانے کی اجازت طلب کی لیکن اجازت نہیں ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c22a8ac8.jpg"  alt="دیوسائی کی طرف جاتے ہوئے نشنل پارک کی انٹری فیس بھی وصول کی جاتی ہیں&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;دیوسائی کی طرف جاتے ہوئے نشنل پارک کی انٹری فیس بھی وصول کی جاتی ہیں—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا منی مرگ جیسے خوبصورت علاقے کو نہ دیکھ پانے کا دکھ لیے ہم دیوسائی کی طرف نکل پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بوجھل دل کے ساتھ دیوسائی نیشنل پارک کی طرف بلندیوں کا سفر شروع ہوا۔ جیسے جیسے جیپ آگے کی طرف بڑھ رہی تھی، خوبصورت مناظر کا سحر ہم پر طاری تھا۔ دیوسائی کے بارے میں کیا خوب کسی نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی تصویر، کوئی وڈیو یا کوئی بھی سفرنامہ دیوسائی کو بیان نہیں کرسکتا، اُس کے لیے سفر کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج کئی سال بعد دیوسائی آنے کی تمنا بالآخر پوری ہوئی تھی۔ فطرت کے جابجا تھری ڈائنامک فن پاروں کو دیکھتے رہے اور کسی طلسماتی دنیا میں ہونے کے تصور میں غرق رہے۔ یہاں سے مزید تھوڑا آگے سفر کرنے اور 14 ہزار فٹ کی بلندی چڑھنے کے بعد سڑک کے کنارے پر لگے ایک بورڈ پر محکمہ سیاحت گلگت بلتسان اور وائلڈ لائف لکھا نظر آیا، جو ہمیں دیوسائی کے رنگ برنگی پھولوں اور سربز میدانوں میں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c190c920.jpg"  alt="وائلڈ لائف کے سائن بورڈ آپ کو دیوسائی میں خوش آمدید کہتا ہے&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;وائلڈ لائف کے سائن بورڈ آپ کو دیوسائی میں خوش آمدید کہتا ہے— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لفظ دیوسائی دو الفاظ کا مرکب ہے ’دیو‘ اور ’سائی‘ یعنی سایہ۔ آج سے 100 سال پہلے اس علاقے میں انسانوں کا بہت ہی کم گزر ہوتا تھا۔ دیوسائی میں پھولوں کی درجنوں اقسام مل جائیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں ابھی تک صرف ڈھائی سو اقسام کے پھول دریافت ہوچکے ہیں۔ اس مقام کو خود پر نازاں ہونے کی ایک وجہ یہاں موجود “شیوسر“ جھیل بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;14 ہزار فٹ بلندی پر موجود شیوسر پاس کو عبور کرنے کے بعد یہ جھیل آپ کے سامنے ہوتی ہے۔ ہیرِ نانگا پربت شیوسر جھیل پاکستان کی چند بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہیں جو اپنے اندر بے پناہ جاذبیت سموئے ہوئے ہیں۔ دور کھڑے شہنشاہِ کوہستان ’نانگا پربت‘ کا مسحور کن نظارہ اس جھیل کے حُسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ 4200 میٹر بلندی پر واقع یہ جھیل بھی فطرت کا ہمارے لیے ایک تحفہ ہے۔ اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c258291f.jpg"  alt="شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت منظر&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت منظر—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0690ea2.jpg"  alt="اکتوبر کے مہینے میں شیوسر جھیل کا ایک منظر&amp;mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اکتوبر کے مہینے میں شیوسر جھیل کا ایک منظر—تصویر رضوان احمد جٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c18669fc.jpg"  alt="اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو کسی طور پر غلط نہ ہوگا&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو کسی طور پر غلط نہ ہوگا—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ ساتھی جھیل کے کنارے قریبی پہاڑی کے ٹاپ تک چلے گئے۔ اس پہاڑی کو "سونیا پیک" کہتے ہیں۔ پہاڑی کے ٹاپ سے شیوسر جھیل اور نانگا پربت تھوڑا مزید کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ جھیل کے نظاروں اور فوٹوگرافی کے بعد اب ہمیں اپنی اگلی منزل کالا پانی کی طرف نکلنا تھا۔ راستے میں رنگ برنگی جامنی، لال اور پیلے پھول اور ان کی خوشبو ہمیں بار بار ٹھہرنے اور فوٹو گرافی کرنے پر مجبور کرتی رہی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077809/"&gt;منجمد سیف الملوک کو دیکھنے کی آرزو بالاخر پوری ہوگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلفریب نظاروں، بھورے ریچھ، پھول اور سفید بادلوں کا مسکن یقیناً دیوسائی دنیا کا بلند ترین اور وسیع طلسماتی جہان ہے، جس کے اوپر پہنچے والوں کی سانس بلندی روکتی ہے۔ دیوسائی پر لکھی گئی کتاب "دیوسائی میں ایک رات" کے مصنف محمد احسن نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے کہ، ’کیا ایک ریچھ  کے لیے... ایک پھول کے لیے... ایک بادل کے لیے گھر سے نکل کر دربدر ہونا جائز ہے؟ ںہیں تو پھر یہ دیوسائی کا حسن ہی ہے جس کے لیے ایک ریچھ ، ایک پھول اور ایک بادل دیوانے محبوب کی طرح اس کو اپنا مسکن بنا بیٹھے ہیں۔‘  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیوسائی کے میدان کا ہر کونا خوبصورت اور منفرد ہے، کہیں آپ کو دھوپ نظر آئے گی تو کہیں سایہ، جگہ جگہ ہزاروں پھول نظر آئیں گے، قریب جاکر دیکھیں گے تو پتا لگے گا کہ یہ ایک پھول نہیں بلکہ ننھے منے پھولوں کا ایک گلدستہ ہے۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ دیوسائی سال کے 9 سے 10 مہینے برف میں اور ڈیڑھ سے 2 ماہ خزاں میں رہتا ہے۔ محض ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے یہ پھول عالمِ عدم سے عالمِ وجود میں آتے ہیں، غدر برپا کردیتے ہیں اور مدہوش کُن خوشبوئیں پھیلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c110aca5.jpg"  alt="شیو سر جھیل کا ایک اور خوبصورت منظر &amp;mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شیو سر جھیل کا ایک اور خوبصورت منظر —تصویر رضوان احمد جٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c13af062.jpg"  alt="چہارسو پھیلے پھول&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;چہارسو پھیلے پھول—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ارتقائی سائنسدان جو بھی کہتے رہیں کہ یہ پھول ازواج رکھتے ہیں اور اُنہیں اپنی طرف مائل کرنے کے لیے خوشبوئیں پھیلاتے ہیں۔ ایک ایسا کام جو انسان بھی کرتا ہے۔ مگر اِن پھولوں کے درمیان کھڑے ہوکر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہیں۔۔۔ یہ سب کچھ اُس کے لیے تخلیق کیا گیا جو یہاں پہنچ گیا ۔۔۔ یا جِسے بلایا گیا۔۔۔‘ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیوسر جھیل سے ایک گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم کالا پانی پہنچے، راستے میں 3 مہینے تک دیوسائی کے خوبصورت میدانوں میں اپنے جانوروں کو چروانے کے لیے یہاں پر عارضی سکونت اختیار کرنے والے مقامی لوگوں نے ہمارے لیے اپنی مسکراہٹوں بکھیر دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1c6d178.jpg"  alt="شیوسر جھیل سے کالا پانی تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے لگ جاتا ہے&amp;mdash; تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شیوسر جھیل سے کالا پانی تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے لگ جاتا ہے— تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0f12ef8.jpg"  alt="کالا پانی&amp;mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کالا پانی—تصویر رضوان احمد جٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc59900d186d.jpg"  alt="3 ماہ کے لیے دیوسائی کے باشندے نقل مکانی کر رہے ہیں&amp;mdash; تصویر ملک سجاد مہمند" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;3 ماہ کے لیے دیوسائی کے باشندے نقل مکانی کر رہے ہیں— تصویر ملک سجاد مہمند&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب ہم دیوسائی کے مرکزی پوائنٹ اور سیاحوں کے قیام و طعام کے لیے مشہور بڑا پانی کی طرف روانہ ہوئے۔ بڑا پانی نیلگوں پانی وسیع و عرض  سرسبز و شاداب میدانوں کے درمیان سیاحوں کے لیے بنایا گیا اسکردو سے قریب ایک خوبصورت پوائنٹ ہے، یہاں پولیس کی چک پوسٹ کے ساتھ ہی کیپمنگ کا انتطام کیا جاتا ہیں۔ یہاں سیاح رات گزار کر دیوسائی کی خوبصورتی سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بڑا پانی کے قریب بھورے ریچھوں کے مسکن کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں سیاح بھورے ریچھوں کی فوٹو گرافی کے غرض سے اور مقامی افراد شکار کے لیے اسی مقام سے نکلتے ہیں۔ یہاں پر پائی جانے والے بھورے رنگ کے ریچھ کی نسل بہت ہی نایاب ہے مگر حکومتوں کی کوششوں کے باوجود مقامی افراد اس کی نسل کشی سے باز نہیں آرہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بڑا پانی کے مقام کے بعد ہماری اگلی منزل اسکردو تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1dabf4c.jpg"  alt="ریچھوں کا مسکن یہاں سے چند قدم آگے شروع ہوجاتا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ریچھوں کا مسکن یہاں سے چند قدم آگے شروع ہوجاتا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میں دیگر دوستوں کے ساتھ جیپ پر سوار تھا، ہماری جیپ اب کافی آگے نکل چکی تھی لیکن ساتھ ساتھ ڈارئیور پیچھے موجود گاڑی پر بھی اپنی نظریں جمائے ہوئے تھا جس میں ہمارے دیگر ہمسفر ساتھی سوار تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سورج غروب ہونے والا تھا اور دیوسائی کے کھلے میدانوں پر اندھیرا چھانے لگا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور نے کہا کہ پیچھے آنے والی کار دکھائی نہیں دے رہی، کہیں ان کی گاڑی خراب تو نہیں ہوگئی۔ ابھی ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ آپ کے دوستوں کی کار خراب ہوچکی ہے اور وہ آپ کو واپس بلا رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c2585068.jpg"  alt="بڑا پانی کے مقام پر پرانا لکڑی کا پل جو زیر استعمال نہیں&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بڑا پانی کے مقام پر پرانا لکڑی کا پل جو زیر استعمال نہیں—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب دوستوں کے پاس پہنچے تو پتا چلا کہ گاڑی کے دونوں ٹائر ایک پتھر سے ٹکرانے کی وجہ سے پھٹ چکے ہیں۔ گاڑی میں اضافی ٹائر ایک ہی تھا لہٰذا ایک ٹائر کا مسئلہ تھا۔ ایک ساتھی نے مشورہ دیا یہاں سے اسکردو کا رخ کیا جائے، راستے میں کہیں یا شاید سدپارہ جھیل کے مقام پر ٹائر شاپ مل جائے گی، جہاں سے دونوں ٹائر ٹھیک کرکے یا کوئی نیا ٹائر خرید کر دیوسائی واپس آسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم سفر ساتھیوں کے ایک گروپ کو گاڑی کے پاس چھوڑا گیا اور انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ بھی کسی دوسری گاڑی سے ٹائر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور کسی طرح دیوسائی سے نیچے اسکردو کی طرف اُتر آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چونکہ بڑا پانی سے اسکردو تک ’ایس کام‘ کی سم مختلف جگہوں ہر کام کرتی ہے لہٰذا ایس کام کی سم والا موبائل بھی اس گروپ کو دے کر مجھ سمیت 5 کا گروپ جیپ کے فرنٹ والے حصے (بانٹ) پر دونوں ٹائر باندھ کر اسکردو کی طرف نکل پڑے۔ ہماری جیپ کی رفتاراب کافی تیز ہوچکی تھی، جلد ہی ڈھلتے سورج کے ساتھ ساتھ ہم دیوسائی کے پُرفریب مناظر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسکردو کی طرف رواں دواں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c129bf0f.jpg"  alt="اسکردو کی جانب رواں دواں&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اسکردو کی جانب رواں دواں—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیوسائی کے حدود سے نکلنے کے بعد آنے والی اُترائی پر ہمارا ڈرائیور گاڑی کو دوڑا رہا تھا۔ چلم چوکی سے دیوسائی کی طرف آنا قدرے آسان لگ رہا تھا کیونکہ وہ چڑھائی کافی کم لگ رہی تھی۔ دوسرا روڈ بھی کافی بہتر ہے۔ یہ بالکل عمودی چڑھائی تھی اور اچھی سے اچھی گاڑی بھی کافی زور لگا رہی تھی۔ اندھیرا ہونے سے پہلے ہم دیوسائی سے نیچے آچکے تھے اور تقریباً آدھا گھنٹہ مزید سفر کرنے کے بعد ہم سدپارہ چک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072572/30jan2018-nanga-parbat-koh-pemaon-ka-maqtal-bhi-junoon-bhi-azmat-akbar-aa-bm"&gt;نانگا پربت، کوہ پیماؤں کا مقتل بھی، جنوں بھی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے ٹائرشاپ کا پتہ کیا لیکن اُنہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکردو کے علاوہ کہیں بھی جگہ ٹائر شاپ ملنے کی توقع نہ کریں۔ ہم روانہ ہونے والے ہی تھے  کہ ہمارے ایک ساتھی نے سیکورٹی اہلکار سے پوچھا کہ یہاں کہیں فون کرنے کی سہولت ہے؟ جس پر اںہوں چیک پوسٹ میں لگے ایس کام سروس کی طرف اشارہ کیا۔ ہمارے ساتھی نے دیوسائی میں کار کے ساتھ رہ جانے والے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1649725.jpg"  alt="اسکردو کی طرف سے جاتے ہوئے دیوسائی کا انٹری پوائنٹ آتا ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اسکردو کی طرف سے جاتے ہوئے دیوسائی کا انٹری پوائنٹ آتا ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوش قسمتی کے ساتھ دیگر ساتھیوں سے فون پر رابطہ ہوگیا اور اںہوں نے دوسری گاڑی سے اضافی ٹائر ملنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ہم دیوسائی سے اُتر رہے ہے۔ جس گاڑی سے ٹائر ملا اُس کا تعلق اسکردو سے ہے۔ اُن کی گاڑی ہم سے آگے اور ہم اُس کے پیچھے پیچھے اسکردو کی طرف آرہے ہیں۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یقیناً دیوسائی جیسی جگہ پر اس طرح کی مدد ملنا کسی کرامت سے کم نہ تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم رات کے وقت اسکردو سے دوبارہ دیوسائی کے سفر کی مشکل سے بچ گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم نے اپنے ڈرائیور کو اسکردو کی طرف نکلنے کا کہا۔ ڈارئیور اب جیپ کی رفتار کافی کم کرچکا تھا، چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں ہم سدپارہ جھیل کنارے سلائیڈنگ ایریا سے گزر رہے تھے۔ 2 سال پہلے دیوسائی کی طرف آنے کی کوشش کی تھی لیکن سلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے سدپارہ جھیل سے آگے جانے سے قاصر رہے تھے۔ سدپارہ کو کوہِ پیماؤں کی سرزمین بھی پکارا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں وفات پانے والے مشہور کوہ پیما حسن سدپارہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ اس کے علاوہ نانگا پربت کو سردیوں میں سر کرنے والے پاکستان کے مایہ ناز کوہ پیما علی سدپارہ کا تعلق بھی اسی گاؤں ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c05f0d9b.jpg"  alt="سدپارہ جھیل کا ایک خوبصورت منظر&amp;mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سدپارہ جھیل کا ایک خوبصورت منظر—تصویر رضوان احمد جٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تقرییاً ایک گھنٹے اور 20 منٹ کے سفر کے بعد ہم اسکردو شہر میں ایک ٹائر شاپ پر پہنچ چکے تھے۔ ٹائرز کی حالت دیکھ کر مکینک نے نیا ٹائر خریدنے کے لیے کہا۔ چونکہ اگلے دن جمعہ تھا اور جمعے کو اسکردو میں زیادہ تر مارکیٹیں بند ہوتی ہیں اس لیے رات کو ٹائر خریدنے کے لیے ہمارے ایک ساتھی گاڑی لے کر بازار کی طرف نکلے پڑے جبکہ ہم ٹائر ورکشاپ میں ٹائر کی ریپیرنگ کروانے کے لیے مکینک کے پاس ہی بیٹھ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم نے اسکردو کے وسط میں واقع ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کا بندوبست کرچکے تھے، تھوڑی ہی دیر بعد دیوسائی سے کار ٹائر شاپ پر پہنچ چکی تھی۔ ہم سب اضافی تائر دینے والے اسکردو کے مقامی دکاندار کے مشکور تھے، جو کہ ہمارے سامنے ٹائر والے کو مہمانوں کا خیال رکھنے کا کہہ رہے تھے۔ تاہم مکینک نے ایک بار پھر یہ کہہ کر سب کو پریشان کردیا کہ ٹائر کو پنکچر لگانے کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے کل صبح 9 بجے سے پہلے ٹائر نہیں مل سکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیپنی دینے والے دکاندار نے کہا کہ آپ پریشان نہیں ہوں، کل تک آپ اسی سے گزارا کریں صبح جب ٹائر مل جائے تو میری اسٹیپنی واپس کر دیجیے گا۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور بہتر آپشن بھی نہیں تھا، لہٰذا ہم نے شکریے کے ساتھ انہیں رخصت کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اتنے میں ہمارے ساتھی بھی نیا ٹائر صبح تک ملنے کی خبر لے کر واپس پہنچ چکے تھے۔ اب ہماری منزل ہوٹل اور کھانے کی میز تھی۔ تھوڑی دیر میں شہر میں گھومتے ہوئے ہم ہوٹل پہنچے۔ گرم پانی سے نہانے اور تر و تازہ ہوئے، جس کے بعد ہم نے اسکردو کے مشہور ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا اور ہوٹل آکر خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صبح کافی دیر سے آنکھ کھلی، دیگر ساتھی ابھی سو رہے تھے۔ نہانے اور نماز کی ادائیگی کے بعد میں نے ہوٹل میں لگی خوبانیوں کی مٹھاس سے دن کا آغاز کیا۔ تقریباً پونے 9 بجے تک سارے ساتھی تیار ہوچکے تھے، طے یہ پایا کہ ناشتہ شنگریلا یا اپر کچورا میں کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بازار سے ٹائر چینج کروانے اور پیٹرول ڈلوانے کے بعد ہم شنگریلا کی طرف روانہ ہوگئے۔ شنگریلہ کو چھوڑ کر ہم پہلے اپر کچورہ جھیل کی خوبصورتی سمیٹنے اور جھیل میں بوٹنگ کا مزہ لینے کے بعد سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کی ہوٹل پہنچے اور وہیں کھانا کھایا. یہاں فارغ ہوئے تو دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل شنگریلا ریزورٹ پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شنگریلا کی مصنوعی جھیل کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c237700e.jpg"  alt="اپر کچورہ جھیل میں سیاحوں کے لیے بوٹنگ کا بہترین انتظام موجود ہے&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اپر کچورہ جھیل میں سیاحوں کے لیے بوٹنگ کا بہترین انتظام موجود ہے—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;!اکتوبر کے مہینے میں شنگریلا جھیل کا فضائی منظر—تصویر رضوان احمد جٹ]&lt;a href="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c129bf0f.jpg"&gt;40&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c19c0598.jpg"  alt="شنگریلا جھیل &amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شنگریلا جھیل —تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1f401e9.jpg"  alt="شنگریلا جھیل کا ایک دلکش منظر&amp;mdash;تصویر عظمت اکبر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شنگریلا جھیل کا ایک دلکش منظر—تصویر عظمت اکبر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں سے ہم جگلوٹ کے لیے روانہ ہوگئے، 7 گھنٹوں پر مشتمل طویل اور تھکادینے سفر کے بعد  تقریباً رات کے 2 بجے ہم جگلوٹ پہنچے۔ یہاں پر قیام کرنے کے بجائے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ گونڑفارم میں ایک کپ چائے پینے کے بعد صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جیپ پر ہمارا سفر شروع ہوا جو بابوسر ٹاپ کی بلندیوں کو زیر کر رہی تھی اور تقریباً 8 بجے کے قریب ہم ناران پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/urdu/users/2535.jpg?180130052111"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			عظمت اکبر سماجی کارکن اور ٹریپ ٹریولز پاکستان کے سی ای او ہیں۔ آپ کو سیاحت کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے پُرعزم بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5be03706e5e15'><div style= "color: #5D0166; text-align: center;" markdown="1">دیوسائی کا دیومالائی حسن</div></h1>

