<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:20:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:20:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیب نے حمزہ اور سلمان شہباز کو طلب کرلیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090604/</link>
      <description>&lt;p&gt;آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو طلب کر لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب حکام نے دونوں بھائیوں کو 9 نومبر کو طلب کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے پہلے سلمان شہباز کو نیب حکام ایک مرتبہ طلب کر چکے ہیں تاہم اس مرتبہ حمزہ شہباز کو بھی بیان دینے کے لیے طلب کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090325"&gt;حمزہ شہباز کی 13 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سے رمضان شوگر ملز سے متعلق بھی تفصیلات طلب کر لی گئیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نیب کی جانب حمزہ شہباز سے پوچھے جانے والے سوالات کی کاپی منظر عام پر آگئی ہے جس کے مطابق اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز 2016 تک رمضان  شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ بطور سی ای او حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز کو ماحول دوست بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید پوچھا گیا کہ رمضان شوکر ملز کے زہریلے پانی کے نقائص کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کرایا گیا یا نہیں؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080193"&gt;حمزہ شہباز، عائشہ احد ایک دوسرے کے خلاف تمام مقدمات سے دستبردار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ مقامی آبادی کی جانب سے زہریلے پانی کی شکایت پر بطور سی ای او آپ نے کیا احکامات جاری کیے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ رمضان شوگر ملز اور شریف ڈیری فارمز کا فضلہ ڈمپ کرنے کے لیے سمندری ڈرینیج ڈویژن اور محکمہ انہار کے ساتھ 4 جنوری 2016 میں معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر نیب نے سوال اٹھایا کہ یہ معاہدہ اس سے قبل کیوں نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو طلب کر لیا۔</p>

<p>نیب حکام نے دونوں بھائیوں کو 9 نومبر کو طلب کیا۔</p>

<p>اس سے پہلے سلمان شہباز کو نیب حکام ایک مرتبہ طلب کر چکے ہیں تاہم اس مرتبہ حمزہ شہباز کو بھی بیان دینے کے لیے طلب کر لیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090325">حمزہ شہباز کی 13 نومبر تک حفاظتی ضمانت منظور</a></strong></p>

<p>نیب ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سے رمضان شوگر ملز سے متعلق بھی تفصیلات طلب کر لی گئیں ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب نیب کی جانب حمزہ شہباز سے پوچھے جانے والے سوالات کی کاپی منظر عام پر آگئی ہے جس کے مطابق اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز 2016 تک رمضان  شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رہے رہیں۔</p>

<p>نیب کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ بطور سی ای او حمزہ شہباز نے رمضان شوگر ملز کو ماحول دوست بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟</p>

<p>مزید پوچھا گیا کہ رمضان شوکر ملز کے زہریلے پانی کے نقائص کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد کرایا گیا یا نہیں؟</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080193">حمزہ شہباز، عائشہ احد ایک دوسرے کے خلاف تمام مقدمات سے دستبردار</a></strong></p>

<p>نیب نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ مقامی آبادی کی جانب سے زہریلے پانی کی شکایت پر بطور سی ای او آپ نے کیا احکامات جاری کیے؟</p>

<p>خیال رہے کہ رمضان شوگر ملز اور شریف ڈیری فارمز کا فضلہ ڈمپ کرنے کے لیے سمندری ڈرینیج ڈویژن اور محکمہ انہار کے ساتھ 4 جنوری 2016 میں معاہدہ ہوا تھا۔</p>

<p>جس پر نیب نے سوال اٹھایا کہ یہ معاہدہ اس سے قبل کیوں نہیں کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090604</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Nov 2018 18:01:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی وقارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be036b90535f.png?r=1318650115" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be036b90535f.png?r=79564536"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
