<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 10:59:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 10:59:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایس آئی کو ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹانے کیلئے مزید ایک ماہ کی مہلت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1089206/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اپنے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سڑک سے رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مرکزی شاہراہ خیابان سہروردی پر رکاٹیں رکھنے سے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران وزارت دفاع کے نمائندے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نایاب گردیزی اور دیگر حکام پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081795"&gt;آئی ایس آئی کو سڑک سے رکاوٹیں ہٹانے کیلئے 8 ہفتے کی مہلت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران حساس ادارے کے نمائندے کی جانب سے بند لفافے میں رپورٹ پیش کی گئی، جسے عدالت عظمیٰ کے معزز ججز نے پڑھ کر وزارت دفاع کے نمائندے کو واپس کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر ہم نے ڈی جی آئی ایس آئی کو بلایا تھا، آپ کو 2 ماہ کا وقت پہلے دے چکے ہیں، ابھی تک سڑک کیوں نہیں کھولی گئی۔ اس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ جگہ تقریباً صاف ہوگئی ہے لیکن ابھی ٹریفک کے لیے نہیں کھولی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خالی سڑک کا عوام کو کیا فائدہ ہوگا، جب استعمال نہیں ہوگی، یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک راستے پر گاندھی کا مجسمہ لگا ہوا تھا، جب سڑک بن گئی تو اس مجسمے کو گرا دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ عمارت میں اہم اور حساس آلات ہیں، جنہیں منتقل کرنے میں وقت لگ رہا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو مزید کتنا وقت چاہیے، ہم آپ کو دیتے ہیں، جس پر نمائندے نے کہا کہ 2 سے 3 ہفتے مزید لگ جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت نے سڑک کھولنے کے لیے مزید 4 ہفتوں کی مہلت دے دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے آئی ایس آئی کو اسلام آباد میں قائم ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سے سڑک سے رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے 8 ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 4 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ نے خیابان سہروردی میں قائم آئی ایس  آئی کی جانب سے سڑک پر لگائی گئیں رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی ایس آئی کو 4 ہفتوں میں سڑک کھولنے سے متعلق دیا گیا فیصلہ معطل کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے سڑک کھولنے کی تاریخ طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ پورے ملک میں تجاوزات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے آئی ایس آئی، اس سے مبرا نہیں، بلائیں آئی ایس آئی کے سربراہ کو کہ عدالتی حکم کے باوجود سڑک کیوں نہیں کھولی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 23 جون 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کو خیابان سہروردی میں لگائی گئی رکاوٹوں کو 44 ہفتوں میں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081652"&gt;ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،آئی ایس آئی رکاوٹیں ہٹانے کی تاریخ دے،سپریم کورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خیابان سہروردی سے رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ سرکاری زمینوں پر سے تجاوزات کے خلاف دائر ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل رواں سال 16 مارچ کو سپریم کورٹ نے شاہراہ سہروردی کو بند کیے جانے کا نوٹس لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ نے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اپنے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سڑک سے رکاوٹیں ختم کرنے کیلئے مزید ایک ماہ کا وقت دے دیا۔</p>

<p>چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے مرکزی شاہراہ خیابان سہروردی پر رکاٹیں رکھنے سے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔</p>

<p>اس دوران وزارت دفاع کے نمائندے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نایاب گردیزی اور دیگر حکام پیش ہوئے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081795">آئی ایس آئی کو سڑک سے رکاوٹیں ہٹانے کیلئے 8 ہفتے کی مہلت</a></strong></p>

<p>سماعت کے دوران حساس ادارے کے نمائندے کی جانب سے بند لفافے میں رپورٹ پیش کی گئی، جسے عدالت عظمیٰ کے معزز ججز نے پڑھ کر وزارت دفاع کے نمائندے کو واپس کردیا۔</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت پر ہم نے ڈی جی آئی ایس آئی کو بلایا تھا، آپ کو 2 ماہ کا وقت پہلے دے چکے ہیں، ابھی تک سڑک کیوں نہیں کھولی گئی۔ اس پر وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ جگہ تقریباً صاف ہوگئی ہے لیکن ابھی ٹریفک کے لیے نہیں کھولی گئی۔</p>

<p>اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خالی سڑک کا عوام کو کیا فائدہ ہوگا، جب استعمال نہیں ہوگی، یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک راستے پر گاندھی کا مجسمہ لگا ہوا تھا، جب سڑک بن گئی تو اس مجسمے کو گرا دیا گیا۔</p>

<p>دوران سماعت وزارت دفاع کے نمائندے نے کہا کہ عمارت میں اہم اور حساس آلات ہیں، جنہیں منتقل کرنے میں وقت لگ رہا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو مزید کتنا وقت چاہیے، ہم آپ کو دیتے ہیں، جس پر نمائندے نے کہا کہ 2 سے 3 ہفتے مزید لگ جائیں گے۔</p>

<p>بعد ازاں عدالت نے سڑک کھولنے کے لیے مزید 4 ہفتوں کی مہلت دے دی۔</p>

<p>واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کی جانب سے آئی ایس آئی کو اسلام آباد میں قائم ہیڈ کوارٹرز کے سامنے سے سڑک سے رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے 8 ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔</p>

<p>خیال رہے کہ 4 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ نے خیابان سہروردی میں قائم آئی ایس  آئی کی جانب سے سڑک پر لگائی گئیں رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا آئی ایس آئی کو 4 ہفتوں میں سڑک کھولنے سے متعلق دیا گیا فیصلہ معطل کرتے ہوئے آئی ایس آئی سے سڑک کھولنے کی تاریخ طلب کی تھی۔</p>

<p>چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ پورے ملک میں تجاوزات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے آئی ایس آئی، اس سے مبرا نہیں، بلائیں آئی ایس آئی کے سربراہ کو کہ عدالتی حکم کے باوجود سڑک کیوں نہیں کھولی گئی۔</p>

<p>یاد رہے کہ 23 جون 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی ایس آئی کو خیابان سہروردی میں لگائی گئی رکاوٹوں کو 44 ہفتوں میں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081652">ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل،آئی ایس آئی رکاوٹیں ہٹانے کی تاریخ دے،سپریم کورٹ</a></strong> </p>

<p>جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خیابان سہروردی سے رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ سرکاری زمینوں پر سے تجاوزات کے خلاف دائر ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران دیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل رواں سال 16 مارچ کو سپریم کورٹ نے شاہراہ سہروردی کو بند کیے جانے کا نوٹس لیا تھا۔</p>

<p>اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1089206</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Oct 2018 14:12:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc5a5f5797ab.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc5a5f5797ab.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