<p><strong><a href="https://www.dawnnews.tv/authors/2535">عظمت اکبر</a></strong></p>

<p>یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا نے پاکستان کو فطری حسن کی تمام رعنائیاں بخشی ہیں۔ صحراؤں سے میدانوں اور دریاؤں سے بلند و بالا چوٹیوں تک ہر ایک کی اپنی ہی ایک منفرد خوبصورتی ہے۔</p>

<p>ملکِ پاکستان میں واقع ایک ایسا ہی جنت نظیر مقام کا رختِ سفر باندھا۔ منزل تو کیا راستہ ہی آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہے، نیلا کھلا آسمان، آوارہ بادل، پیش وخم سے راستے کسی طلسماتی دیس میں ہونے کا گمان پیدا کرتے ہیں۔ آنکھوں کو تازگی اور سماعتوں میں رس گھولتے نیلگوں بہتے پانی کی مدھر آواز آپ کی ہم سفر ہوتی ہے۔ یہ مقام ہے دیوسائی، جسے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے۔</p>

<p>کم و بیش ہر سال ہی اسکردو اور ہنزہ کی طرف جانا ہوتا ہے، لیکن برف کی وجہ سے ہمیشہ ہی دیوسائی کو جانے والے راستے بند ملے اور یوں دنیا کے اس دوسرے بڑے اونچے میدان/پلیٹو کے دلفریب مناظر سے محظوظ ہونے کا موقع نہ ملا سکا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1b77aba.jpg"  alt="نیلگوں بہتے پانی کی گفتگو اور دنیا کی چھت کہلانے والی دیوسائی&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نیلگوں بہتے پانی کی گفتگو اور دنیا کی چھت کہلانے والی دیوسائی—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c20e5bac.jpg"  alt="دیوسائی کے گوناگوں رنگ&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دیوسائی کے گوناگوں رنگ—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>14 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دیوسائی کا شمار دنیا کا تبت کے بعد سطح مرتفع پر بلند ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3 ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ دیوسائی اسکردو سے ڈیڑھ گھنٹے اور استور سے تقریباً 5 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں وسیع و غریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف پوش رہتے ہیں، اور اس وقت بھی وہاں یہی صورتحال ہے۔ </p>

<p>دیوسائی کراس کرنے کے لیے سب سے اچھا وقت جولائی اور اگست ہے، کیونکہ ان دنوں میں یہ پلیٹو لش سبزے اور رنگ برنگے خوبصورت پھولوں سے بھرا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سال 5 اگست کو ایک گروپ کے ساتھ ہنزہ ٹرپ کے بعد 11 اگست کو واپسی پر ناران ہی ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کچھ دوستوں کے ساتھ استور کے راستے دیوسائی اور پھر اسکردو جانے کا پروگرام بنایا۔ چونکہ 14 اگست قریب تھا اس لیے جشن آزادی ناران میں ہی منانے کا فیصلہ کیا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c25c4adf.jpg"  alt="قراقرم اور کوہِ ہمالیہ کے دامن میں وسیع وعریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">قراقرم اور کوہِ ہمالیہ کے دامن میں وسیع وعریض میدان دیوسائی سال کے 8 مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c11c0009.jpg"  alt="رات کے قیام کا فیصلہ راما جھیل کے آغوش میں لگائے کیمپس میں کیا گیا&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">رات کے قیام کا فیصلہ راما جھیل کے آغوش میں لگائے کیمپس میں کیا گیا—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس دوران میں نے اپنے بچپن کے دوست اور دودی پت سر جھیل ٹریک کے ساتھی ملک سجاد مہمند کو بھی بلالیا۔ 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ناران میں زبردست آتش بازی کا مظاہرہ دیکھنے اور اگلے دن لالازار کے سبزہ زاروں کی سیر کے بعد 15 اگست کو ہم 2 گاڑیوں پر سوار ہو کر استور اور راما کے لیے روانہ ہوگئے۔ چونکہ راما جھیل کے مقام پر رات بسر کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اسی لیے سب نے 8 سے 9 گھنٹوں پر مشتمل سفر کے لیے خود کو تیار کرلیا۔</p>

<p>ہماری گاڑیوں میں ایک جیپ اور ایک کرولا شامل تھی، ہم میں سے 4 لوگ لوکل جیپ میں سوار تھے، لیکن بابو سر ٹاپ پر شدید سردی کے بعد چیلاس کی شدید گرمی اور گرد و غبار نے ہمارا بُرا حال کردیا تھا۔ </p>

<p>رائے کوٹ کا پُل کراس کرتے ہی شاہراہ قراقرم کی کارپیٹڈ سڑک، سنگلاخ ہمالیہ و ہندوکش کے پہاڑی سلسلے اور پورے آن بان سے بہتے دریائے سندھ کے مناظر نے سفر کا لطف دوبالا کردیا۔ اب موسم بھی قدرے بہتر ہوچکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد قراقرم ہائی وے سے ہم استور کو جاتے راستے کی طرف مڑ گئے، یہاں سے استور شہر تک ہمیں مزید 44 کلومیٹر کا سفر طے کرنا تھا۔</p>

