<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:27:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:27:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نومولود بچوں میں یرقان کی وجوہات اور اس کا علاج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090276/</link>
      <description>&lt;p&gt;نومولود بچوں میں سب سے عمومی بیماری یرقان (پیلیا) ہے اور زیادہ تر معاملات میں یہ بغیر کسی خصوصی علاج کے 2 ہفتوں کے اندر خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ مکمل دورانیے کے زیادہ تر بچوں میں یرقان ایک ہفتے سے زیادہ باقی نہیں رہتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یرقان تب ہوتا ہے جب بلی روبن نامی کیمیکل کی اضافی تعداد بچوں کے خون میں شامل ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ خون کے سرخ خلیوں کی تباہی ہوتی ہے۔ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں (مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا)، 9 ماہ کی مدت سے پہلے بچے کی پیدائش، بلڈ گروپ کے مسائل (آر ایچ یا اے بی او بلڈ گروپ)، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060659//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5bdd5df118b0d.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو چھاتی کے دودھ کا یرقان بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجوہات اب تک مکمل طور پر واضح تو نہیں مگر سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے دودھ کی ساخت اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کے لیے فارمولا دودھ پر پل رہے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بلی روبن ہونا عام ہے مگر اس کے باوجود ماؤں کو اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5c13a672336e0'&gt;یرقان کی علامات&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;یرقان عموماً زندگی کے دوسرے یا تیسرے دن سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے بچے کا چہرہ پیلا نظر آتا ہے اور اس کے بعد یہ پیلاہٹ سینے اور ٹانگوں تک پھیل جاتی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/11/5bdd5c3e27972.jpg"  alt="بچوں میں یرقان کے علاج کے لیے انہیں خصوصی نیلی روشنی میں رکھا جاتا ہے جسے فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ &amp;mdash; فوٹو ShutterStock" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بچوں میں یرقان کے علاج کے لیے انہیں خصوصی نیلی روشنی میں رکھا جاتا ہے جسے فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ — فوٹو ShutterStock&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یرقان کا پتہ چلانے کے لیے بچے کے ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائے (چاہے بچے کی رنگت جو بھی ہو) تو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ چونکہ کئی بچوں کو یرقان ہونے سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے اس لیے اس کا پتہ لگانا والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ یرقان بچوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جس سے عموماً بہرا پن، سیریبرل پالسی (cerebral palsy) یا دماغ کو نقصان ہوسکتا ہے جبکہ یہ ہیپاٹائٹس کی موجودگی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1030021//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5bdd5f1f0d95b.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر ڈاکٹر کو شک ہو کہ آپ کے بچے کو یرقان ہے تو وہ خون کے ٹیسٹ یا بلی روبینومیٹر کا استعمال کرتے ہوئے خون میں بلی روبن کی مقدار جانچ سکتے ہیں۔ خون کا ٹیسٹ عموماً صرف تب استعمال کیا جاتا ہے جب یرقان پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ہوجائے۔ ٹیسٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا یرقان ہے یا نہیں اور یہ کہ علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;h4 id='5c13a67233732'&gt;نومولود بچوں میں یرقان کا علاج کیسے کیا جائے؟&lt;/h4&gt;

&lt;p&gt;اگر ڈاکٹر بلڈ ٹیسٹ کے بعد بچے کے لیے علاج تجویز کرے تو بچے کو خصوصی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ اس علاج کو فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ اگر یرقان طویل ہوجائے یا ہاضمے سے متعلق کوئی اور بیماری بھی شامل ہو تو مزید اقدامات بھی ضروری ہوسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نومولود بچوں میں سب سے عمومی بیماری یرقان (پیلیا) ہے اور زیادہ تر معاملات میں یہ بغیر کسی خصوصی علاج کے 2 ہفتوں کے اندر خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ مکمل دورانیے کے زیادہ تر بچوں میں یرقان ایک ہفتے سے زیادہ باقی نہیں رہتا۔ </p>

<p>یرقان تب ہوتا ہے جب بلی روبن نامی کیمیکل کی اضافی تعداد بچوں کے خون میں شامل ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ خون کے سرخ خلیوں کی تباہی ہوتی ہے۔ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں (مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا)، 9 ماہ کی مدت سے پہلے بچے کی پیدائش، بلڈ گروپ کے مسائل (آر ایچ یا اے بی او بلڈ گروپ)، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060659//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5bdd5df118b0d.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو چھاتی کے دودھ کا یرقان بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجوہات اب تک مکمل طور پر واضح تو نہیں مگر سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے دودھ کی ساخت اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کے لیے فارمولا دودھ پر پل رہے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بلی روبن ہونا عام ہے مگر اس کے باوجود ماؤں کو اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔ </p>

<h4 id='5c13a672336e0'>یرقان کی علامات</h4>

<p>یرقان عموماً زندگی کے دوسرے یا تیسرے دن سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے بچے کا چہرہ پیلا نظر آتا ہے اور اس کے بعد یہ پیلاہٹ سینے اور ٹانگوں تک پھیل جاتی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/11/5bdd5c3e27972.jpg"  alt="بچوں میں یرقان کے علاج کے لیے انہیں خصوصی نیلی روشنی میں رکھا جاتا ہے جسے فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ &mdash; فوٹو ShutterStock" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بچوں میں یرقان کے علاج کے لیے انہیں خصوصی نیلی روشنی میں رکھا جاتا ہے جسے فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ — فوٹو ShutterStock</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یرقان کا پتہ چلانے کے لیے بچے کے ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائے (چاہے بچے کی رنگت جو بھی ہو) تو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ چونکہ کئی بچوں کو یرقان ہونے سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے اس لیے اس کا پتہ لگانا والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ یرقان بچوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جس سے عموماً بہرا پن، سیریبرل پالسی (cerebral palsy) یا دماغ کو نقصان ہوسکتا ہے جبکہ یہ ہیپاٹائٹس کی موجودگی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1030021//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5bdd5f1f0d95b.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر ڈاکٹر کو شک ہو کہ آپ کے بچے کو یرقان ہے تو وہ خون کے ٹیسٹ یا بلی روبینومیٹر کا استعمال کرتے ہوئے خون میں بلی روبن کی مقدار جانچ سکتے ہیں۔ خون کا ٹیسٹ عموماً صرف تب استعمال کیا جاتا ہے جب یرقان پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ہوجائے۔ ٹیسٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا یرقان ہے یا نہیں اور یہ کہ علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔ </p>

<h4 id='5c13a67233732'>نومولود بچوں میں یرقان کا علاج کیسے کیا جائے؟</h4>

<p>اگر ڈاکٹر بلڈ ٹیسٹ کے بعد بچے کے لیے علاج تجویز کرے تو بچے کو خصوصی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ اس علاج کو فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ اگر یرقان طویل ہوجائے یا ہاضمے سے متعلق کوئی اور بیماری بھی شامل ہو تو مزید اقدامات بھی ضروری ہوسکتے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090276</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Dec 2018 17:47:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/10/5bd9d538dbc3c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/10/5bd9d538dbc3c.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
