<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:14:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:14:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیہ بی بی کیس:ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹنا افسوسناک ہے، ترجمان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090381/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آسیہ مسیح کا کیس گزشتہ 10 برسوں سے عدالتوں میں چل رہا ہے، اس کیس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹنا افسوسناک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں ملک میں ایک امن و امان کی صورتحال بنی ہوئی ہے، جس میں ہماری مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں دھرنے دیے ہوئے ہیں، جہاں تک ان کے جذبات کی بات ہے، پاکستان بھر کے مسلمانوں کا حضور ﷺ سے ایک محبت کا رشتہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لوگوں کے جذبات حضورﷺ کی ناموس کے حوالے سے مجروح ہوئے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں اور اگر کوئی بھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا تو بحیثیت مسلمان ہمیں بہت دکھ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090346/"&gt;آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے اپیل دائر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جہاں تک آسیہ مسیح کے کیس کا تعلق ہے تو یہ 10 سال تک عدالتوں میں چلا، انہیں سزا ہوئی اور وہ قید میں رہیں اورجب سپریم کورٹ نے اب فیصلہ دیا ہے تو یہ ایک قانونی عمل ہے اور اس فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر ہوگئی ہے چند دنوں میں اس کی سماعت کی تاریخ آجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ دینی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے ہی یہ پٹیشن دائر ہوئی ہو لیکن یہ ایک قانونی عمل تھا جو ہوگیا ہے، اب اس کیس کو چلنے دیں اور مکمل ہونے دیں، پھر جو عدالت فیصلہ کرے گی اس کو دیکھتے ہوئے تمام مسلمان آگے کا راستہ چن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میری ایک پاکستانی اور مسلمان کی حیثیت سے تجویر ہوگی کہ اس معاملے کو کیس کی حیثیت سے آگے چلنے دیں اور دیکھیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے، افواج پاکستان چاہے گی کہ یہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اینکر نے سوال کیا کہ دھرنے کے دوران فوج کے حوالے سے بھی بیان دیے گئے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جہاں تک فوج کے خلاف، کچھ افسران کے خلاف بیان کی بات ہے تو آئین اور قانون میں کچھ حد بندی دی گئی ہے، ان کا احترام کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنے کی کی کوشش کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بھی عدالت نے فیصلہ دیا ہے اور فوج کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک قانونی عمل ہے لیکن اس دوران افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا بہت افسوسناک عمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں سب کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑی ہے، جس کو ہم جیتنے کے قریب ہیں، جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم جیتنے کے قریب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جنگ کا ایک ہدف ہوتا ہے اور ہمارا ہدف داہمی امن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امن تو قائم کرلیا اور ہم استحکام کی طرف جارہے ہیں لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، ہماری پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ پاک فوج کی توجہ دوسری طرف مائل نہیں کریں، ہم بہت برداشت کر رہےہیں، اپنے خلاف بات کو تو ہم برداشت کیے جارہے لیکن پھر آئین اور قانون کے تحت ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090334/"&gt;آسیہ بی بی کی بریت، فیصلے کے 7 اہم ترین نکات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک جس حالات میں چل رہا ہے اس حالات سے نکلیں اور ترقی کی طرف جائیں، ہم سب متحد ہوں گے تو آگے چلیں گے، اس میں بھی افواج پاکستان اپنی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چل رہی ہے، اس کیس سے تعلق کے بغیر بھی ہماری خواہش ہوگی کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور وہ قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے جس کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم اس ملک کی فوج ہیں، اس ملک سے ہمیں پیار ہے، یہاں کے عوام ہم سے پیار کرتے ہیں، عوام اور فوج نے مل کر امن قائم کیا ہے لہٰذا اس امن کو دشمن قوتوں کی نظر نہ ہونے دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اینکر نے سوال کیا کہ ’کل تحریک لبیک کی جانب سے کہا گیا کہ آپریشن کرکے &lt;a href="https://twitter.com/KhadimRizviReal/status/1058061876670722049"&gt;&lt;strong&gt;انہیں بھون دیا جائے گا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر آصف غفور نے کہا کہ میں نے خادم حسین رضوی کی وہ ٹوئٹ دیکھی ہے، ملک میں امن و امان کی ایک صورتحال بنی ہوئی ہے، اس میں مذاکرات کے لیے حکومت کا ایک وفد گیا، اس میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی انٹیلی جنس کا ایک حصہ ہے اور آئی ایس آئی کے جو نمائندے ہوتے ہیں وہ حکومتی وفد کا حصہ ہوتے ہوئے مذاکرات کرتے ہیں اور مذاکرات کے دوران بات چیت میں اتار چڑھاؤ آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ معاملہ حکومتی سطح پر چل رہا ہے اور حکومت نے ان سے بات چیت کی ہے اور اس کے بعد حکومت کا اختیار ہے، جس میں پہلے پولیس اور رینجرز آتی ہیں، اس کے بعد اگر افواج پاکستان کو طلب کیا جاتا ہے تو آرمی چیف اپنا مشورہ دیں گے اور جو وزیر اعظم کا حکم ہوگا اس کے مطابق امن و امان کی صورتحال ٹھیک کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آصف غفور نے کہا کہ ہماری خواہش یہی ہے کہ قانونی عمل مکمل ہونے دیں اور افواج پاکستان جس کام میں مصروف ہے وہ کرنے دیں اور اس اسٹیج پر نہ لے کر جائیں کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جو کام کرنے چاہئیں وہ کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے درمیان اگر کوئی اونچ نیچ ہوئی ہے تو انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد بہتر صورتحال کی طرف جانا ہے، حکومتی وفد کے ساتھ اگر مذاکرات ہوں تو دونوں کو ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے اور بات اس نوبت تک نہیں آنی چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری میں آجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا ملک ہے، اس میں کسی قسم کی شرانگیزی نہیں ہونی چاہیے، جب ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اسلام تو ہمیں امن، درگزر اور پیار سکھاتا ہے اور ہم اس نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں، جنہوں نے صرف امن کا درس دیا، لہٰذا ہمیں قانون کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کو نہیں چھوڑنا چاہیے، ہمیں حضورﷺ کی ناموس پر کچھ برداشت نہیں کرنا چاہیے لیکن ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے،اس کے مطابق چلنا چاہیے، افواج پاکستان کے پاس جب یہ معاملہ آئے گا تو ہم اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/"&gt;&lt;strong&gt;آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090310/"&gt;مذہبی جماعتوں کااحتجاج: سڑکیں بلاک، عوام پریشان، نظام زندگی متاثر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم عدالتی حکم کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جو ابھی تک جاری ہے، جس سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر رد عمل دیا گیا تھا اور وزیر اعظم نے بھی قوم سے خطاب کیا تھا جبکہ بعد ازاں مظاہرین سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم  گزشتہ شب مظاہرین کی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے حکومت کے ساتھ ہونے والے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090370/"&gt;&lt;strong&gt;مذاکرات ناکام ہوگئے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام بھی شامل تھے تاہم مذاکرات ناکام ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ قیادت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ مذاکرات ناکامی پر حکومت نے کہا ہے کہ &lt;a href="https://twitter.com/KhadimRizviReal/status/1058061876670722049"&gt;&lt;strong&gt;ہم آپ کو ’بھون‘ دیں گے&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آسیہ مسیح کا کیس گزشتہ 10 برسوں سے عدالتوں میں چل رہا ہے، اس کیس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹنا افسوسناک ہے۔</p>

