<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:08:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:08:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں صداقت نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090786/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: آسیہ بی بی کی ملتان جیل سے رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ  نے بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر محمد فیصل کا صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1444331/aasia-bibi-freed-from-multan-jail-flown-to-islamabad"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کوٹ کے 31 اکتوبر کے فیصلے کی روشنی میں سزائے موت معطل اور رہائی پانی والی آسیہ بی بی کو ملتان کی خواتین جیل سے رہا ہو نے کے بعد خصوصی طیارے میں اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کو باوثوق ذرائع سے علم ہوا کہ آسیہ بی بی، جن کی توہینِ مذہب کے الزامات سے رہائی کے فیصلے سے ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کا احتجاج شروع ہوگیا تھا، کو  لے جانے والا طیارہ نور خان ایئر بیس سے ملحقہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترا تھا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایئرپورٹ پر اترتے ہی آسیہ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، حکام  نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آمدو رفت کے تمام معاملات کو خفیہ رکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/"&gt;سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو ملک میں ہی رکھا جائے گا یا بیرونِ ملک روانہ کردیا جائے گا معاملے کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے حکام اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ دو روز قبل اٹلی کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090711/"&gt;پاکستان سے نکلنے میں آسیہ بی بی کی مدد کریں گے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیوں کہ توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ سے 8 سال تک جیل میں رہنے والی مسیحی خاتون کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسیہ بی بی کے شوہرکا کہنا تھا کہ انہیں فیصلے کی مخالفت کرنے والے افراد کی جانب سے قتل کیا جاسکتا ہے، اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر ہوچکی ہے اسلیے امکان ہے کہ  خاتون کوبیرونِ ملک جانے نہ دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090680"&gt;آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ عدالت کرے گی، وزیر مذہبی امور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں بین الاقوامی  کیتھولک ایجنسی ’ایڈ ٹو چرچ ان نیڈ‘ (اے سی این) نے عاشق مسیح سے فون پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے پاکستان سے باہر جانے میں معاونت کے لیے اطالوی حکومت سے مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسیہ بی بی کے شوہر کا کہنا  تھا کہ ’ہمیں پاکستان میں اپنی زندگیوں کے حوالے سے خطرات لاحق ہیں ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہوچکی ہیں جنہیں ہم لینے باہر بھی نہیں جاسکتے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ مقدمے کے باعث ’ویٹی کن‘ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں مثلاً اے سی این نے ان ممالک میں مسیحی افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090334/"&gt;آسیہ بی بی کی بریت، فیصلے کے 7 اہم ترین نکات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) نے تمام بڑے شہروں کی سڑکیں بلاک کر کے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090241"&gt;3 دن تک احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا تھا اور اس دوران فیصلہ دینے والے ججز، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی سخت مذمت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ٹی ایل پی نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/"&gt;حکومت کے ساتھ ایک معاہدے طے پانے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر احتجاج ختم کردیا تھا جس میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آسیہ بی بی کو بیرونِ ملک جانے سے روکا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ آسیہ بی بی کے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471"&gt;وکیل سیف الملوک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کچھ دن قبل اپنی حفاظت کے پیشِ نظر نیدرلینڈ جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ روز آسیہ بی بی رہائی کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جہاز میں ہیں لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کے جہاز کہاں اترے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 8 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: آسیہ بی بی کی ملتان جیل سے رہائی کے بعد ملک چھوڑنے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ  نے بتایا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔</p>

<p>ڈاکٹر محمد فیصل کا صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کی بیرونِ ملک روانگی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔</p>

<p>قبل ازیں ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1444331/aasia-bibi-freed-from-multan-jail-flown-to-islamabad">رپورٹ</a></strong> میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کوٹ کے 31 اکتوبر کے فیصلے کی روشنی میں سزائے موت معطل اور رہائی پانی والی آسیہ بی بی کو ملتان کی خواتین جیل سے رہا ہو نے کے بعد خصوصی طیارے میں اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔</p>

<p>ڈان کو باوثوق ذرائع سے علم ہوا کہ آسیہ بی بی، جن کی توہینِ مذہب کے الزامات سے رہائی کے فیصلے سے ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کا احتجاج شروع ہوگیا تھا، کو  لے جانے والا طیارہ نور خان ایئر بیس سے ملحقہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترا تھا۔  </p>

<p>ایئرپورٹ پر اترتے ہی آسیہ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، حکام  نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آمدو رفت کے تمام معاملات کو خفیہ رکھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/">سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا</a></strong></p>

<p>رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو ملک میں ہی رکھا جائے گا یا بیرونِ ملک روانہ کردیا جائے گا معاملے کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے حکام اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ دو روز قبل اٹلی کی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090711/">پاکستان سے نکلنے میں آسیہ بی بی کی مدد کریں گے</a></strong> کیوں کہ توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ سے 8 سال تک جیل میں رہنے والی مسیحی خاتون کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔</p>

<p>آسیہ بی بی کے شوہرکا کہنا تھا کہ انہیں فیصلے کی مخالفت کرنے والے افراد کی جانب سے قتل کیا جاسکتا ہے، اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر ہوچکی ہے اسلیے امکان ہے کہ  خاتون کوبیرونِ ملک جانے نہ دیا جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090680">آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ عدالت کرے گی، وزیر مذہبی امور</a></strong></p>

<p>قبل ازیں بین الاقوامی  کیتھولک ایجنسی ’ایڈ ٹو چرچ ان نیڈ‘ (اے سی این) نے عاشق مسیح سے فون پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے پاکستان سے باہر جانے میں معاونت کے لیے اطالوی حکومت سے مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>

<p>آسیہ بی بی کے شوہر کا کہنا  تھا کہ ’ہمیں پاکستان میں اپنی زندگیوں کے حوالے سے خطرات لاحق ہیں ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیا ختم ہوچکی ہیں جنہیں ہم لینے باہر بھی نہیں جاسکتے‘۔</p>

<p>مذکورہ مقدمے کے باعث ’ویٹی کن‘ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں مثلاً اے سی این نے ان ممالک میں مسیحی افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090334/">آسیہ بی بی کی بریت، فیصلے کے 7 اہم ترین نکات</a></strong> </p>

<p>یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) نے تمام بڑے شہروں کی سڑکیں بلاک کر کے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090241">3 دن تک احتجاج</a></strong> کیا تھا اور اس دوران فیصلہ دینے والے ججز، وزیر اعظم اور آرمی چیف کی سخت مذمت کی گئی تھی۔</p>

<p>بعد ازاں ٹی ایل پی نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090431/">حکومت کے ساتھ ایک معاہدے طے پانے</a></strong> پر احتجاج ختم کردیا تھا جس میں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آسیہ بی بی کو بیرونِ ملک جانے سے روکا جائے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ آسیہ بی بی کے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090471">وکیل سیف الملوک</a></strong> کچھ دن قبل اپنی حفاظت کے پیشِ نظر نیدرلینڈ جاچکے ہیں۔</p>

<p>گزشتہ روز آسیہ بی بی رہائی کی اطلاعات کے بعد بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جہاز میں ہیں لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کے جہاز کہاں اترے گا۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 8 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090786</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Nov 2018 17:40:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغرنوید صدیقیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be3c55960c13.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be3c55960c13.gif?0.4680346363559309"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