<p>استور کو جاتی سڑک پر جگہ جگہ کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے سڑک ٹوٹ کا پھوٹ کا شکار تھی، یہی وجہ تھی کہ سفر مزید 2 گھنٹے طویل ہوگیا اور ہم دوپہر 2 بجے کے قریب ڈاشکن کے مقام پر پہنچے جہاں نمازِ ظہر اور کھانے کے لیے کچھ دیر قیام کیا۔ یہاں سے استور کا فاصلہ مزید تقریباً 23 کلومیٹر تھا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c142ccc9.jpg"  alt="ڈاشکن کا وہ مقام جہاں پر موجود چشمہ ہوٹل سیاحوں کو طعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ استور کا سفر یہاں سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ڈاشکن کا وہ مقام جہاں پر موجود چشمہ ہوٹل سیاحوں کو طعام کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ استور کا سفر یہاں سے 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c209e5ba.jpg"  alt="بلند و بالا اور وسیع و عریض چراگاہوں اور میدانوں کی سرزمین استور ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہے" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بلند و بالا اور وسیع و عریض چراگاہوں اور میدانوں کی سرزمین استور ہمیں خوش آمدید کہہ رہی ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>45 منٹ کے مزید سفر کے بعد دنیا کے بلند ترین چراگاہوں (pastures) کی سرزمین استور نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ سطح سمندر سے 2600 میٹر (8500) فٹ بلندی پر واقع وادئ استور کو 2004ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل یہ علاقہ دیامبر ضلع کا حصہ تھا۔ یہاں سے قراقرم ہائی وے 44 کلومیٹر دور ہے جبکہ اسکردو شہر سے براستہ دیوسائی 95 کلومیٹر، اور جگلوٹ سے براستہ اسکردو 135 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد یہاں پہنچا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>گلگت بلتستان میں استور کو سیاحتی اعتبار سے ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی مشہور چوٹی نانگا پربت کے 2 رخ اس ضلع میں واقع راما اور ترشنگ گاؤں کی وادئ روفل سے نظر آتے ہیں اور ان دونوں مقامات کی خوبصورتی بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ </p>

<p>بروغل پاس اور پاک بھارت سرحد پر واقع آخری خوبصورت گاؤں منی مرگ اور دیوسائی دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ راما جھیل، ریمبو جھیل اور شیوسر جھیل یہاں کی مشہور جھیلیں ہے۔  </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1669a5e.jpg"  alt="وادی روپل، منی مرگ، راما اور دیوسائی یہاں کے خوبصورت مقامات ہیں&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وادی روپل، منی مرگ، راما اور دیوسائی یہاں کے خوبصورت مقامات ہیں—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1f0bd4f.jpg"  alt="شہر کے کلمہ چوک سے راما جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے &mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شہر کے کلمہ چوک سے راما جھیل تک کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر ہے —تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>شہر پہنچتے ہی طوفان نے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی، گردوغبار نے ہمیں تقریبا 15 منٹ تک جیپ میں ہی مقید رکھا۔ 2 دوستوں نے گاڑی سے اُتر کر مقامی لوگوں سے رہنمائی حاصل کی کہ آیا چلم چوکی کا سفر جاری رکھا جائے یا راما ہی میں رات گزاری جائے؟ </p>

<p>مقامی لوگوں کے مشورے اور کچھ دیر کلمہ چوک میں فوٹوگرافی کے بعد ہم راما میڈوز کو جاتی سڑک پر رواں دواں تھے۔ یہاں سے راما گاؤں 7 کلومیٹر دور ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم نہایت ہی خوبصورت وادی میں تھے اور ہمارے سامنے بلند و بالا نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے اپنی بلندیوں پر نازاں دکھائی دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c12082ab.jpg"  alt="نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے ہوئے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نانگا پربت برف کی چادر اُوڑھے ہوئے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1887e45.jpg"  alt="راما سرسبز لہلہاتے کھیتوں اور پھولوں پر مشتمل ایک وادی کا نام ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راما سرسبز لہلہاتے کھیتوں اور پھولوں پر مشتمل ایک وادی کا نام ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>راما کے بارے میں نوجوان سفرنامہ نگار محمد احسن کے مطابق، کسی زمانے میں جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین ایک قدیم راستہ موجود تھا جو استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا۔ </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078441/">نوری جھیل؛ جس کو دریافت کرنا تمام خوشیوں سے بڑھ کر لگا</a></strong></p>

<p>یہ راستہ آج بھی موجود ہے مگر کشمیر کا بیشتر حصہ ہندوستانی قبضے میں ہونے کی وجہ سے زیرِ استعمال نہیں۔ اس دور میں گلگت بلتستان بھی کشمیر کا حصہ ہوتا تھا۔ اگر کشمیر آزاد ہوجائے تو گلگت بلتستان لداخ سمیت خودکار طریقے سے دوبارہ کشمیر ہوجائیں گے۔</p>

<p>اُنہی پرانے وقتوں کی بات ہے کہ جب ہندو تاجر اور راہب استور سے گزرتے تھے تو مزید بلندی پر موجود نانگا پربت بیس کیمپ بھی جایا کرتے تھے۔ اُنہی تاجروں اور راہبوں میں زبردست اہلِ دل اور اہلِ فطرت بھی موجود ہوتے تھے۔ جب وہ نانگا پربت کا آفاقی حُسن دیکھتے تھے تو اُنہیں اُسی طرح "رام" یاد آتا تھا جیسے ہمیں یہاں "اللہ" یاد آیا ہے۔ انہوں نے اس علاقے کو سیدھا سیدھا اسٹریٹ اوے "راما" نام دے دیا۔ اسی سے راما میڈوز اور راما جھیل نام مشہور ہو گئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c13f17e8.jpg"  alt="جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین جو قدیم راستہ موجود تھا وہ استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جنوبی کشمیر اور گلگت کے مابین جو قدیم راستہ موجود تھا وہ استور، چلم، برزل پاس، منی مرگ اور سونامرگ وغیرہ کے علاقے سے گزرتا تھا—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1c2bb8c.jpg"  alt="راما میڈوز میں سیاحوں کی رہائش کے لیے لگائے گئے کیمپس کا ایک منظر&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راما میڈوز میں سیاحوں کی رہائش کے لیے لگائے گئے کیمپس کا ایک منظر—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>شام ہوچکی تھی اور تھکاوٹ سے بُرا حال بھی تھا، اسی لیے راما میڈوز کے آغاز میں واقع کیمپنگ ہوٹل میں رات بسر کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ کل 9 افراد کے لیے ہم نے 5 خیمے کرائے پر حاصل کیے، جو کہ انتہائی مناسب کرایوں میں مل گئے۔ سامان رکھنے اور تھوڑی دیر سستانے کے بعد ہم نے گھریلو اسٹائل اور بغیر مرچ مصالحوں کے چکن کے سالن کا آڈر دیا۔ سالن کو تیار ہونے میں وقت تھا اس لیے ہم جنگل کے درمیان لگے ان کیمپس سے باہر فطرت کے فن پاروں کے پیش و خم دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔</p>

<p>تھوڑی دیرمیں سالن تیار ہوگیا، بدقسمتی سے کک مصالحوں کے ساتھ ساتھ نمک ڈالنا بھی بھول گیا تھا۔ بغیر نمک کے سالن <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086166/"><strong>فلپائن کے کھانوں  کی یاد تازہ کر رہا تھا</strong></a>۔ </p>

<p>کھانے کی میز پر ہی اگلے دن کی منصوبہ بندی کی گئی اور علی الصبح سورج نکلنے سے پہلے ناشتہ کیے بغیر راما جھیل کا رخ کرنے اور واپسی پر ناشتہ کرنے کا پروگرام فائنل ہوا اور گروپ کے تمام افراد کو جلدی سونے کا کہا گیا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0fac90a.jpg"  alt="راما میڈوز کے آغاز میں لگائے گئے عارضی خیمہ ہوٹل، جہاں ہم نے رات بسر کی &mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راما میڈوز کے آغاز میں لگائے گئے عارضی خیمہ ہوٹل، جہاں ہم نے رات بسر کی —تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لیکن ابھی لیٹے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے شینے زبان کی مقامی موسیقی سنائی دینے لگی۔ یہ گلگت یونیورسٹی سے آئے ہوئے  طالب علموں کا ایک گروپ تھا جو مقامی موسیقی پر روایتی رقص کر رہے تھے۔ کچھ دیر خیمے میں سونے کی ناکام کوشش کی لیکن موسیقی، ساز آواز اور تالیوں کی گونج نے نیند کو میرے قریب نہیں بھٹکنے دیا۔ </p>

<p>چنانچہ باہر ان کے روایتی رقص کو دیکھنے کے لیے خیمے سے باہر آگیا۔ باہر جاکر کیا دیکھتا ہوں کہ باہر آنے والوں میں، مَیں اپنے گروپ کا آخری فرد ہوں ورنہ باقی سارے تو پہلے ہی دائرے کی شکل میں کرسیوں پر براجمان ہیں۔ </p>

