<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 17:45:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 17:45:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بینکنگ فراڈ: ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک حکام کی رائے میں اختلاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1090859/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے ملک میں بڑے پیمانے پر بینکنگ نظام کو درپیش خطرات کے حوالے سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1444485/fia-takes-up-banking-fraud-hacking-with-sbp"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق اس سلسلے میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور حال ہی میں سامنے آنے والے دھوکہ دہی کے واقعات پر گفتگو کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے حکام کو ایک ہزار 5 سو 76 شکایات کی تفصیلات فراہم کی گئیں، ملاقات میں ایف آئی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090513"&gt;سائبر حملے کا معاملہ: 10بینکوں نے بین الاقوامی ٹرانزیکشن روک دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ملک میں ہونے والے بینکنگ فراڈ کے حوالے سے دونوں اداروں کے عہدیداروں کے موقف میں واضح فرق تھا، ملاقات میں ایف آئی کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کمانڈر (ر) محمد شعیب بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ایف آئی کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ اکاؤنٹس سے رقم چوری ہونے کے معاملے پر بینک الاسلامی نے باضابطہ طور پر کراچی میں ایف آئی اے کے دفتر میں شکایت درج کروائی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر ایف آئی  اے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سائبر مجرموں کی جانب سے حملوں کے باعث ملک میں موجود تقریباً تمام ہی بینکوں کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے جس سے تمام اکاؤنٹس کو  خطرہ ہے اس کے لیے انہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات پر زور دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090653"&gt;دھوکا دہی سے پینشنر کے بینک اکاؤنٹ سے 30 لاکھ روپے نکالے جانے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسا کہ ایس بی پی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بینکنگ کے نظام میں خطرات موجود ہیں کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اس سلسلے میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم آئندہ ہفتے کراچی آئے گی اور بینکنگ شعبے کے سربراہان سے ملاقات کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں ایک ایف آئی اے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ عوام کے ہیک ہونے والے اکاؤنٹس کی معلومات کی وجہ سے دونوں اداروں کے موقف میں فرق ہے، کیوں کہ بینکنگ نظام کی بنیاد ہی رازداری پر ہے، لیکن ہم کہیں گے کہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کچھ بھی پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں اس لیے بہتر ہے کہ وارننگ جاری کی جائے، ان کا کہنا تھا بینک کو اپنا حفاظتی نظام بہتر بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھر اسٹیٹ بینک کے عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دھوکہ دہی، فراڈ، اور سائبر حملے 3 مختلف چیزیں ہیں ،یہاں معاملہ دھوکہ دہی اور بینکنگ فراڈ کا ہے لیکن لازمی نہیں کہ یہ سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا ہو، ملک میں بینکنگ کا شعبہ محفوظ ہے اور بینکنگ نظام پر بہت زیادہ سائبر حملے نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090791"&gt;آن لائن بینکنگ فراڈ: 15ملزمان گرفتار، متاثرین میں ’تعلیم یافتہ‘ افراد بھی شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات بھرپور میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا کی دستیابی کے باعث منظر عام پر آگئے لیکن لازمی نہیں کہ ان سب کا تعلق بینکنگ فراڈ سے ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح لوگوں کو جعلی کالز بھی موصول ہوتی ہیں جس میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی دھوکہ دہی میں ملوث ہے، لیکن پھر بھی اسٹیٹ بینک نے ایف آئی اے کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنے اور درج کروائی جانے والی شکایات کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے ملک میں بڑے پیمانے پر بینکنگ نظام کو درپیش خطرات کے حوالے سے ملاقات کی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1444485/fia-takes-up-banking-fraud-hacking-with-sbp">رپورٹ</a></strong> کے مطابق اس سلسلے میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور حال ہی میں سامنے آنے والے دھوکہ دہی کے واقعات پر گفتگو کی۔</p>

<p>اس موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے حکام کو ایک ہزار 5 سو 76 شکایات کی تفصیلات فراہم کی گئیں، ملاقات میں ایف آئی ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090513">سائبر حملے کا معاملہ: 10بینکوں نے بین الاقوامی ٹرانزیکشن روک دی</a></strong></p>

<p>ذرائع کے مطابق ملک میں ہونے والے بینکنگ فراڈ کے حوالے سے دونوں اداروں کے عہدیداروں کے موقف میں واضح فرق تھا، ملاقات میں ایف آئی کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کمانڈر (ر) محمد شعیب بھی موجود تھے۔</p>

<p>دوسری جانب ایف آئی کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ اکاؤنٹس سے رقم چوری ہونے کے معاملے پر بینک الاسلامی نے باضابطہ طور پر کراچی میں ایف آئی اے کے دفتر میں شکایت درج کروائی ہے۔</p>

<p>جس پر ایف آئی  اے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سائبر مجرموں کی جانب سے حملوں کے باعث ملک میں موجود تقریباً تمام ہی بینکوں کا ڈیٹا متاثر ہوا ہے جس سے تمام اکاؤنٹس کو  خطرہ ہے اس کے لیے انہوں نے معاملے کی فوری تحقیقات پر زور دیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090653">دھوکا دہی سے پینشنر کے بینک اکاؤنٹ سے 30 لاکھ روپے نکالے جانے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>جیسا کہ ایس بی پی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بینکنگ کے نظام میں خطرات موجود ہیں کیونکہ ڈیجیٹل بینکنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، اس سلسلے میں ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم آئندہ ہفتے کراچی آئے گی اور بینکنگ شعبے کے سربراہان سے ملاقات کرے گی۔</p>

<p>اس ضمن میں ایک ایف آئی اے عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ عوام کے ہیک ہونے والے اکاؤنٹس کی معلومات کی وجہ سے دونوں اداروں کے موقف میں فرق ہے، کیوں کہ بینکنگ نظام کی بنیاد ہی رازداری پر ہے، لیکن ہم کہیں گے کہ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں کچھ بھی پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں اس لیے بہتر ہے کہ وارننگ جاری کی جائے، ان کا کہنا تھا بینک کو اپنا حفاظتی نظام بہتر بنانا چاہیے۔</p>

<p>ادھر اسٹیٹ بینک کے عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دھوکہ دہی، فراڈ، اور سائبر حملے 3 مختلف چیزیں ہیں ،یہاں معاملہ دھوکہ دہی اور بینکنگ فراڈ کا ہے لیکن لازمی نہیں کہ یہ سائبر حملوں کے ذریعے کیا گیا ہو، ملک میں بینکنگ کا شعبہ محفوظ ہے اور بینکنگ نظام پر بہت زیادہ سائبر حملے نہیں کیے گئے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090791">آن لائن بینکنگ فراڈ: 15ملزمان گرفتار، متاثرین میں ’تعلیم یافتہ‘ افراد بھی شامل</a></strong></p>

<p>تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات بھرپور میڈیا کوریج اور سوشل میڈیا کی دستیابی کے باعث منظر عام پر آگئے لیکن لازمی نہیں کہ ان سب کا تعلق بینکنگ فراڈ سے ہو۔</p>

<p>اسی طرح لوگوں کو جعلی کالز بھی موصول ہوتی ہیں جس میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کمپنی دھوکہ دہی میں ملوث ہے، لیکن پھر بھی اسٹیٹ بینک نے ایف آئی اے کے ساتھ مل کر اس معاملے کو حل کرنے اور درج کروائی جانے والی شکایات کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1090859</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Nov 2018 09:55:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be4fe2947e78.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be4fe2947e78.jpg?0.09951083093710755"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
