<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 02:14:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 02:14:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آصف زرداری جانتے ہیں احتساب کے ادارے حکومت کے ماتحت نہیں‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آصف زرداری جانتے ہیں کہ احتساب کے ادارے حکومت کے تابع یا ماتحت نہیں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل شفاف طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور ہم بلاتفریق احتساب کے قائل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے یا عدالتیں حکومت کے تابع ہیں نہ ماتحت ہیں، وہ آزاد ہیں اور ازخود کارروائی کرتے ہیں، حکومت کا نہ تو ان پر زور ہے نہ ہی وہ ہمارے کہنے پر کارروائی کرتے ہیں اور آصف زرداری بھی یہ بات جانتے ہیں کیونکہ وہ حکومت میں رہے ہیں اور سارے معاملات سے واقف ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090010/"&gt;‘مجھ پر ہر جانب سے حملے ہورہے ہیں، سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مجھ ہر جانب سے حملہ ہو رہا ہے یہ سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/YnLwUQg7B38?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ میں جس دوست کو فون کرتا ہوں، اسے اٹھالیا جاتا ہے، ٹنڈوالٰہ یار میں صنعت سازی کے لیے دوست سے رابطہ کیا تو انہیں بھی اٹھالیا گیا، ایک دوست کو فون کیا کہ اس کی فصلیں کیسی رہیں، تو بعد میں پتا چلا کہ اسے بھی اٹھالیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا کوئی مقصد ہوتا ہے لیکن مجھے اس اے پی سی کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پہلے جو اتحاد بنتے تھے، کبھی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہوتی تھی تو کوئی اتحاد بنتا تھا اور منطق دکھائی دیتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس اے پی سی کا بنیادی ایجنڈا میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حکومت کو آئے ہوئے 65 دن ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے جو مسائل ہیں وہ 60 روز میں تو پیدا نہیں ہوئے اور اے پی سی کی جماعتیں اس سے باخبر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عوام بھی باخبر ہیں کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا ذمہ دار کون ہے، اے پی سی کا مقصد اگر جمہوریت کو متزلزل کرنا ہے تو یہ کوئی مثبت قدم نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کسی شخص کی خواہش پر کوئی شخص گرفتار یا رہا نہیں ہوسکتا یہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور یہ قانونی طریقہ کار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089595"&gt;’جنوبی پنجاب صوبے کا خواب پی ٹی آئی کے دور میں پورا ہوگا‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ضرورت بھی ہے اور خواہش بھی جبکہ یہ ہمارے منشور کا حصہ بھی ہے لیکن اس کے لیے اتفاق رائے چاہیے، جس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کیونکہ کسی ایک جماعت کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ آئینی ترمیم کرسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور اس کے لیے اپوزیشن کا ساتھ چاہیے، لہٰذا ہماری کوشش ہوگی کہ تجاویز تیار کر کے تبادلہ خیال کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ میں گورنر راج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی خبر نہیں سنی، سندھ میں ایک حکومت چل رہی ہے، جس کی اکثریت ہے، مجھے گورنر راج کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا یہ من گھڑت خبریں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آصف زرداری جانتے ہیں کہ احتساب کے ادارے حکومت کے تابع یا ماتحت نہیں ہیں۔</strong></p>

<p>ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل شفاف طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور ہم بلاتفریق احتساب کے قائل ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے یا عدالتیں حکومت کے تابع ہیں نہ ماتحت ہیں، وہ آزاد ہیں اور ازخود کارروائی کرتے ہیں، حکومت کا نہ تو ان پر زور ہے نہ ہی وہ ہمارے کہنے پر کارروائی کرتے ہیں اور آصف زرداری بھی یہ بات جانتے ہیں کیونکہ وہ حکومت میں رہے ہیں اور سارے معاملات سے واقف ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090010/">‘مجھ پر ہر جانب سے حملے ہورہے ہیں، سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے’</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ مجھ ہر جانب سے حملہ ہو رہا ہے یہ سارا جھگڑا 18 ویں ترمیم کا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/YnLwUQg7B38?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ میں جس دوست کو فون کرتا ہوں، اسے اٹھالیا جاتا ہے، ٹنڈوالٰہ یار میں صنعت سازی کے لیے دوست سے رابطہ کیا تو انہیں بھی اٹھالیا گیا، ایک دوست کو فون کیا کہ اس کی فصلیں کیسی رہیں، تو بعد میں پتا چلا کہ اسے بھی اٹھالیا گیا۔</p>

<p>صحافیوں سے گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا کوئی مقصد ہوتا ہے لیکن مجھے اس اے پی سی کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ پہلے جو اتحاد بنتے تھے، کبھی جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد ہوتی تھی تو کوئی اتحاد بنتا تھا اور منطق دکھائی دیتی تھی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس اے پی سی کا بنیادی ایجنڈا میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں، حکومت کو آئے ہوئے 65 دن ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے جو مسائل ہیں وہ 60 روز میں تو پیدا نہیں ہوئے اور اے پی سی کی جماعتیں اس سے باخبر ہیں۔</p>

<p>شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ عوام بھی باخبر ہیں کہ اصل مسائل کیا ہیں اور ان کا ذمہ دار کون ہے، اے پی سی کا مقصد اگر جمہوریت کو متزلزل کرنا ہے تو یہ کوئی مثبت قدم نہیں ہوگا۔</p>

<p>ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کسی شخص کی خواہش پر کوئی شخص گرفتار یا رہا نہیں ہوسکتا یہ فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور یہ قانونی طریقہ کار ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089595">’جنوبی پنجاب صوبے کا خواب پی ٹی آئی کے دور میں پورا ہوگا‘</a></strong></p>

<p>جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ضرورت بھی ہے اور خواہش بھی جبکہ یہ ہمارے منشور کا حصہ بھی ہے لیکن اس کے لیے اتفاق رائے چاہیے، جس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کیونکہ کسی ایک جماعت کے پاس اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ آئینی ترمیم کرسکے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور اس کے لیے اپوزیشن کا ساتھ چاہیے، لہٰذا ہماری کوشش ہوگی کہ تجاویز تیار کر کے تبادلہ خیال کیا جائے۔</p>

<p>سندھ میں گورنر راج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی خبر نہیں سنی، سندھ میں ایک حکومت چل رہی ہے، جس کی اکثریت ہے، مجھے گورنر راج کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا یہ من گھڑت خبریں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090042</guid>
      <pubDate>Sun, 28 Oct 2018 14:01:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bd579c80f989.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bd579c80f989.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bd5790c329c0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bd5790c329c0.jpg"/>
        <media:title>آئینی ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت ضروری ہے—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