<p>رات دیر تک گلگت اور راما کے مقامی لوگوں نے موسیقی کی اس محفل کو خوب جمائے رکھا۔ رات کا ایک بجا تو موسیقی کا سلسلہ بھی تھم گیا اور ہم دوبارہ خیموں میں چلے گئے۔ خدا خدا کرکے آخر نیند آہی گئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1adb3ca.jpg"  alt="صبح سویرے جب خیمے سے باہر جھانکا تو یہ سامنے یہ منظر تھا&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">صبح سویرے جب خیمے سے باہر جھانکا تو یہ سامنے یہ منظر تھا—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>صبح سویرے ہم سبھی جاگ گئے، ابھی وضو کے لیے پانی کو ہاتھ لگایا تو کرنٹ سا محسوس ہوا، جی نہیں کوئی بجلی کا کرنٹ نہیں تھا بلکہ ٹھنڈک کا جھٹکا تھا۔ یخ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے میں پورے 15 منٹ لگے۔</p>

<p>نماز کی ادائیگی کے بعد تقریباً 6 بجے کے قریب ہم جیپ پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے، سڑک کے دونوں اطرف چیڑ اور دیار کے درخت تھے۔  یہاں سے صرف 4 کلومیٹر دور تھوڑی بلندی پر راما جھیل واقع ہے۔ اب ہم ایک طرف کھلے میدان میں داخل ہوچکے تھے، یہ راما میڈوز کا خوبصورت میدان ہے۔ جہاں پر ایک طرف ایک ہوٹل اور دوسری طرف چند کمروں پر مشتمل پولیس کا ریسٹ ہاؤس بنا ہوا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c115964c.jpg"  alt="پی ٹی ڈی سی ہوٹل راما کا ایک منظر، یہ ہوٹل ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پی ٹی ڈی سی ہوٹل راما کا ایک منظر، یہ ہوٹل ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خوبصورت اور گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان۔ جی ہاں یہی ہیں راما میڈوز کا دل کو لبھانے والے مناظر۔</p>

<p>تھوڑا اور آگے جاکر سڑک کے دونوں جانب عارضی مگر خوبصورت کیمپنگ اور عارضی ریسٹورنٹ یہاں پر بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کی آمد کی گواہی پیش کر رہے تھے۔ کیمپنگ سائٹ کے ساتھ ہی ایک پل موجود ہے جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوجاتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1ea4ed8.jpg"  alt="گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گھنا جنگل اور اس میں بہتے صاف و شفاف نیلگوں پانی کی نہریں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھلا صاف آسمان—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1e60a44.jpg"  alt="کیمپنگ کے فوراً بعد ایک پُل موجود تھا۔ جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوگیا&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کیمپنگ کے فوراً بعد ایک پُل موجود تھا۔ جسے عبور کرنے کے بعد جیپ ٹریک مزید بلند اور قدرے مشکل ہوگیا—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ابھی ہم جھیل تک نہیں پہنچے تھے لیکن راستے میں جیپ روک دی گئی۔ ہم جیپ سے باہر نکلے۔ آگے ایک گلیشیئر کے آثار تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ گلیشیئر کو پیدل عبور کرکے ایک 2 موڑ کے بعد جھیل ہے۔</p>

<p>اب نہار منہ ہم سب تقریباً آدھا کلومیٹر پر محیط پیدل ٹریک پر روانہ ہوئے۔ ہم برف سے ڈھکے فلک بوس نانگا پربت سے کافی قریب تھے۔</p>

<p>اگرچہ اس جانب نانگا پربت کی سب سے چھوٹی چوٹیاں موجود ہیں مگر پھر بھی ان کی بلندی اور خوبصورتی بے مثال تھی۔ جبکہ دوسری جانب کاجو جیسی ایک چھوٹی سی جھیل شرماتی ہوئی نظر آئی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0fea19a.jpg"  alt="نانگا پربت کی چوٹیوں کا خوبصورت منظر&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">نانگا پربت کی چوٹیوں کا خوبصورت منظر— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1094cb6.jpg"  alt="راستے میں خوبصورت کاجو کی شکل جیسی ایک چھوٹی سی جھیل&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راستے میں خوبصورت کاجو کی شکل جیسی ایک چھوٹی سی جھیل—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس جھیل کی فوٹوگرافی کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک ایسا موڑ آیا جو منزل بھی ساتھ لے آیا اور راما جھیل سامنے تھی۔ جھیل کے پاس ایک چھوٹا سا پہاڑ تھا جس پر پائن درخت کھڑے نظر آئے اور اُس کے پیچھے نانگا پربت تھا۔</p>

<p>پائن کے درخت اور نانگا پربت کے دامن میں ایک طرف یہ خوبصورت جھیل تھی اور دوسری طرف نانگا پربت کا ایک بڑا گلیشئیر تھا۔ گلیشیئر کا پانی نیچے دریائے استور کی جانب بہہ رہا تھا۔ راما جھیل ٹراوٹ مچھلی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔  یہاں آنے والے زیادہ تر سیاح جھیل کے کنارے کیمپنگ کرتے ہیں۔ ہم یہاں کچھ دیر رُکے اور پھر واپسی کی راہ لی۔</p>

<p>جھیل سے واپسی پر میری نظر قریب موجود پہاڑی پر پڑی جس نے مجھ سمیت تمام ساتھیوں کو دکھی کردیا۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ ماضی میں اس پہاڑ پر بے تحاشا درخت تھے لیکن اب تو نام کا بھی ایک درخت باقی نہیں رہا البتہ درختوں کی باقیات موجود تھی۔ درختوں کی مسلسل کٹائی نے اس پہاڑ سے جنگل کا نام و نشان ہی مٹا دیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c179535c.jpg"  alt="راما جھیل، قریب ایک چھوٹا سا پہاڑ، پیچھے نانگا پربت اور جھیل کے پرسکون پانیوں کا ایک منظر&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راما جھیل، قریب ایک چھوٹا سا پہاڑ، پیچھے نانگا پربت اور جھیل کے پرسکون پانیوں کا ایک منظر—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جنگل میں بلند و بالا درخت کھڑے تھے اور جنگل سے نیچے کی جانب دیکھیں تو آپ کو گھوڑے گھاس کھاتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ جنگل کے راستے میں جگہ جگہ آبشاریں اور چشمے بہہ رہے تھے، جبکہ بعض مقامات پر چٹانوں کو دیکھ کے معلوم ہورہا تھا کہ یہاں سے بھی کبھی آبشار کا گزر ہوتا تھا لیکن پانی نے اپنا راستے بدل لیا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c17a4e40.jpg"  alt="راما میڈوز کے پھولوں کی مہک دور دور تک محسوس ہوتی ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راما میڈوز کے پھولوں کی مہک دور دور تک محسوس ہوتی ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تھوڑی دیر میں ہم ہوٹل پہنچ گئے، لیکن تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے ہمیں ناشتہ نصیب نہ ہوا۔ اس مشکل صورتحال کے باجود اس امید کے ساتھ یہاں سے سیدھا جیپ پر اپنے کیمپ سائٹ کی طرف روانہ ہوئے کہ شاید وہاں ناشتہ مل جائے، مگر کیمپ سائٹ پر بھی ناشتہ نہ ہونے کی وجہ صرف ایک کپ چائے پر اکتفا کرکے ہم اپنی اگلی منزل چلم چوکی کی طرف روانہ ہوئے۔ </p>

<p>ہمارا ارادہ تھا کہ منی مرگ کا خوبصورت قصبہ دیکھا جائے لیکن اس کے لیے پاک فوج کی اجازت لینا لازمی تھی۔ ہمارے ایک ہم سفر ساتھی کے ایک دوست کنٹریکٹر تھے اور منی مرگ میں کچھ پروجیکٹس پر کام کر رہے تھے، انہوں نے آرمی سے اجازت لینے کی یقین دہانی کروائی اور چلم جوشی سے 25 کلومیٹر پہلے چشمہ ہوٹل پر انتظار کرنے کو کہا۔ </p>

<p>چونکہ ’ایس کام‘ کے علاوہ کوئی نیٹ ورک استور سے آگے کام نہیں کرتا لہٰذا ہمارے ساتھی نے اپنے دوست سے آخری دفعہ رابطہ کرکے چشمہ ہوٹل کا ایڈریس کنفرم کیا اور پھر ہم اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگئے۔</p>

<p>استور سے فیول ٹینک فل کرواکے میں جیپ سے کار میں شفٹ ہوگیا تھا۔ کچھ دیر سفر کرنے کے بعد ہم ترشنگ اور روفل پاس کو جانے والے راستے کے دوارہے پر تھے جبکہ جیپ ہم سے آگے جا چکی تھی۔ اس دوراہے پر نصب بورڈز ترشنگ کے راستے پر دیوسائی کی نشاندہی کررہا تھا جبکہ میرے پاس جو نقشہ تھا اُس پر مارکنگ کے مطابق سیدھا جانے والا راستہ ہی دیوسائی اور چلم چوکی کا راستہ تھا۔</p>

