<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:45:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:45:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>‘جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کالعدم نہیں رہیں'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1089892/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے معیاد کے خاتمے کے بعد حافظ سعید کی سربراہی میں چلنے والی 'جماعت الدعوۃ' اور 'فلاح انسانیت فاؤنڈیشن' کالعدم جماعتوں کی فہرست میں نہیں رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں حافظ سعید کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدارتی آرڈیننس کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور اس کی توسیع نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار  نے صدارتی آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس کے تحت ان کی تنظمیوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واچ لسٹ میں شامل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق صدر ممنون حسین نے رواں سال فروری میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دینے کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل انفرادی دہشت گردوں یا تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں حافظ سعید کے وکیل راجا رضوان عباسی اور سہیل وڑائچ پیش ہوئے اور ایک سوال پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے آرڈیننس کو توسیع نہیں دی یا اس کو ایکٹ میں تبدیل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074806"&gt;جماعت الدعوۃ پر ’پابندی‘ لگانے والا آرڈیننس عدالت میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا خالد محمود خان نے آرڈیننس کے معیاد کے خاتمے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے وزارت داخلہ کی جانب سے آرڈیننس کے خاتمے کے حوالے سے بیان جاری کرنے کی رضوان عباسی ایڈووکیٹ کی درخواست کی مخالفت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راجا خالد محمود خان نے کہا کہ درخواست گزار نے وزارت داخلہ کو فریق نہیں بنایا اس لیے وہ اس وقت تک بیان نہیں دے سکتے جب تک درخواست میں ترمیم نہیں ہوتی اور درخواست میں سیکریٹری داخلہ کو فریق نہیں بنایا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس عامر فاروق نے آرڈیننس کے غیر فعال ہونے پر اس کو چیلنج کی گئی پٹیشن کو غیر موثر قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں  نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آرڈیننس کو توسیع دینے کی صورت میں درخواست گزار کو اس قانون کے خلاف دوسری پٹیشن دائر کرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073378"&gt;جماعت الدعوۃ کے مدارس، صحت مراکز کا انتظام حکومت نے سنبھال لیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حافظ سعید نے اپنی درخواست میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے 2002 میں جماعت الدعوۃ کی بنیاد رکھی تھی اور کالعدم لشکر طیبہ سے تمام تعلقات کو توڑ دیا تھا، لیکن بھارت نے جماعت الدعوۃ کے ماضی میں کالعدم تنظیم سے تعلق پر مسلسل الزامات عائد کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت کے دباؤ پر 2009 اور 2017 میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051426"&gt;&lt;strong&gt;نظربند&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رکھا گیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جماعت الدعوۃ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی جس کے بعد پاکستانی حکومت نے اس کو واچ لسٹ میں رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سربراہ جماعت الدعوۃ نے ان کی تنظیم پر پابندی کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070950"&gt;جماعت الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں پر عطیات جمع کرنے پر پابندی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آرڈیننس کا اجرا اور سیکشن 11-ای کا شامل کرنا نہ صرف ان کی خودمختاری بلکہ آئین کی جانب سے دیئے گئے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حافظ سعید کا کہنا تھا کہ آئین کی شقوں کی خلاف ورزی کرنے کے قانون کو معطل کردیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی شق 199 کے تحت عدالت کو آئین سے ماورا ہونے والی قانون سازی کو معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے عدالت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیکشن 11-بی اور11-ای کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 26 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے معیاد کے خاتمے کے بعد حافظ سعید کی سربراہی میں چلنے والی 'جماعت الدعوۃ' اور 'فلاح انسانیت فاؤنڈیشن' کالعدم جماعتوں کی فہرست میں نہیں رہیں۔</p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں حافظ سعید کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ صدارتی آرڈیننس کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور اس کی توسیع نہیں ہوئی۔</p>

<p>درخواست گزار  نے صدارتی آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس کے تحت ان کی تنظمیوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی واچ لسٹ میں شامل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔</p>

<p>سابق صدر ممنون حسین نے رواں سال فروری میں جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دینے کے لیے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل انفرادی دہشت گردوں یا تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔</p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں حافظ سعید کے وکیل راجا رضوان عباسی اور سہیل وڑائچ پیش ہوئے اور ایک سوال پر انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے آرڈیننس کو توسیع نہیں دی یا اس کو ایکٹ میں تبدیل کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074806">جماعت الدعوۃ پر ’پابندی‘ لگانے والا آرڈیننس عدالت میں چیلنج</a></strong></p>

<p>ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا خالد محمود خان نے آرڈیننس کے معیاد کے خاتمے کی تصدیق کی تاہم انہوں نے وزارت داخلہ کی جانب سے آرڈیننس کے خاتمے کے حوالے سے بیان جاری کرنے کی رضوان عباسی ایڈووکیٹ کی درخواست کی مخالفت کی۔</p>

<p>راجا خالد محمود خان نے کہا کہ درخواست گزار نے وزارت داخلہ کو فریق نہیں بنایا اس لیے وہ اس وقت تک بیان نہیں دے سکتے جب تک درخواست میں ترمیم نہیں ہوتی اور درخواست میں سیکریٹری داخلہ کو فریق نہیں بنایا جاتا۔</p>

<p>جسٹس عامر فاروق نے آرڈیننس کے غیر فعال ہونے پر اس کو چیلنج کی گئی پٹیشن کو غیر موثر قرار دے دیا۔</p>

<p>انہوں  نے درخواست کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آرڈیننس کو توسیع دینے کی صورت میں درخواست گزار کو اس قانون کے خلاف دوسری پٹیشن دائر کرنے کی اجازت ہوگی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073378">جماعت الدعوۃ کے مدارس، صحت مراکز کا انتظام حکومت نے سنبھال لیا</a></strong></p>

<p>حافظ سعید نے اپنی درخواست میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے 2002 میں جماعت الدعوۃ کی بنیاد رکھی تھی اور کالعدم لشکر طیبہ سے تمام تعلقات کو توڑ دیا تھا، لیکن بھارت نے جماعت الدعوۃ کے ماضی میں کالعدم تنظیم سے تعلق پر مسلسل الزامات عائد کیے۔</p>

<p>درخواست گزار کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت کے دباؤ پر 2009 اور 2017 میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051426"><strong>نظربند</strong></a> رکھا گیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جماعت الدعوۃ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی جس کے بعد پاکستانی حکومت نے اس کو واچ لسٹ میں رکھا۔</p>

<p>سربراہ جماعت الدعوۃ نے ان کی تنظیم پر پابندی کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف قرار دیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070950">جماعت الدعوۃ سمیت دیگر تنظیموں پر عطیات جمع کرنے پر پابندی</a></strong> </p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آرڈیننس کا اجرا اور سیکشن 11-ای کا شامل کرنا نہ صرف ان کی خودمختاری بلکہ آئین کی جانب سے دیئے گئے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>حافظ سعید کا کہنا تھا کہ آئین کی شقوں کی خلاف ورزی کرنے کے قانون کو معطل کردیا جائے۔</p>

<p>درخواست گزار نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی شق 199 کے تحت عدالت کو آئین سے ماورا ہونے والی قانون سازی کو معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>

<p>انہوں نے عدالت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس کی دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیکشن 11-بی اور11-ای کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 26 اکتوبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1089892</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Oct 2018 10:58:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bd2c0350c667.jpg?r=1337800303" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bd2c0350c667.jpg?r=542027575"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bd294443bd11.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bd294443bd11.jpg"/>
        <media:title>—فائل/فوٹو:ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
