<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:28:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:28:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تھر: غذائی قلت اور وائرل انفیکشن سے مزید 9 بچے جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090550/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ کے ضلع تھرپارکر میں غذائی قلت اور وائرل انفکیشن کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران 9 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع تھرپارکر کے مختلف ہسپتالوں میں بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تمام بچوں میں سے 7 کو صحرائی علاقوں سے مٹھی کے سول ہسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا تھا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090486"&gt;تھر، غذائی قلت اور وائرل انفکیشن سے مزید8 بچے جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے دفتر حکام کے مطابق 9 مزید بچوں کی اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 544 ہوگئی ہے جو ایک سال میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسپتال انتظامیہ کے مطابق جو نوزائیدہ بچے اسپتال میں دم توڑ گئے وہ غذائی کمی کا شکار تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھر میں دیگر مسائل کے علاوہ کم عمری میں شادی نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی بڑی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089879"&gt;بینکوں کو تھر کے متاثرین سے قرض وصولی منسوخ کرنے کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال کے باوجود دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اعلانات کے باوجود بچوں اور حاملہ خواتین کی غذائی قلت دور کرنے کے لیے کوئی موثر امدادی کام شروع نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ کے ضلع تھرپارکر میں غذائی قلت اور وائرل انفکیشن کے نتیجے میں 24 گھنٹوں کے دوران 9 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوگئے۔</p>

<p>ہسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضلع تھرپارکر کے مختلف ہسپتالوں میں بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔</p>

<p>ان تمام بچوں میں سے 7 کو صحرائی علاقوں سے مٹھی کے سول ہسپتال میں علاج کے لیے لایا گیا تھا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090486">تھر، غذائی قلت اور وائرل انفکیشن سے مزید8 بچے جاں بحق</a></strong></p>

<p>مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے دفتر حکام کے مطابق 9 مزید بچوں کی اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 544 ہوگئی ہے جو ایک سال میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔</p>

<p>اسپتال انتظامیہ کے مطابق جو نوزائیدہ بچے اسپتال میں دم توڑ گئے وہ غذائی کمی کا شکار تھے۔</p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ تھر میں دیگر مسائل کے علاوہ کم عمری میں شادی نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی بڑی وجہ ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089879">بینکوں کو تھر کے متاثرین سے قرض وصولی منسوخ کرنے کی ہدایت</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال کے باوجود دیہاتوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اعلانات کے باوجود بچوں اور حاملہ خواتین کی غذائی قلت دور کرنے کے لیے کوئی موثر امدادی کام شروع نہیں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090550</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Nov 2018 23:36:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حنیف سموںویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bdf2b72b7f25.jpg?r=1308162572" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bdf2b72b7f25.jpg?r=825818429"/>
        <media:title>— فوٹو: حنیف سموں
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