<p>خیر ہم  تھوڑا سفر ترشنگ والے راستے پر کرچکے تھے وہاں پر سڑک کنارے کھڑے ایک مقامی شخص سے جب دیوسائی کا راستہ معلوم کیا تو اُنہوں نے واپس مڑنے اور دوسرے والے راستے پر جانے کا کہا۔ اب ہم واپس مڑ کر دیوسائی والے راستے پر تھے لیکن ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ کہیں جیپ بھی ترشنگ نہ جا پہنچے۔</p>

<p>ہم پوری اسپیڈ کے ساتھ گاڑی دوڑا رہے تھے اور مسلسل 2 گھنٹے کے سفر کے بعد بھی ہمیں جیپ کے کوئی آثار نہیں ملے۔ راستے میں بکھری خوبصورتی، دریائے استور کا پانی اور دوسری طرف جیپ کی ٹینشن! اس صورتحال کو کیا نام دیں گے؟</p>

<p>دلفریب مناظر کے ساتھ ساتھ ہم ساتھیوں کی گمشدگی کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ تقریباً 3 گھنٹے سفر کرنے کے بعد ہم چشمہ کے مقام پر واقع ہوٹل پہنچے جو نمکین گوشت اور افغانی روش کے لیے مشہور ہے۔ </p>

<p>ہوٹل سے اور اردگرد لوگوں سے جیپ کے بارے میں معلومات کی لیکن کسی نے بھی جیپ کے بارے میں خبر نہیں دی۔ صرف ایک شخص نے بتایا کہ ایک جیپ یہاں سے چیلم چوکی آدھا گھنٹہ پہلے گزری تھی۔ مگر وہ جیپ وہی تھی؟ یہ کنفرم نہیں تھا اس لیے اس کا پیچھا کرنے کے بجائے وہیں رکنے اور کھانا کھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کھانا کھانے کے بعد ہم آدھا گھنٹہ مزید انتظار کرنے کے بعد چلم چوکی کی طرف نکل پڑے۔</p>

<p>ہم راستے میں بھی مقامی لوگوں سے جیپ کے حوالے سے پوچھتے رہے لیکن سب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چلم چوکی میں پتا کرنے کا مشورہ دیا۔ تقریباً 25 کلو میٹر کا سفر کرنے کے بعد ہم چیلم چوکی پہنچے۔ چلم چوکی ایک خوبصورت ٹاؤن ہے جہاں پر عارضی ہوٹلز کے علاوہ آرمی بیس کیمپ بھی موجود ہے۔ آرمی چیک پوسٹ سے پتا کیا تو وہاں سے علم ہوا کہ ایسی کوئی گاڑی چلم چوکی پہنچی ہی نہیں ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c128eb44.jpg"  alt="چلم چوکی سے ایک راستہ برزل پاس، منی مرگ اور دوسرا راستہ دیوسائی کی طرف جاتا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چلم چوکی سے ایک راستہ برزل پاس، منی مرگ اور دوسرا راستہ دیوسائی کی طرف جاتا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c236abf7.jpg"  alt="دیوسائی کی بلندیاں چڑھتے ہوئے چلم چوکی کا خوبصورت ٹاؤن نظر آتا ہے &mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دیوسائی کی بلندیاں چڑھتے ہوئے چلم چوکی کا خوبصورت ٹاؤن نظر آتا ہے —تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں سے ہمارا خدشہ یقین میں بدل گیا کہ وہ دیوسائی کے بجائے ترشنگ کی طرف نکل گئے ہوں گے۔ اُس دوراہے سے ترشنگ کا فاصلہ 25 سے 30 کلومیٹر بنتا ہے۔ ترشنگ گاؤں اور روپل وادی استور کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل ہیں۔ نانگا پربت کا ایک رخ یہاں سے بھی نظر آتا ہے۔ ناناگا پربت کے دامن میں واقع وادئ روپل کا خوبصورت میدان سیاحوں کے لیے سال بھر توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔</p>

<p>چلم چوکی پر اب ہمارے پاس انتظار کے سوا اور کوئی آپشن نہیں تھا، تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد ہمارے گمشدہ ساتھی آرمی چیک پوسٹ پہنچ گئے اور وہیں راستہ بٹھک جانے کی روداد سنانے لگے۔ اُن کا بھوک سے بُرا حال تھا کیونکہ چشمہ ہوٹل پر رکنے کے بجائے وہ ہمارے پیچھے آگئے تھے۔ قریبی ہوٹل پر کھانا کھانے کے بعد ہم ایک بار پھر آرمی چیک پوسٹ پہنچے اور اپنے ساتھی کے دوست کا حوالہ دے کر منی مرگ جانے کی اجازت طلب کی لیکن اجازت نہیں ملی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c22a8ac8.jpg"  alt="دیوسائی کی طرف جاتے ہوئے نشنل پارک کی انٹری فیس بھی وصول کی جاتی ہیں&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">دیوسائی کی طرف جاتے ہوئے نشنل پارک کی انٹری فیس بھی وصول کی جاتی ہیں—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لہٰذا منی مرگ جیسے خوبصورت علاقے کو نہ دیکھ پانے کا دکھ لیے ہم دیوسائی کی طرف نکل پڑے۔</p>

<p>بوجھل دل کے ساتھ دیوسائی نیشنل پارک کی طرف بلندیوں کا سفر شروع ہوا۔ جیسے جیسے جیپ آگے کی طرف بڑھ رہی تھی، خوبصورت مناظر کا سحر ہم پر طاری تھا۔ دیوسائی کے بارے میں کیا خوب کسی نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی تصویر، کوئی وڈیو یا کوئی بھی سفرنامہ دیوسائی کو بیان نہیں کرسکتا، اُس کے لیے سفر کرنا ضروری ہے۔</p>

<p>آج کئی سال بعد دیوسائی آنے کی تمنا بالآخر پوری ہوئی تھی۔ فطرت کے جابجا تھری ڈائنامک فن پاروں کو دیکھتے رہے اور کسی طلسماتی دنیا میں ہونے کے تصور میں غرق رہے۔ یہاں سے مزید تھوڑا آگے سفر کرنے اور 14 ہزار فٹ کی بلندی چڑھنے کے بعد سڑک کے کنارے پر لگے ایک بورڈ پر محکمہ سیاحت گلگت بلتسان اور وائلڈ لائف لکھا نظر آیا، جو ہمیں دیوسائی کے رنگ برنگی پھولوں اور سربز میدانوں میں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c190c920.jpg"  alt="وائلڈ لائف کے سائن بورڈ آپ کو دیوسائی میں خوش آمدید کہتا ہے&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">وائلڈ لائف کے سائن بورڈ آپ کو دیوسائی میں خوش آمدید کہتا ہے— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لفظ دیوسائی دو الفاظ کا مرکب ہے ’دیو‘ اور ’سائی‘ یعنی سایہ۔ آج سے 100 سال پہلے اس علاقے میں انسانوں کا بہت ہی کم گزر ہوتا تھا۔ دیوسائی میں پھولوں کی درجنوں اقسام مل جائیں گی۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں ابھی تک صرف ڈھائی سو اقسام کے پھول دریافت ہوچکے ہیں۔ اس مقام کو خود پر نازاں ہونے کی ایک وجہ یہاں موجود “شیوسر“ جھیل بھی ہے۔</p>

<p>14 ہزار فٹ بلندی پر موجود شیوسر پاس کو عبور کرنے کے بعد یہ جھیل آپ کے سامنے ہوتی ہے۔ ہیرِ نانگا پربت شیوسر جھیل پاکستان کی چند بلند ترین جھیلوں میں سے ایک ہیں جو اپنے اندر بے پناہ جاذبیت سموئے ہوئے ہیں۔ دور کھڑے شہنشاہِ کوہستان ’نانگا پربت‘ کا مسحور کن نظارہ اس جھیل کے حُسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ 4200 میٹر بلندی پر واقع یہ جھیل بھی فطرت کا ہمارے لیے ایک تحفہ ہے۔ اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو بالکل بھی غلط نہیں ہوگا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c258291f.jpg"  alt="شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت منظر&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شیوسر جھیل کا ایک خوبصورت منظر—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0690ea2.jpg"  alt="اکتوبر کے مہینے میں شیوسر جھیل کا ایک منظر&mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اکتوبر کے مہینے میں شیوسر جھیل کا ایک منظر—تصویر رضوان احمد جٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c18669fc.jpg"  alt="اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو کسی طور پر غلط نہ ہوگا&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اگر اس جھیل کو دیوسائی کا زیور کہا جائے تو کسی طور پر غلط نہ ہوگا—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کچھ ساتھی جھیل کے کنارے قریبی پہاڑی کے ٹاپ تک چلے گئے۔ اس پہاڑی کو "سونیا پیک" کہتے ہیں۔ پہاڑی کے ٹاپ سے شیوسر جھیل اور نانگا پربت تھوڑا مزید کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ جھیل کے نظاروں اور فوٹوگرافی کے بعد اب ہمیں اپنی اگلی منزل کالا پانی کی طرف نکلنا تھا۔ راستے میں رنگ برنگی جامنی، لال اور پیلے پھول اور ان کی خوشبو ہمیں بار بار ٹھہرنے اور فوٹو گرافی کرنے پر مجبور کرتی رہی۔  </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077809/">منجمد سیف الملوک کو دیکھنے کی آرزو بالاخر پوری ہوگئی</a></strong></p>