<p>سرکاری ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں ملک میں ایک امن و امان کی صورتحال بنی ہوئی ہے، جس میں ہماری مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک بھر میں دھرنے دیے ہوئے ہیں، جہاں تک ان کے جذبات کی بات ہے، پاکستان بھر کے مسلمانوں کا حضور ﷺ سے ایک محبت کا رشتہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ لوگوں کے جذبات حضورﷺ کی ناموس کے حوالے سے مجروح ہوئے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں اور اگر کوئی بھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا تو بحیثیت مسلمان ہمیں بہت دکھ ہوگا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090346/">آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے اپیل دائر</a></strong></p>

<p>میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جہاں تک آسیہ مسیح کے کیس کا تعلق ہے تو یہ 10 سال تک عدالتوں میں چلا، انہیں سزا ہوئی اور وہ قید میں رہیں اورجب سپریم کورٹ نے اب فیصلہ دیا ہے تو یہ ایک قانونی عمل ہے اور اس فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر ہوگئی ہے چند دنوں میں اس کی سماعت کی تاریخ آجائے گی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ دینی جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے ہی یہ پٹیشن دائر ہوئی ہو لیکن یہ ایک قانونی عمل تھا جو ہوگیا ہے، اب اس کیس کو چلنے دیں اور مکمل ہونے دیں، پھر جو عدالت فیصلہ کرے گی اس کو دیکھتے ہوئے تمام مسلمان آگے کا راستہ چن سکتے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ میری ایک پاکستانی اور مسلمان کی حیثیت سے تجویر ہوگی کہ اس معاملے کو کیس کی حیثیت سے آگے چلنے دیں اور دیکھیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے، افواج پاکستان چاہے گی کہ یہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہوجائے۔</p>

<p>اینکر نے سوال کیا کہ دھرنے کے دوران فوج کے حوالے سے بھی بیان دیے گئے؟</p>

<p>اس پر جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جہاں تک فوج کے خلاف، کچھ افسران کے خلاف بیان کی بات ہے تو آئین اور قانون میں کچھ حد بندی دی گئی ہے، ان کا احترام کرنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے فوج کو ہر معاملے میں گھسیٹنے کی کی کوشش کی جاتی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں بھی عدالت نے فیصلہ دیا ہے اور فوج کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک قانونی عمل ہے لیکن اس دوران افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا بہت افسوسناک عمل ہے۔</p>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں سب کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑی ہے، جس کو ہم جیتنے کے قریب ہیں، جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم جیتنے کے قریب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جنگ کا ایک ہدف ہوتا ہے اور ہمارا ہدف داہمی امن ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امن تو قائم کرلیا اور ہم استحکام کی طرف جارہے ہیں لیکن ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، ہماری پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ پاک فوج کی توجہ دوسری طرف مائل نہیں کریں، ہم بہت برداشت کر رہےہیں، اپنے خلاف بات کو تو ہم برداشت کیے جارہے لیکن پھر آئین اور قانون کے تحت ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090334/">آسیہ بی بی کی بریت، فیصلے کے 7 اہم ترین نکات</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک جس حالات میں چل رہا ہے اس حالات سے نکلیں اور ترقی کی طرف جائیں، ہم سب متحد ہوں گے تو آگے چلیں گے، اس میں بھی افواج پاکستان اپنی برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چل رہی ہے، اس کیس سے تعلق کے بغیر بھی ہماری خواہش ہوگی کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور وہ قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے جس کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے۔</p>

