<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:06:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:06:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیہ بی بی کی بریت کےخلاف ہنگامہ آرائی، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090700/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج، دھرنوں اور ہنگامہ آرائی سے ملک بھر میں عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے بتایا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو 3 روز کے اندر جان و مال سے متعلق نقصانات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090241"&gt;آسیہ بی بی کی بریت کےخلاف مذہبی جماعتوں کااحتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی جانب فیصلہ آنے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج شروع کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکوں کو بلاک کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے، جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج کے دوران ’عوامی املاک اور جانوں کے نقصان‘ پر نوٹس لیا تاکہ متاثرین کی قیمتی اشیاء اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471"&gt;جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں عوامی املاک اور جانی نقصان سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد نوٹس لیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 30 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے مابین مذاکرات طے پائے جس کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت نے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فریقین کے مابین 5 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت وفاقی حکومت آسیہ بی بی کے خلاف دائر اپیل پر اعتراض نہیں اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر تحریک لبیک آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مزید شہادتیں لاتی ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی میں شامل کیا جائےگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431"&gt;حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاہدے کے مطابق 30 اکتوبر کے بعد احتجاج میں گرفتار ہونے والے تمام افرادکو رہا کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحریک لیبک نے عوام کو پیش آنے والی پریشانی اور مشکلات پر معذرت کی تھی تاہم دھرنے اور احتجاج کے دوران نجی یا سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج، دھرنوں اور ہنگامہ آرائی سے ملک بھر میں عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ </p>

<p>اس حوالے سے بتایا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو 3 روز کے اندر جان و مال سے متعلق نقصانات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090241">آسیہ بی بی کی بریت کےخلاف مذہبی جماعتوں کااحتجاج</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>

<p>سپریم کورٹ کی جانب فیصلہ آنے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج شروع کردیا گیا تھا۔</p>

<p>احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکوں کو بلاک کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے، جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا تھا۔</p>

<p>چیف جسٹس نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج کے دوران ’عوامی املاک اور جانوں کے نقصان‘ پر نوٹس لیا تاکہ متاثرین کی قیمتی اشیاء اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471">جان کو خطرہ، آسیہ بی بی کے وکیل ملک چھوڑ گئے</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں عوامی املاک اور جانی نقصان سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد نوٹس لیا۔ </p>

<p>خیال رہے کہ 30 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے مابین مذاکرات طے پائے جس کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت نے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔</p>

<p>فریقین کے مابین 5 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت وفاقی حکومت آسیہ بی بی کے خلاف دائر اپیل پر اعتراض نہیں اٹھائے گی۔</p>

<p>معاہدے کے مطابق آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔</p>

<p>اگر تحریک لبیک آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مزید شہادتیں لاتی ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی میں شامل کیا جائےگا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431">حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان</a></strong></p>

<p>معاہدے کے مطابق 30 اکتوبر کے بعد احتجاج میں گرفتار ہونے والے تمام افرادکو رہا کیا جائے گا۔</p>

<p>تحریک لیبک نے عوام کو پیش آنے والی پریشانی اور مشکلات پر معذرت کی تھی تاہم دھرنے اور احتجاج کے دوران نجی یا سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090700</guid>
      <pubDate>Tue, 06 Nov 2018 23:41:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be1d71af117f.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be1d71af117f.png"/>
        <media:title>—فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