<p>دلفریب نظاروں، بھورے ریچھ، پھول اور سفید بادلوں کا مسکن یقیناً دیوسائی دنیا کا بلند ترین اور وسیع طلسماتی جہان ہے، جس کے اوپر پہنچے والوں کی سانس بلندی روکتی ہے۔ دیوسائی پر لکھی گئی کتاب "دیوسائی میں ایک رات" کے مصنف محمد احسن نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے کہ، ’کیا ایک ریچھ  کے لیے... ایک پھول کے لیے... ایک بادل کے لیے گھر سے نکل کر دربدر ہونا جائز ہے؟ ںہیں تو پھر یہ دیوسائی کا حسن ہی ہے جس کے لیے ایک ریچھ ، ایک پھول اور ایک بادل دیوانے محبوب کی طرح اس کو اپنا مسکن بنا بیٹھے ہیں۔‘  </p>

<p>دیوسائی کے میدان کا ہر کونا خوبصورت اور منفرد ہے، کہیں آپ کو دھوپ نظر آئے گی تو کہیں سایہ، جگہ جگہ ہزاروں پھول نظر آئیں گے، قریب جاکر دیکھیں گے تو پتا لگے گا کہ یہ ایک پھول نہیں بلکہ ننھے منے پھولوں کا ایک گلدستہ ہے۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ دیوسائی سال کے 9 سے 10 مہینے برف میں اور ڈیڑھ سے 2 ماہ خزاں میں رہتا ہے۔ محض ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے یہ پھول عالمِ عدم سے عالمِ وجود میں آتے ہیں، غدر برپا کردیتے ہیں اور مدہوش کُن خوشبوئیں پھیلاتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c110aca5.jpg"  alt="شیو سر جھیل کا ایک اور خوبصورت منظر &mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شیو سر جھیل کا ایک اور خوبصورت منظر —تصویر رضوان احمد جٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c13af062.jpg"  alt="چہارسو پھیلے پھول&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">چہارسو پھیلے پھول—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ارتقائی سائنسدان جو بھی کہتے رہیں کہ یہ پھول ازواج رکھتے ہیں اور اُنہیں اپنی طرف مائل کرنے کے لیے خوشبوئیں پھیلاتے ہیں۔ ایک ایسا کام جو انسان بھی کرتا ہے۔ مگر اِن پھولوں کے درمیان کھڑے ہوکر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نہیں۔۔۔ یہ سب کچھ اُس کے لیے تخلیق کیا گیا جو یہاں پہنچ گیا ۔۔۔ یا جِسے بلایا گیا۔۔۔‘ </p>

<p>شیوسر جھیل سے ایک گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم کالا پانی پہنچے، راستے میں 3 مہینے تک دیوسائی کے خوبصورت میدانوں میں اپنے جانوروں کو چروانے کے لیے یہاں پر عارضی سکونت اختیار کرنے والے مقامی لوگوں نے ہمارے لیے اپنی مسکراہٹوں بکھیر دیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1c6d178.jpg"  alt="شیوسر جھیل سے کالا پانی تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے لگ جاتا ہے&mdash; تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شیوسر جھیل سے کالا پانی تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹے لگ جاتا ہے— تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c0f12ef8.jpg"  alt="کالا پانی&mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کالا پانی—تصویر رضوان احمد جٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc59900d186d.jpg"  alt="3 ماہ کے لیے دیوسائی کے باشندے نقل مکانی کر رہے ہیں&mdash; تصویر ملک سجاد مہمند" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">3 ماہ کے لیے دیوسائی کے باشندے نقل مکانی کر رہے ہیں— تصویر ملک سجاد مہمند</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اب ہم دیوسائی کے مرکزی پوائنٹ اور سیاحوں کے قیام و طعام کے لیے مشہور بڑا پانی کی طرف روانہ ہوئے۔ بڑا پانی نیلگوں پانی وسیع و عرض  سرسبز و شاداب میدانوں کے درمیان سیاحوں کے لیے بنایا گیا اسکردو سے قریب ایک خوبصورت پوائنٹ ہے، یہاں پولیس کی چک پوسٹ کے ساتھ ہی کیپمنگ کا انتطام کیا جاتا ہیں۔ یہاں سیاح رات گزار کر دیوسائی کی خوبصورتی سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>

<p>بڑا پانی کے قریب بھورے ریچھوں کے مسکن کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں سیاح بھورے ریچھوں کی فوٹو گرافی کے غرض سے اور مقامی افراد شکار کے لیے اسی مقام سے نکلتے ہیں۔ یہاں پر پائی جانے والے بھورے رنگ کے ریچھ کی نسل بہت ہی نایاب ہے مگر حکومتوں کی کوششوں کے باوجود مقامی افراد اس کی نسل کشی سے باز نہیں آرہے۔ </p>

<p>بڑا پانی کے مقام کے بعد ہماری اگلی منزل اسکردو تھی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1dabf4c.jpg"  alt="ریچھوں کا مسکن یہاں سے چند قدم آگے شروع ہوجاتا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ریچھوں کا مسکن یہاں سے چند قدم آگے شروع ہوجاتا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>میں دیگر دوستوں کے ساتھ جیپ پر سوار تھا، ہماری جیپ اب کافی آگے نکل چکی تھی لیکن ساتھ ساتھ ڈارئیور پیچھے موجود گاڑی پر بھی اپنی نظریں جمائے ہوئے تھا جس میں ہمارے دیگر ہمسفر ساتھی سوار تھے۔</p>

<p>سورج غروب ہونے والا تھا اور دیوسائی کے کھلے میدانوں پر اندھیرا چھانے لگا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور نے کہا کہ پیچھے آنے والی کار دکھائی نہیں دے رہی، کہیں ان کی گاڑی خراب تو نہیں ہوگئی۔ ابھی ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ پیچھے سے آنے والی ایک گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا کہ آپ کے دوستوں کی کار خراب ہوچکی ہے اور وہ آپ کو واپس بلا رہے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c2585068.jpg"  alt="بڑا پانی کے مقام پر پرانا لکڑی کا پل جو زیر استعمال نہیں&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بڑا پانی کے مقام پر پرانا لکڑی کا پل جو زیر استعمال نہیں—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جب دوستوں کے پاس پہنچے تو پتا چلا کہ گاڑی کے دونوں ٹائر ایک پتھر سے ٹکرانے کی وجہ سے پھٹ چکے ہیں۔ گاڑی میں اضافی ٹائر ایک ہی تھا لہٰذا ایک ٹائر کا مسئلہ تھا۔ ایک ساتھی نے مشورہ دیا یہاں سے اسکردو کا رخ کیا جائے، راستے میں کہیں یا شاید سدپارہ جھیل کے مقام پر ٹائر شاپ مل جائے گی، جہاں سے دونوں ٹائر ٹھیک کرکے یا کوئی نیا ٹائر خرید کر دیوسائی واپس آسکتے ہیں۔ </p>

<p>اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ہم سفر ساتھیوں کے ایک گروپ کو گاڑی کے پاس چھوڑا گیا اور انہیں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ بھی کسی دوسری گاڑی سے ٹائر حاصل کرنے کی کوشش کریں اور کسی طرح دیوسائی سے نیچے اسکردو کی طرف اُتر آئیں۔</p>

<p>چونکہ بڑا پانی سے اسکردو تک ’ایس کام‘ کی سم مختلف جگہوں ہر کام کرتی ہے لہٰذا ایس کام کی سم والا موبائل بھی اس گروپ کو دے کر مجھ سمیت 5 کا گروپ جیپ کے فرنٹ والے حصے (بانٹ) پر دونوں ٹائر باندھ کر اسکردو کی طرف نکل پڑے۔ ہماری جیپ کی رفتاراب کافی تیز ہوچکی تھی، جلد ہی ڈھلتے سورج کے ساتھ ساتھ ہم دیوسائی کے پُرفریب مناظر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اسکردو کی طرف رواں دواں تھے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c129bf0f.jpg"  alt="اسکردو کی جانب رواں دواں&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اسکردو کی جانب رواں دواں—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دیوسائی کے حدود سے نکلنے کے بعد آنے والی اُترائی پر ہمارا ڈرائیور گاڑی کو دوڑا رہا تھا۔ چلم چوکی سے دیوسائی کی طرف آنا قدرے آسان لگ رہا تھا کیونکہ وہ چڑھائی کافی کم لگ رہی تھی۔ دوسرا روڈ بھی کافی بہتر ہے۔ یہ بالکل عمودی چڑھائی تھی اور اچھی سے اچھی گاڑی بھی کافی زور لگا رہی تھی۔ اندھیرا ہونے سے پہلے ہم دیوسائی سے نیچے آچکے تھے اور تقریباً آدھا گھنٹہ مزید سفر کرنے کے بعد ہم سدپارہ چک پوسٹ پر پہنچ گئے۔ </p>

