<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:13:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:13:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی وجہ سے پاکستان چھوڑا، وکیل آسیہ بی بی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090642/</link>
      <description>&lt;p&gt;دی ہیگ: آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ’ان کی خواہش‘ کے خلاف انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہالینڈ جانے والے سیف الملوک کا دی ہیگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’رابطہ کرنے پر اسلام آباد میں موجود اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے سفارتکاروں نے 3 روز تک مجھے اپنے پاس رکھا اور پھر مجھے میری خواہشات کے خلاف ایک جہاز میں بٹھا دیا گیا'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471"&gt;جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان پر زور دیا کہ آسیہ بی بی کو جیل سے باہر لانے تک میں اس ملک کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن ہر کسی نے مجھے یہ کہا کہ اس وقت میں اہم ہدف ہوں جبکہ آسیہ بی بی کی دیکھ بھال کرنے کے لیے پوری دنیا موجود ہے، تاہم میں ان کے بغیر یہاں آکر خوش نہیں ہوں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیف الملوک کا کہنا تھا کہ ’وہ یہ سوچتے تھے کہ میں قتل کے لیے اہم ہدف ہوں اور میری زندگی انتہائی خطرے میں ہے، جس کی وجہ سے 3 دن تک انہوں نے دروازہ تک نہیں کھولنے دیا، پھر میں نے ایک دن فرانسیسی سفارتکار کو فون کرکے کہا کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس سے قبل آسیہ بی بی کے وکیل نے ہفتے کو ملک چھوڑنے سے قبل کہا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ پاکستان میں رہ سکوں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں سیف الملوک ایچ وی سی فاؤنڈیشن کی مدد سے کچھ وقت روم میں قیام کے بعد دی ہیگ پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ دی ایچ وی فاؤنڈیشن ہالینڈ کا ایک گروپ ہے جو مسیحی اقلیتوں کے انسانی حقوق کے معاملات پر توجہ دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کو ختم کرانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سیف الملوک نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ٹی ایل پی کے لیے ’بچاؤ‘ کا راستہ قرار دیا تھا اور زور دیا تھا کہ آسیہ بی بی ’100 فیصد جلد رہا ہوں گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ کاغذ کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ نہیں اور اس ٹکڑے کو کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/"&gt;حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وکیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ کسی ادارے نے آسیہ بی بی کو پاکستان چھوڑنے پر سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی ہے یا نہیں، تاہم میرے پاس ان کے لیے ملک کا انتخاب کرنے کا ’قانونی اختیار‘ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیف الملوک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود اقوام متحدہ کے حکام نے انہیں کہا کہ ’ہم آسیہ بی بی کا خیال رکھیں گے‘ لیکن ’جب میں نے پوچھا کہ کس ملک میں تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میں نے فرانسیسی سفارتکار سے پوچھا کہ کیا آپ کا ملک آسیہ بی بی کو سیاسی پناہ دینے کا خواہشمند ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ قانونی درخواست دیں گے، جس پر میں نے کہا کہ میں آسیہ بی بی سے درخواست کرتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 06 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دی ہیگ: آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ’ان کی خواہش‘ کے خلاف انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا کیونکہ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے۔</p>

<p>ہالینڈ جانے والے سیف الملوک کا دی ہیگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے حکام سے رابطہ کیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’رابطہ کرنے پر اسلام آباد میں موجود اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے سفارتکاروں نے 3 روز تک مجھے اپنے پاس رکھا اور پھر مجھے میری خواہشات کے خلاف ایک جہاز میں بٹھا دیا گیا'۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471">جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ان پر زور دیا کہ آسیہ بی بی کو جیل سے باہر لانے تک میں اس ملک کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن ہر کسی نے مجھے یہ کہا کہ اس وقت میں اہم ہدف ہوں جبکہ آسیہ بی بی کی دیکھ بھال کرنے کے لیے پوری دنیا موجود ہے، تاہم میں ان کے بغیر یہاں آکر خوش نہیں ہوں‘۔</p>

<p>سیف الملوک کا کہنا تھا کہ ’وہ یہ سوچتے تھے کہ میں قتل کے لیے اہم ہدف ہوں اور میری زندگی انتہائی خطرے میں ہے، جس کی وجہ سے 3 دن تک انہوں نے دروازہ تک نہیں کھولنے دیا، پھر میں نے ایک دن فرانسیسی سفارتکار کو فون کرکے کہا کہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتا‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس سے قبل آسیہ بی بی کے وکیل نے ہفتے کو ملک چھوڑنے سے قبل کہا تھا کہ ’موجودہ صورتحال میں میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ پاکستان میں رہ سکوں‘۔ </p>

<p>بعد ازاں سیف الملوک ایچ وی سی فاؤنڈیشن کی مدد سے کچھ وقت روم میں قیام کے بعد دی ہیگ پہنچ گئے۔</p>

<p>واضح رہے کہ دی ایچ وی فاؤنڈیشن ہالینڈ کا ایک گروپ ہے جو مسیحی اقلیتوں کے انسانی حقوق کے معاملات پر توجہ دیتا ہے۔</p>

<p>یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہونے والے احتجاج کو ختم کرانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا۔</p>

<p>تاہم سیف الملوک نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ٹی ایل پی کے لیے ’بچاؤ‘ کا راستہ قرار دیا تھا اور زور دیا تھا کہ آسیہ بی بی ’100 فیصد جلد رہا ہوں گی‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ معاہدہ کاغذ کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ نہیں اور اس ٹکڑے کو کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/">حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان</a></strong></p>

<p>وکیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ کسی ادارے نے آسیہ بی بی کو پاکستان چھوڑنے پر سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی ہے یا نہیں، تاہم میرے پاس ان کے لیے ملک کا انتخاب کرنے کا ’قانونی اختیار‘ ہے۔</p>

<p>سیف الملوک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود اقوام متحدہ کے حکام نے انہیں کہا کہ ’ہم آسیہ بی بی کا خیال رکھیں گے‘ لیکن ’جب میں نے پوچھا کہ کس ملک میں تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے‘۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’میں نے فرانسیسی سفارتکار سے پوچھا کہ کیا آپ کا ملک آسیہ بی بی کو سیاسی پناہ دینے کا خواہشمند ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ قانونی درخواست دیں گے، جس پر میں نے کہا کہ میں آسیہ بی بی سے درخواست کرتا ہوں‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 06 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090642</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Nov 2018 11:08:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be11a070c3ea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be11a070c3ea.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
