<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:55:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:55:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی آنگ سان سوچی سے ایوارڈ واپس لے لیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091153/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومتی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج کی جانب سے نسل کشی کی کارروائی پر ‘خاموش’ رہنے پر اپنے اعلیٰ ترین سفارتی ایوارڈ کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ انہوں نے آنگ سان سوچی کو 2009 میں اس وقت ‘ایمبیسڈر آف کونسائنس ایوارڈ’ سے نوازا تھا جب وہ نظر بند تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کومی نائیڈو نے آنگ سان سوچی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ‘آج ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں آپ امید، ہمت اور انسانی حقوق کی مضبوط محافظ نہیں رہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل آپ کو ایمبیسڈر آف کونسائنس ایوارڈ کا حق دار تصور کرنے کی وضاحت نہیں کرسکتی اس لیے ہم بڑے افسوس کے ساتھ اس کو واپس لے رہے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090901/"&gt;’روہنگیا مسلمان، میانمار میں واپسی سے خوفزدہ‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ آنگ سان سوچی اور اس کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے 2015 کے انتخابات میں ملک میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک میں دہائیوں سے جاری فوجی حکمرانی کا خاتمہ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آنگ سان سوچی کے دورحکمرانی میں گزشتہ برس ایسا موڈ آیا جب فوج نے ریاست راخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کش کارروائیوں کا آغاز کردیا اور وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اس کے خلاف کوئی  قدم اٹھانے سے قاصر رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی جانب سے ان کارروائی کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089807"&gt;میانمار میں روہنگیا نسل کشی اب بھی جاری ہے، اقوام متحدہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میانمار کی 73 سالہ رہنما آنگ سان سوچی سے ریاست رخائن میں ہونے والے انھی فسادات کے باعث گزشتہ ماہ ہی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088308"&gt;&lt;strong&gt;کینیڈا کی حکومت نے اعزازی شہریت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; واپس لے لی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیڈین پارلیمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے پیشِ نظر میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی کی اعزازی شہریت واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں کینیڈین سینیٹ کی جانب سے بھی سوچی کی شہریت واپس لینے کے لیے ووٹنگ کے بعد اس فیصلے کی حتمی توثیق  کردی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیڈا نے 2007 میں آنگ سان سوچی کو اعزازی شہریت سے نوازا تھا جہاں وہ دنیا کی محض ان 6 شخصیات میں شامل تھی جنہیں یہ اعزازی شہریت حاصل ہے جن میں دلائی لامہ، نیلسن منڈیلا اور پاکستان کی طالبہ ملالہ یوسف زئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آنگ سانگ سوچی کو اس کے علاوہ خطے اور دنیا بھر کی جامعات اور حکومتوں کی جانب سے نوازے گئے دیگر کئی چھوٹے بڑے ایوارڈز بھی واپس لیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آنگ سان سوچی کو اپنے ملک میں فوجی آمریت کے خلاف کھڑے ہونے پر عالمی طور پر فریڈم فائٹر کے طور پر جانا جاتا تھا جنہوں نے 15 برس نظر بندی کاٹی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085736"&gt;’مسلمانوں کی نسل کشی پرمیانمار فوج کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہیں 1991 میں عالمی نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا تھا تاہم نوبل انسٹیٹوٹ کے سربراہ اولاو نجولسٹیڈ نے ان سے ایوارڈ واپس لینے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ایک بار کسی کو نوبل انعام دے دیا جائے تو اسے واپس لینا ممکن نہیں ہوتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;راخائن میں گزشتہ برس اگست میں شروع ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 7 لاکھ 20 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو اپنا گھربار چھوڑ کر بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنا پڑا تھا جہاں وہ مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوجی کارروائیوں کے دوران کئی افراد کو تشدد کانشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا جبکہ کئی خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روہنگیا مسلمانوں نے میانمار کی حکومت کی جانب سے ان کی واپسی کے اعلان پر خوف کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی حکومتی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج کی جانب سے نسل کشی کی کارروائی پر ‘خاموش’ رہنے پر اپنے اعلیٰ ترین سفارتی ایوارڈ کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔</p>

