<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 21:21:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 21:21:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی پارلیمنٹ میں آسیہ بی بی کی بریت کا چرچہ، ’فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090324/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کی بازگشت برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;a href="https://www.bbc.com/news/uk-politics-46043667"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ کا ذکر برطانوی پارلیمنٹ میں بھی ہوا اور وقفہ سوالات کے درمیان برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سے اس فیصلے کو تسلیم اور تعریف کرنے سے متعلق سوال پوچھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/351805718960138/?__xts__[0]=68.ARDCEPrW6JSMcwiar2bZBUd5Vvj2_Pir3IcbsQvnGISqcUQ8UEkefQq90OKwJYfxAcbgHMFjUTIIeI7LmCJ-kpLmrZ_Tx-to8XsqLV8YbTwoxECwsXCrCQLeKP3AeZKXzkdPA0L8ihxSEcs_ycwWLFv6KBA6L1hy9NJ2SwZDAkgrBsTYVCotwdvBnFDcDM4V11iwbz-DEYY3WDarazy3fNok4AEmSGYtpg&amp;amp;__tn__=-R" data-width="650"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعظم تھریسامے سے پوچھا کہ ’ کیا وزیر اعظم، پاکستان کے سپریم کورٹ کی جانب سے نوجوان مسیحی خاتون اور 5 بچوں کی والدہ آسیہ بی بی، جنہوں نے محض پانی پینے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع میں توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرتے ہوئے 8 سال جیل میں گزارے، ان کی سزا کالعدم قرار دینے کو خوش آمدید کہیں گی اور کیا وزیر اعظم، پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جرأت اور بہادری اور انصاف کی فراہمی قائم کرنے اور آسیہ بی بی کی رہائی سے تمام عقائد کے لیے مذہبی آزادی کے بھیجے گئے پیغام کی تعریف کریں گی؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090306/"&gt;’آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولﷺ نہیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر برطانوی وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’پاکستان سے آنے والی آسیہ بی بی کی رہائی کی خبر کا ان کے اہل خانہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی رہائی کی مہم چلانے والوں کی جانب سے خیر مقدم کیا جانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ ’سزائے موت پر ہمارا ٹھوس مؤقف سب جانتے ہیں اور ہم عالمی سطح پر اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ابتدائی طور پر مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا تھا اور ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں عدالت کی جانب سے 57 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اردو میں جاری کیا تھا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا تھا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الگ اضافی نوٹ تحریر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے دیے گئے تحریری فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا گیا تھا جبکہ اس میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا تھا&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے میں کہا تھا کہ’ یہ قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ دعویٰ کرنے والے کو الزامات ثابت کرنے ہوتے ہیں، لہٰذا یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران شک کے بجائے ملزم پر الزمات ثابت کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ’ ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک استغاثہ ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر مدعی کی جانب سے ملزم پر لگائے گئے الزمات پرعدالت کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مجرمانہ مقدمات میں’ شک و شبہ سے بالاتر ثبوت‘ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ ان اصولوں میں سے ایک ہے، جس میں ’اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی جائے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5bdb1fb4a43f8'&gt;آسیہ بی بی کیس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں 19 جون 2009 کو ایک واقعہ پیش آیا جس میں آسیہ بی بی نے کھیتوں میں کام کے دوران ایک گلاس میں پانی پیا جس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے آسیہ پانی کے برتن کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں، جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جھگڑے کے دوران اس خاتون کی جانب سے آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا، جس کے کچھ دنوں بعد خاتون نے ایک مقامی عالم سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے سامنے آسیہ کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پیش کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں آسیہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس پر ٹرائل کورٹ نے نومبر 2010 میں توہین مذہب کے الزام میں انہیں سزائے موت سنائی، تاہم ان کے وکلاء اپنی موکلہ کی بے گناہی پر اصرار کررہے تھے اور ان کا موقف تھا کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/"&gt;سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں آسیہ بی بی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا، تاہم عدالت نے 2014 میں ان کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کی بازگشت برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گئی۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <a href="https://www.bbc.com/news/uk-politics-46043667"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ کا ذکر برطانوی پارلیمنٹ میں بھی ہوا اور وقفہ سوالات کے درمیان برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سے اس فیصلے کو تسلیم اور تعریف کرنے سے متعلق سوال پوچھا گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/2 w-full  media--left  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/351805718960138/?__xts__[0]=68.ARDCEPrW6JSMcwiar2bZBUd5Vvj2_Pir3IcbsQvnGISqcUQ8UEkefQq90OKwJYfxAcbgHMFjUTIIeI7LmCJ-kpLmrZ_Tx-to8XsqLV8YbTwoxECwsXCrCQLeKP3AeZKXzkdPA0L8ihxSEcs_ycwWLFv6KBA6L1hy9NJ2SwZDAkgrBsTYVCotwdvBnFDcDM4V11iwbz-DEYY3WDarazy3fNok4AEmSGYtpg&amp;__tn__=-R" data-width="650"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>برطانوی رکن پارلیمنٹ نے وزیر اعظم تھریسامے سے پوچھا کہ ’ کیا وزیر اعظم، پاکستان کے سپریم کورٹ کی جانب سے نوجوان مسیحی خاتون اور 5 بچوں کی والدہ آسیہ بی بی، جنہوں نے محض پانی پینے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع میں توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرتے ہوئے 8 سال جیل میں گزارے، ان کی سزا کالعدم قرار دینے کو خوش آمدید کہیں گی اور کیا وزیر اعظم، پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جرأت اور بہادری اور انصاف کی فراہمی قائم کرنے اور آسیہ بی بی کی رہائی سے تمام عقائد کے لیے مذہبی آزادی کے بھیجے گئے پیغام کی تعریف کریں گی؟</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090306/">’آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسولﷺ نہیں‘</a></strong></p>

