<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 01:21:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 01:21:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر میں جعلی اکاؤنٹس کی رپورٹ کرنا اب زیادہ آسان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090356/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹوئٹر نے جعلی اکاﺅنٹس کو رپورٹ کرنے کے عمل کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان بنادیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی تک ٹوئٹر کی جانب سے صارفین کو جعلی اکاﺅنٹس یا اسپام ٹوئٹس کے حوالے سے رپورٹ کرنے کا محدود آپشن دستیاب تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب اسے بدل دیا گیا ہے اور اب صارفین جب کسی ٹوئیٹ یا اکاﺅنٹ کی رپورٹ کریں گے تو وہ اسپام کی اقسام کی وضاحت بھی کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/TwitterSafety/status/1057675174735155200"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صارفین اب ایسی ٹوئیٹس کی رپورٹ کرسکیں گے جو کہ کسی بوٹ یا جعلی اکاﺅنٹ سے کی گئی ہے یا بتا سکیں گے کہ اس ٹوئیٹ میں کوئی مشتبہ لنک موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح غیر متعلقہ ہیش ٹیگ کے ساتھ کی جانے والی ٹوئیٹس کو رپورٹ کرنے کا آپشن بھی دیا جارہا ہے، اس طریقہ کار کو اکثر اپنی ٹوئیٹس کو ٹرینڈز کا حصہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے کسی صارف کی جانب سے اسپام ریپلائی کو رپورٹ کرنے کا بھی فیچر اب دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ رپورٹنگ ٹولز اب تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس کا مقصد جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکنے، سازشی خیالات کی روک تھام اور بوٹ اکاﺅنٹس کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے رواں سال جولائی میں اس طرح کے 7 کروڑ جعلی اکاﺅنٹس ڈیلیٹ کرنے کا بیان دیا تھا مگر اب کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ٹولز سے اس طرح کے اکاﺅنٹس کو زیادہ تیزی سے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹوئٹر نے جعلی اکاﺅنٹس کو رپورٹ کرنے کے عمل کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان بنادیا ہے۔</p>

<p>ابھی تک ٹوئٹر کی جانب سے صارفین کو جعلی اکاﺅنٹس یا اسپام ٹوئٹس کے حوالے سے رپورٹ کرنے کا محدود آپشن دستیاب تھا۔</p>

<p>مگر اب اسے بدل دیا گیا ہے اور اب صارفین جب کسی ٹوئیٹ یا اکاﺅنٹ کی رپورٹ کریں گے تو وہ اسپام کی اقسام کی وضاحت بھی کرسکیں گے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/TwitterSafety/status/1057675174735155200"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>صارفین اب ایسی ٹوئیٹس کی رپورٹ کرسکیں گے جو کہ کسی بوٹ یا جعلی اکاﺅنٹ سے کی گئی ہے یا بتا سکیں گے کہ اس ٹوئیٹ میں کوئی مشتبہ لنک موجود ہے۔</p>

<p>اسی طرح غیر متعلقہ ہیش ٹیگ کے ساتھ کی جانے والی ٹوئیٹس کو رپورٹ کرنے کا آپشن بھی دیا جارہا ہے، اس طریقہ کار کو اکثر اپنی ٹوئیٹس کو ٹرینڈز کا حصہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>

<p>ٹوئٹر کی جانب سے کسی صارف کی جانب سے اسپام ریپلائی کو رپورٹ کرنے کا بھی فیچر اب دستیاب ہوگا۔</p>

<p>یہ رپورٹنگ ٹولز اب تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس کا مقصد جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکنے، سازشی خیالات کی روک تھام اور بوٹ اکاﺅنٹس کے مسئلے پر قابو پانا ہے۔</p>

<p>کمپنی نے رواں سال جولائی میں اس طرح کے 7 کروڑ جعلی اکاﺅنٹس ڈیلیٹ کرنے کا بیان دیا تھا مگر اب کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے ٹولز سے اس طرح کے اکاﺅنٹس کو زیادہ تیزی سے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090356</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Nov 2018 10:07:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bdb2458101e5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bdb2458101e5.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: اے ایف پی / فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
