<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:06:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:06:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیہ بی بی کے شوہر کی حکومت پر تنقید، اہلیہ کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090500/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسیہ بی بی کے شوہر نے حکومت اور دھرنا دینے والی مذہبی جماعت کے مابین معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے حکام سے تحفظ دینے کا مطالبہ کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے ملک بھر میں 3 دن تک دھرنا جاری رہا جس کے بعد وفاق، صوبائی حکومت پنجاب اور ٹی ایل پی قائدین کے مابین 5 نکات پر معاہدہ طے پایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090497/"&gt;خادم حسین رضوی سمیت 400 مظاہرین کےخلاف مقدمات درج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے میں آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی شرط بھی شامل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ضمن میں آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے جرمن ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھی غلط مثال رکھی جارہی ہے، جس کی بنیاد پر عدلیہ پر دباؤ ڈالا جائے گا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ حکومت کو مظاہرین کی جانب سے دباؤ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ بہت بہادرانہ اقدام تھا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسیہ بی بی کے بقول انہیں خوف ہے کہ رہائی سے قبل آسیہ بی بی پر جیل میں ہی حملہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471/"&gt;جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عاشق مسیح نے موجودہ حالات کو اپنے لیے خطرناک قرار دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے حالات خطرناک ہیں، ہمارے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں اور پناہ کے لیے اِدھر اَدھر چھپ رہے ہیں اور حال ہی میں دوبارہ اپنی جگہ تبدیل کی‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت کی منتظر مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سپریم کوٹ سے رہائی کے بعد ان کے وکیل ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو آسیہ بی بی کا کیس لڑنے اور انہیں رہائی دلوانے کے بعد جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/"&gt;حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عاشق مسیح نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آسیہ بی بی کو جیل میں مزید تحفظ فراہم کیا جائے جہاں اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں عاشق مسیح نے حوالہ دیا کہ توہین مذہب کے کیس میں 2 مسیح افراد کو عدالت سے بریت کے باوجود قتل کردیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسیہ بی بی کے شوہر نے کہا کہ آسیہ کے لیے حالات بہت خطرناک ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی محفوظ نہیں، اس لیے میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ جیل میں آسیہ بی بی کی سیکیورٹی بڑھادی جائے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسیہ بی بی کے شوہر نے حکومت اور دھرنا دینے والی مذہبی جماعت کے مابین معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے حکام سے تحفظ دینے کا مطالبہ کردیا۔ </p>

<p>واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے ملک بھر میں 3 دن تک دھرنا جاری رہا جس کے بعد وفاق، صوبائی حکومت پنجاب اور ٹی ایل پی قائدین کے مابین 5 نکات پر معاہدہ طے پایا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090497/">خادم حسین رضوی سمیت 400 مظاہرین کےخلاف مقدمات درج</a></strong></p>

<p>معاہدے میں آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی شرط بھی شامل ہے۔ </p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ضمن میں آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے جرمن ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بھی غلط مثال رکھی جارہی ہے، جس کی بنیاد پر عدلیہ پر دباؤ ڈالا جائے گا‘۔ </p>

<p>انہوں نے کہاکہ حکومت کو مظاہرین کی جانب سے دباؤ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ </p>

<p>عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ بہت بہادرانہ اقدام تھا‘۔ </p>

<p>آسیہ بی بی کے بقول انہیں خوف ہے کہ رہائی سے قبل آسیہ بی بی پر جیل میں ہی حملہ کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471/">جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے</a></strong></p>

<p>عاشق مسیح نے موجودہ حالات کو اپنے لیے خطرناک قرار دیا۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے حالات خطرناک ہیں، ہمارے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں اور پناہ کے لیے اِدھر اَدھر چھپ رہے ہیں اور حال ہی میں دوبارہ اپنی جگہ تبدیل کی‘۔ </p>

<p>واضح رہے کہ توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت کی منتظر مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سپریم کوٹ سے رہائی کے بعد ان کے وکیل ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ </p>

<p>فرانسیسی خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کو آسیہ بی بی کا کیس لڑنے اور انہیں رہائی دلوانے کے بعد جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/">حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان</a></strong></p>

<p>عاشق مسیح نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آسیہ بی بی کو جیل میں مزید تحفظ فراہم کیا جائے جہاں اس پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ </p>

<p>اس ضمن میں عاشق مسیح نے حوالہ دیا کہ توہین مذہب کے کیس میں 2 مسیح افراد کو عدالت سے بریت کے باوجود قتل کردیا گیا تھا۔ </p>

<p>آسیہ بی بی کے شوہر نے کہا کہ آسیہ کے لیے حالات بہت خطرناک ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی محفوظ نہیں، اس لیے میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ جیل میں آسیہ بی بی کی سیکیورٹی بڑھادی جائے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090500</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Nov 2018 15:38:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bddfa8ec38d1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bddfa8ec38d1.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