<p>اس پر برطانوی وزیر اعظم نے جواب دیا کہ ’پاکستان سے آنے والی آسیہ بی بی کی رہائی کی خبر کا ان کے اہل خانہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کی رہائی کی مہم چلانے والوں کی جانب سے خیر مقدم کیا جانا چاہیے‘۔</p>

<p>انہوں  نے کہا کہ ’سزائے موت پر ہمارا ٹھوس مؤقف سب جانتے ہیں اور ہم عالمی سطح پر اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ابتدائی طور پر مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا تھا اور ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا۔</p>

<p>عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔</p>

<p>بعد ازاں عدالت کی جانب سے 57 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ اردو میں جاری کیا تھا، جو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا تھا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الگ اضافی نوٹ تحریر کیا تھا۔</p>

<p>عدالت کی جانب سے دیے گئے تحریری فیصلے کا آغاز کلمہ شہادت سے کیا گیا تھا جبکہ اس میں قرآنی آیات اور احادیث کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا تھا</p>

<p>چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے میں کہا تھا کہ’ یہ قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ دعویٰ کرنے والے کو الزامات ثابت کرنے ہوتے ہیں، لہٰذا یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران شک کے بجائے ملزم پر الزمات ثابت کرے۔</p>

<p>تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ’ ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک استغاثہ ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر مدعی کی جانب سے ملزم پر لگائے گئے الزمات پرعدالت کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا‘۔</p>

<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مجرمانہ مقدمات میں’ شک و شبہ سے بالاتر ثبوت‘ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور یہ ان اصولوں میں سے ایک ہے، جس میں ’اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی جائے‘۔</p>

<h3 id='5bdb1fb4a43f8'>آسیہ بی بی کیس</h3>

<p>پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں 19 جون 2009 کو ایک واقعہ پیش آیا جس میں آسیہ بی بی نے کھیتوں میں کام کے دوران ایک گلاس میں پانی پیا جس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے آسیہ پانی کے برتن کو ہاتھ نہیں لگا سکتیں، جس پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔</p>

<p>جھگڑے کے دوران اس خاتون کی جانب سے آسیہ بی بی پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا، جس کے کچھ دنوں بعد خاتون نے ایک مقامی عالم سے رابطہ کرتے ہوئے ان کے سامنے آسیہ کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پیش کیے۔</p>

<p>بعد ازاں آسیہ بی بی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس پر ٹرائل کورٹ نے نومبر 2010 میں توہین مذہب کے الزام میں انہیں سزائے موت سنائی، تاہم ان کے وکلاء اپنی موکلہ کی بے گناہی پر اصرار کررہے تھے اور ان کا موقف تھا کہ الزام لگانے والے آسیہ سے بغض رکھتے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/">سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے جرم کی سزا موت ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس قانون کو اکثر ذاتی انتقام لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>

<p>بعد ازاں آسیہ بی بی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا، تاہم عدالت نے 2014 میں ان کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090324</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Nov 2018 20:45:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bdadcf8f09c7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bdadcf8f09c7.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
