<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:17:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:17:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے تاریخی شہر ’الٰہ آباد‘ کا نام تبدیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1089242/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست اترپردیش وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ نے تاریخی شہر الٰہ آباد کا نام تبدیل کرکے ‘پریاگ راج’ رکھنے کی منظوری دے دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے وزیرصحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘الٰہ آباد کا تاریخی نام پریاگ راج تھا اور جو لوگ اس فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں، ان کو کیسا لگے گا کہ ان کے والدین کی جانب سے دیا گیا نام تبدیل کردیا جائے’۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ مغل دور میں تفویض کردہ تمام ناموں کو تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اترپردیش کے وزیر توانائی شری کانت شرما نے کہا کہ مزید نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور حکومت کسی بھی شہر کا نام تبدیل کرنے کا حق رکھتی ہے، اگر ضرورت پڑی تو مزید شہروں اور شاہراہوں کے نام بھی بدل دیے جائیں گے، جو غلطیاں ماضی میں ہوئیں انہیں درست کیا جائےگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے کہا گیا کہ 16 صدی کے اواخر میں مغل حکمرانوں نے پریاگ راج کا نام الٰہ آباد رکھ دیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنسکرت میں پریاگ کا مطلب ‘جہاں قربانی دی جائے’  اور ہندو نظریات کے مطابق ‘براہمن’ نے اس شہر میں اپنی پہلی عبادت اس جگہ کی تھی دریائے گنگا اور دریائے جمنا ملتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز گروپ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر سپرریا شرناتھ نے کہا کہ گزشتہ دنوں مجھے متعدد مرتبہ الٰہ آباد جانا ہوا، شہر مفلوج ہے جہاں بہتر روڈ اور خصوصی طور پر انفرا اسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے، نام تبدیل کرنے کے بجائے اس پر توجہ دی جاتی؟۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/SupriyaShrinate/status/1052052330642886657"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک صارف نے ٹوئٹ کیا کہ ’یہ لوگ انفرا اسٹرکچر کی (بہتری) پر کام نہیں کر سکتے، جو ان کی خواہشات اور صلاحیت سے بالاتر ہے تو آسان راستہ نام تبدیل کرنے میں ہے، بھارتی سیاست احمقوں سے بھری ہوئی ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RoshanKrRai/status/1052098132245471232"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے سائنس اور سیاست کے محقق ایس عرفان حبیب نے ٹوئٹ کیا کہ یہ خطرناک اقدام ہے جس کا مذہب اور تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے، (دونوں نام) الٰہ آباد اور پرایاگ صدیوں میں موجود رہے (لیکن) یہ فیصلہ شہر کے لوگوں کا ہرگز مطالبہ نہیں رہا اور نہ ہی نام تبدیل کرنے کا۔ دیگر مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/irfhabib/status/1052186182904209409"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست اترپردیش وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ نے تاریخی شہر الٰہ آباد کا نام تبدیل کرکے ‘پریاگ راج’ رکھنے کی منظوری دے دی۔ </p>

<p>عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے وزیرصحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘الٰہ آباد کا تاریخی نام پریاگ راج تھا اور جو لوگ اس فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں، ان کو کیسا لگے گا کہ ان کے والدین کی جانب سے دیا گیا نام تبدیل کردیا جائے’۔ </p>

<p>یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ مغل دور میں تفویض کردہ تمام ناموں کو تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ </p>

<p>اترپردیش کے وزیر توانائی شری کانت شرما نے کہا کہ مزید نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور حکومت کسی بھی شہر کا نام تبدیل کرنے کا حق رکھتی ہے، اگر ضرورت پڑی تو مزید شہروں اور شاہراہوں کے نام بھی بدل دیے جائیں گے، جو غلطیاں ماضی میں ہوئیں انہیں درست کیا جائےگا۔ </p>

<p>اس حوالے سے کہا گیا کہ 16 صدی کے اواخر میں مغل حکمرانوں نے پریاگ راج کا نام الٰہ آباد رکھ دیا تھا۔ </p>

<p>سنسکرت میں پریاگ کا مطلب ‘جہاں قربانی دی جائے’  اور ہندو نظریات کے مطابق ‘براہمن’ نے اس شہر میں اپنی پہلی عبادت اس جگہ کی تھی دریائے گنگا اور دریائے جمنا ملتے ہیں۔ </p>

<p>وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔  </p>

<p>ٹائمز گروپ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر سپرریا شرناتھ نے کہا کہ گزشتہ دنوں مجھے متعدد مرتبہ الٰہ آباد جانا ہوا، شہر مفلوج ہے جہاں بہتر روڈ اور خصوصی طور پر انفرا اسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے، نام تبدیل کرنے کے بجائے اس پر توجہ دی جاتی؟۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/SupriyaShrinate/status/1052052330642886657"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک صارف نے ٹوئٹ کیا کہ ’یہ لوگ انفرا اسٹرکچر کی (بہتری) پر کام نہیں کر سکتے، جو ان کی خواہشات اور صلاحیت سے بالاتر ہے تو آسان راستہ نام تبدیل کرنے میں ہے، بھارتی سیاست احمقوں سے بھری ہوئی ہے۔  </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RoshanKrRai/status/1052098132245471232"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے سائنس اور سیاست کے محقق ایس عرفان حبیب نے ٹوئٹ کیا کہ یہ خطرناک اقدام ہے جس کا مذہب اور تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے، (دونوں نام) الٰہ آباد اور پرایاگ صدیوں میں موجود رہے (لیکن) یہ فیصلہ شہر کے لوگوں کا ہرگز مطالبہ نہیں رہا اور نہ ہی نام تبدیل کرنے کا۔ دیگر مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/irfhabib/status/1052186182904209409"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1089242</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Oct 2018 23:55:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc61a2c0c83f.jpg?r=1416188560" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc61a2c0c83f.jpg?r=2013492716"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bc6311f36a46.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bc6311f36a46.jpg"/>
        <media:title>الٰہ آباد کا مشہور گھنٹہ گھر— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
