<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:10:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:10:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوٹیوب سے سالانہ ایک ارب روپے کمانے والا 6 سالہ بچہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1089458/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا میں 6 سالہ بچہ رائن یوٹیوب پر اپنے تخلیق کردہ پروگرام کی میزبانی کرکے سالانہ 1 ارب 46 کروڑ 67 لاکھ روپے کما کر ملٹی ملینیئر بن گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دی انڈیپینڈنٹ میں شائع &lt;a href="https://www.independent.co.uk/news/world/americas/ryan-toysreview-youtube-celebrity-online-show-multimillionaire-forbes-list-highearning-a8102101.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فوربیز میگزین نے کہا ہے کہ رائن اپنی فیملی کے ہمراہ ’رائن ٹوائز ریوئیو‘ نامی یوٹیوب چینل چلاتا ہے اور سب سے زیادہ کمانے والوں کی فہرست میں شامل ہو کر یوٹیوب سلیبریٹی بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055524"&gt;یوٹیوب پر ویڈیوز سے پیسے کمانے کا طریقہ تبدیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ برس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر مشتمل میگزین ورجر نے یوٹویب پر رائن کے چینل کا جائزہ لے کر بتایا تھا کہ مارچ 2015 سے رائن ٹوائز رئیویو چینل پر روزانہ ایک ویڈیو نشر ہو رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میگزین کے مطابق رائن جب 4 برس کا تھا تو اس نے یوٹیوب پر اپنے والدین کے ہمراہ بچوں کے کھلونوں پر تبصرے کرنا شروع کیے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/LFhtEowqvks?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جولائی 2015 میں رائن کی ویڈیو غیرمعمولی وائرل ہوئی جس میں اس نے بڑے سے ’سرپرائز انڈے کھولے‘ جس میں تقریباً 100 سے زائد 
چھوٹے کھلونے تھے اور اس ویڈیو کو تقریباً 80 کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دی ورجر کے مطابق رائن ٹوائز ریوئیو چینل کو 1 کروڑ لوگوں نے سبکرائب کیا ہوا ہے اور یہ چینل ماہانہ 13 کروڑ روپے یوٹیوب سے کما رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1043961"&gt;اب پاکستانیوں کے لیے یوٹیوب سے پیسے کمانا ممکن&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ یوٹیوب پر پیسے کمانے کے خواہش مند افراد کو اپنی ویڈیوز کے پیسے اُس وقت ملنا شروع ہوں گے، جب ان کے یوٹیوب چینل کو کم سے کم 10 ہزار افراد دیکھ لیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل یہ قید نہیں تھی، بلکہ صرف ویڈیو پر چلنے والے اشتہار کی کمائی کا ایک مخصوص حصہ ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو فراہم کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو ہر 100 ڈالر پر مخصوص حصہ دیا جاتا تھا، لیکن اب یوٹیوب نے اسے قدرے مشکل بناتے ہوئے چینل کو کم سے کم 10 ہزار افراد کے دیکھنے کی شرط لگا دی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا میں 6 سالہ بچہ رائن یوٹیوب پر اپنے تخلیق کردہ پروگرام کی میزبانی کرکے سالانہ 1 ارب 46 کروڑ 67 لاکھ روپے کما کر ملٹی ملینیئر بن گیا۔ </p>

<p>دی انڈیپینڈنٹ میں شائع <a href="https://www.independent.co.uk/news/world/americas/ryan-toysreview-youtube-celebrity-online-show-multimillionaire-forbes-list-highearning-a8102101.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فوربیز میگزین نے کہا ہے کہ رائن اپنی فیملی کے ہمراہ ’رائن ٹوائز ریوئیو‘ نامی یوٹیوب چینل چلاتا ہے اور سب سے زیادہ کمانے والوں کی فہرست میں شامل ہو کر یوٹیوب سلیبریٹی بن چکا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1055524">یوٹیوب پر ویڈیوز سے پیسے کمانے کا طریقہ تبدیل</a></strong></p>

<p>گزشتہ برس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر مشتمل میگزین ورجر نے یوٹویب پر رائن کے چینل کا جائزہ لے کر بتایا تھا کہ مارچ 2015 سے رائن ٹوائز رئیویو چینل پر روزانہ ایک ویڈیو نشر ہو رہی ہے۔ </p>

<p>میگزین کے مطابق رائن جب 4 برس کا تھا تو اس نے یوٹیوب پر اپنے والدین کے ہمراہ بچوں کے کھلونوں پر تبصرے کرنا شروع کیے تھے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/LFhtEowqvks?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جولائی 2015 میں رائن کی ویڈیو غیرمعمولی وائرل ہوئی جس میں اس نے بڑے سے ’سرپرائز انڈے کھولے‘ جس میں تقریباً 100 سے زائد 
چھوٹے کھلونے تھے اور اس ویڈیو کو تقریباً 80 کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ </p>

<p>دی ورجر کے مطابق رائن ٹوائز ریوئیو چینل کو 1 کروڑ لوگوں نے سبکرائب کیا ہوا ہے اور یہ چینل ماہانہ 13 کروڑ روپے یوٹیوب سے کما رہا ہے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1043961">اب پاکستانیوں کے لیے یوٹیوب سے پیسے کمانا ممکن</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ یوٹیوب پر پیسے کمانے کے خواہش مند افراد کو اپنی ویڈیوز کے پیسے اُس وقت ملنا شروع ہوں گے، جب ان کے یوٹیوب چینل کو کم سے کم 10 ہزار افراد دیکھ لیں گے۔</p>

<p>اس سے قبل یہ قید نہیں تھی، بلکہ صرف ویڈیو پر چلنے والے اشتہار کی کمائی کا ایک مخصوص حصہ ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو فراہم کیا جاتا تھا۔</p>

<p>پہلے ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو ہر 100 ڈالر پر مخصوص حصہ دیا جاتا تھا، لیکن اب یوٹیوب نے اسے قدرے مشکل بناتے ہوئے چینل کو کم سے کم 10 ہزار افراد کے دیکھنے کی شرط لگا دی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1089458</guid>
      <pubDate>Fri, 19 Oct 2018 23:34:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bca0b9ba567d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bca0b9ba567d.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: انڈیپینڈنٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