<p>میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم اس ملک کی فوج ہیں، اس ملک سے ہمیں پیار ہے، یہاں کے عوام ہم سے پیار کرتے ہیں، عوام اور فوج نے مل کر امن قائم کیا ہے لہٰذا اس امن کو دشمن قوتوں کی نظر نہ ہونے دیں۔</p>

<p>اینکر نے سوال کیا کہ ’کل تحریک لبیک کی جانب سے کہا گیا کہ آپریشن کرکے <a href="https://twitter.com/KhadimRizviReal/status/1058061876670722049"><strong>انہیں بھون دیا جائے گا</strong></a>‘۔</p>

<p>اس پر آصف غفور نے کہا کہ میں نے خادم حسین رضوی کی وہ ٹوئٹ دیکھی ہے، ملک میں امن و امان کی ایک صورتحال بنی ہوئی ہے، اس میں مذاکرات کے لیے حکومت کا ایک وفد گیا، اس میں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی انٹیلی جنس کا ایک حصہ ہے اور آئی ایس آئی کے جو نمائندے ہوتے ہیں وہ حکومتی وفد کا حصہ ہوتے ہوئے مذاکرات کرتے ہیں اور مذاکرات کے دوران بات چیت میں اتار چڑھاؤ آجاتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ معاملہ حکومتی سطح پر چل رہا ہے اور حکومت نے ان سے بات چیت کی ہے اور اس کے بعد حکومت کا اختیار ہے، جس میں پہلے پولیس اور رینجرز آتی ہیں، اس کے بعد اگر افواج پاکستان کو طلب کیا جاتا ہے تو آرمی چیف اپنا مشورہ دیں گے اور جو وزیر اعظم کا حکم ہوگا اس کے مطابق امن و امان کی صورتحال ٹھیک کی جاسکتی ہے۔</p>

<p>آصف غفور نے کہا کہ ہماری خواہش یہی ہے کہ قانونی عمل مکمل ہونے دیں اور افواج پاکستان جس کام میں مصروف ہے وہ کرنے دیں اور اس اسٹیج پر نہ لے کر جائیں کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جو کام کرنے چاہئیں وہ کریں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے درمیان اگر کوئی اونچ نیچ ہوئی ہے تو انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد بہتر صورتحال کی طرف جانا ہے، حکومتی وفد کے ساتھ اگر مذاکرات ہوں تو دونوں کو ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے اور بات اس نوبت تک نہیں آنی چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری میں آجائے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا ملک ہے، اس میں کسی قسم کی شرانگیزی نہیں ہونی چاہیے، جب ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو اسلام تو ہمیں امن، درگزر اور پیار سکھاتا ہے اور ہم اس نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں، جنہوں نے صرف امن کا درس دیا، لہٰذا ہمیں قانون کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات کو نہیں چھوڑنا چاہیے، ہمیں حضورﷺ کی ناموس پر کچھ برداشت نہیں کرنا چاہیے لیکن ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے،اس کے مطابق چلنا چاہیے، افواج پاکستان کے پاس جب یہ معاملہ آئے گا تو ہم اس کے مطابق فیصلہ کریں گے۔</p>

<p>یاد رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/"><strong>آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دیتے</strong></a> ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090310/">مذہبی جماعتوں کااحتجاج: سڑکیں بلاک، عوام پریشان، نظام زندگی متاثر</a></strong></p>

<p>تاہم عدالتی حکم کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، جو ابھی تک جاری ہے، جس سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔</p>

<p>حکومت کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر رد عمل دیا گیا تھا اور وزیر اعظم نے بھی قوم سے خطاب کیا تھا جبکہ بعد ازاں مظاہرین سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم  گزشتہ شب مظاہرین کی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے حکومت کے ساتھ ہونے والے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090370/"><strong>مذاکرات ناکام ہوگئے</strong></a>۔</p>

<p>مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام بھی شامل تھے تاہم مذاکرات ناکام ہوگئے۔</p>

<p>ساتھ ہی یہ قیادت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ مذاکرات ناکامی پر حکومت نے کہا ہے کہ <a href="https://twitter.com/KhadimRizviReal/status/1058061876670722049"><strong>ہم آپ کو ’بھون‘ دیں گے</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090381</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Nov 2018 14:45:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bdbe196b511c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bdbe196b511c.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/w5jwlVgTn-k/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/w5jwlVgTn-k/hqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=w5jwlVgTn-k"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