<p><strong>پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072572/30jan2018-nanga-parbat-koh-pemaon-ka-maqtal-bhi-junoon-bhi-azmat-akbar-aa-bm">نانگا پربت، کوہ پیماؤں کا مقتل بھی، جنوں بھی</a></strong></p>

<p>ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے ٹائرشاپ کا پتہ کیا لیکن اُنہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکردو کے علاوہ کہیں بھی جگہ ٹائر شاپ ملنے کی توقع نہ کریں۔ ہم روانہ ہونے والے ہی تھے  کہ ہمارے ایک ساتھی نے سیکورٹی اہلکار سے پوچھا کہ یہاں کہیں فون کرنے کی سہولت ہے؟ جس پر اںہوں چیک پوسٹ میں لگے ایس کام سروس کی طرف اشارہ کیا۔ ہمارے ساتھی نے دیوسائی میں کار کے ساتھ رہ جانے والے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1649725.jpg"  alt="اسکردو کی طرف سے جاتے ہوئے دیوسائی کا انٹری پوائنٹ آتا ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اسکردو کی طرف سے جاتے ہوئے دیوسائی کا انٹری پوائنٹ آتا ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>خوش قسمتی کے ساتھ دیگر ساتھیوں سے فون پر رابطہ ہوگیا اور اںہوں نے دوسری گاڑی سے اضافی ٹائر ملنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ہم دیوسائی سے اُتر رہے ہے۔ جس گاڑی سے ٹائر ملا اُس کا تعلق اسکردو سے ہے۔ اُن کی گاڑی ہم سے آگے اور ہم اُس کے پیچھے پیچھے اسکردو کی طرف آرہے ہیں۔  </p>

<p>یقیناً دیوسائی جیسی جگہ پر اس طرح کی مدد ملنا کسی کرامت سے کم نہ تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم رات کے وقت اسکردو سے دوبارہ دیوسائی کے سفر کی مشکل سے بچ گئے۔ </p>

<p>ہم نے اپنے ڈرائیور کو اسکردو کی طرف نکلنے کا کہا۔ ڈارئیور اب جیپ کی رفتار کافی کم کرچکا تھا، چاند کی ہلکی ہلکی روشنی میں ہم سدپارہ جھیل کنارے سلائیڈنگ ایریا سے گزر رہے تھے۔ 2 سال پہلے دیوسائی کی طرف آنے کی کوشش کی تھی لیکن سلائیڈنگ ہونے کی وجہ سے سدپارہ جھیل سے آگے جانے سے قاصر رہے تھے۔ سدپارہ کو کوہِ پیماؤں کی سرزمین بھی پکارا جاتا ہے۔</p>

<p>حال ہی میں وفات پانے والے مشہور کوہ پیما حسن سدپارہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے تھا۔ اس کے علاوہ نانگا پربت کو سردیوں میں سر کرنے والے پاکستان کے مایہ ناز کوہ پیما علی سدپارہ کا تعلق بھی اسی گاؤں ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c05f0d9b.jpg"  alt="سدپارہ جھیل کا ایک خوبصورت منظر&mdash;تصویر رضوان احمد جٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سدپارہ جھیل کا ایک خوبصورت منظر—تصویر رضوان احمد جٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تقرییاً ایک گھنٹے اور 20 منٹ کے سفر کے بعد ہم اسکردو شہر میں ایک ٹائر شاپ پر پہنچ چکے تھے۔ ٹائرز کی حالت دیکھ کر مکینک نے نیا ٹائر خریدنے کے لیے کہا۔ چونکہ اگلے دن جمعہ تھا اور جمعے کو اسکردو میں زیادہ تر مارکیٹیں بند ہوتی ہیں اس لیے رات کو ٹائر خریدنے کے لیے ہمارے ایک ساتھی گاڑی لے کر بازار کی طرف نکلے پڑے جبکہ ہم ٹائر ورکشاپ میں ٹائر کی ریپیرنگ کروانے کے لیے مکینک کے پاس ہی بیٹھ گئے۔</p>

<p>ہم نے اسکردو کے وسط میں واقع ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کا بندوبست کرچکے تھے، تھوڑی ہی دیر بعد دیوسائی سے کار ٹائر شاپ پر پہنچ چکی تھی۔ ہم سب اضافی تائر دینے والے اسکردو کے مقامی دکاندار کے مشکور تھے، جو کہ ہمارے سامنے ٹائر والے کو مہمانوں کا خیال رکھنے کا کہہ رہے تھے۔ تاہم مکینک نے ایک بار پھر یہ کہہ کر سب کو پریشان کردیا کہ ٹائر کو پنکچر لگانے کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے کل صبح 9 بجے سے پہلے ٹائر نہیں مل سکتا ہے۔ </p>

<p>اسٹیپنی دینے والے دکاندار نے کہا کہ آپ پریشان نہیں ہوں، کل تک آپ اسی سے گزارا کریں صبح جب ٹائر مل جائے تو میری اسٹیپنی واپس کر دیجیے گا۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور بہتر آپشن بھی نہیں تھا، لہٰذا ہم نے شکریے کے ساتھ انہیں رخصت کردیا۔</p>

<p>اتنے میں ہمارے ساتھی بھی نیا ٹائر صبح تک ملنے کی خبر لے کر واپس پہنچ چکے تھے۔ اب ہماری منزل ہوٹل اور کھانے کی میز تھی۔ تھوڑی دیر میں شہر میں گھومتے ہوئے ہم ہوٹل پہنچے۔ گرم پانی سے نہانے اور تر و تازہ ہوئے، جس کے بعد ہم نے اسکردو کے مشہور ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا اور ہوٹل آکر خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ </p>

<p>صبح کافی دیر سے آنکھ کھلی، دیگر ساتھی ابھی سو رہے تھے۔ نہانے اور نماز کی ادائیگی کے بعد میں نے ہوٹل میں لگی خوبانیوں کی مٹھاس سے دن کا آغاز کیا۔ تقریباً پونے 9 بجے تک سارے ساتھی تیار ہوچکے تھے، طے یہ پایا کہ ناشتہ شنگریلا یا اپر کچورا میں کیا جائے گا۔ </p>

<p>بازار سے ٹائر چینج کروانے اور پیٹرول ڈلوانے کے بعد ہم شنگریلا کی طرف روانہ ہوگئے۔ شنگریلہ کو چھوڑ کر ہم پہلے اپر کچورہ جھیل کی خوبصورتی سمیٹنے اور جھیل میں بوٹنگ کا مزہ لینے کے بعد سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کی ہوٹل پہنچے اور وہیں کھانا کھایا. یہاں فارغ ہوئے تو دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل شنگریلا ریزورٹ پہنچ گئے۔</p>

<p>شنگریلا کی مصنوعی جھیل کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c237700e.jpg"  alt="اپر کچورہ جھیل میں سیاحوں کے لیے بوٹنگ کا بہترین انتظام موجود ہے&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اپر کچورہ جھیل میں سیاحوں کے لیے بوٹنگ کا بہترین انتظام موجود ہے—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>!اکتوبر کے مہینے میں شنگریلا جھیل کا فضائی منظر—تصویر رضوان احمد جٹ]<a href="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c129bf0f.jpg">40</a></p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c19c0598.jpg"  alt="شنگریلا جھیل &mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شنگریلا جھیل —تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/10/5bc58c1f401e9.jpg"  alt="شنگریلا جھیل کا ایک دلکش منظر&mdash;تصویر عظمت اکبر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شنگریلا جھیل کا ایک دلکش منظر—تصویر عظمت اکبر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں سے ہم جگلوٹ کے لیے روانہ ہوگئے، 7 گھنٹوں پر مشتمل طویل اور تھکادینے سفر کے بعد  تقریباً رات کے 2 بجے ہم جگلوٹ پہنچے۔ یہاں پر قیام کرنے کے بجائے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ گونڑفارم میں ایک کپ چائے پینے کے بعد صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جیپ پر ہمارا سفر شروع ہوا جو بابوسر ٹاپ کی بلندیوں کو زیر کر رہی تھی اور تقریباً 8 بجے کے قریب ہم ناران پہنچ گئے۔</p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/urdu/users/2535.jpg?180130052111"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			عظمت اکبر سماجی کارکن اور ٹریپ ٹریولز پاکستان کے سی ای او ہیں۔ آپ کو سیاحت کا صرف شوق ہی نہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے پُرعزم بھی ہیں۔</p>

<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1088997</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Nov 2018 17:26:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عظمت اکبر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be035d2c9f09.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1081" width="1802">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be035d2c9f09.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