<p>اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ انہوں نے آنگ سان سوچی کو 2009 میں اس وقت ‘ایمبیسڈر آف کونسائنس ایوارڈ’ سے نوازا تھا جب وہ نظر بند تھیں۔</p>

<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ کومی نائیڈو نے آنگ سان سوچی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ‘آج ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں آپ امید، ہمت اور انسانی حقوق کی مضبوط محافظ نہیں رہیں’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل آپ کو ایمبیسڈر آف کونسائنس ایوارڈ کا حق دار تصور کرنے کی وضاحت نہیں کرسکتی اس لیے ہم بڑے افسوس کے ساتھ اس کو واپس لے رہے ہیں’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090901/">’روہنگیا مسلمان، میانمار میں واپسی سے خوفزدہ‘</a></strong></p>

<p>یاد رہے کہ آنگ سان سوچی اور اس کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے 2015 کے انتخابات میں ملک میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک میں دہائیوں سے جاری فوجی حکمرانی کا خاتمہ کردیا تھا۔</p>

<p>آنگ سان سوچی کے دورحکمرانی میں گزشتہ برس ایسا موڈ آیا جب فوج نے ریاست راخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کش کارروائیوں کا آغاز کردیا اور وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اس کے خلاف کوئی  قدم اٹھانے سے قاصر رہیں۔</p>

<p>اقوام متحدہ کی جانب سے ان کارروائی کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089807">میانمار میں روہنگیا نسل کشی اب بھی جاری ہے، اقوام متحدہ</a></strong></p>

<p>میانمار کی 73 سالہ رہنما آنگ سان سوچی سے ریاست رخائن میں ہونے والے انھی فسادات کے باعث گزشتہ ماہ ہی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088308"><strong>کینیڈا کی حکومت نے اعزازی شہریت</strong></a> واپس لے لی تھی۔</p>

<p>کینیڈین پارلیمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے پیشِ نظر میانمار کی حکمران آنگ سان سوچی کی اعزازی شہریت واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں کینیڈین سینیٹ کی جانب سے بھی سوچی کی شہریت واپس لینے کے لیے ووٹنگ کے بعد اس فیصلے کی حتمی توثیق  کردی تھی۔</p>

<p>کینیڈا نے 2007 میں آنگ سان سوچی کو اعزازی شہریت سے نوازا تھا جہاں وہ دنیا کی محض ان 6 شخصیات میں شامل تھی جنہیں یہ اعزازی شہریت حاصل ہے جن میں دلائی لامہ، نیلسن منڈیلا اور پاکستان کی طالبہ ملالہ یوسف زئی ہیں۔</p>

<p>آنگ سانگ سوچی کو اس کے علاوہ خطے اور دنیا بھر کی جامعات اور حکومتوں کی جانب سے نوازے گئے دیگر کئی چھوٹے بڑے ایوارڈز بھی واپس لیے گئے تھے۔</p>

<p>آنگ سان سوچی کو اپنے ملک میں فوجی آمریت کے خلاف کھڑے ہونے پر عالمی طور پر فریڈم فائٹر کے طور پر جانا جاتا تھا جنہوں نے 15 برس نظر بندی کاٹی تھی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085736">’مسلمانوں کی نسل کشی پرمیانمار فوج کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں‘</a></strong></p>

<p>انہیں 1991 میں عالمی نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا تھا تاہم نوبل انسٹیٹوٹ کے سربراہ اولاو نجولسٹیڈ نے ان سے ایوارڈ واپس لینے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ایک بار کسی کو نوبل انعام دے دیا جائے تو اسے واپس لینا ممکن نہیں ہوتا۔ </p>

<p>راخائن میں گزشتہ برس اگست میں شروع ہونے والے فسادات کے نتیجے میں 7 لاکھ 20 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو اپنا گھربار چھوڑ کر بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنا پڑا تھا جہاں وہ مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔</p>

<p>فوجی کارروائیوں کے دوران کئی افراد کو تشدد کانشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا جبکہ کئی خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی۔</p>

<p>روہنگیا مسلمانوں نے میانمار کی حکومت کی جانب سے ان کی واپسی کے اعلان پر خوف کا اظہار کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091153</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Nov 2018 00:40:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5be9d10ed5966.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5be9d10ed5966.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
